اسلام آباد (خبر نگار + ریڈیو نیوز + وقت نیوز + ایجنسیاں) پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس گذشتہ روز چیئرمین پی اے سی چودھری نثار علی خان کی صدارت میں ہوا‘ اجلاس میں چودھری نثار نے وزارت دفاع کو ہدایت کی کہ مختلف مدوں میں قواعد کی خلاف ورزیوں کو روکا جائے اور ایک ماہ کے اندر آڈٹ اعتراضات دور کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بی بی شہید بھی پی اے سی میں پیش ہوئیں‘ بھارت میں آرمی چیف بھی پیش ہوئے‘ ہم تو دنیا میں کچھ نہیں کر رہے حسابات کی جانج پڑتال کے حوالے سے بھارتی فوج کے سربراہ کی پی اے سی میں طلبی سے سبق سیکھا جائے‘ سیکرٹری دفاع آڈٹ اعتراضات سے متعلق ماتحت اداروں سے تفصیلات حاصل نہیں کر سکتے تو حکومت سے اپنے عہدے کے حوالے سے معذرت کر لیں‘ اکاونٹس کمیٹی نے قومی ایئر لائن پی آئی اے اور ترکش ایئر لائن کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر تحفظات کا اظہار کیا۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے اجلاس میں وزارت دفاع کی آڈٹ رپورٹ 2008-09ءکا جائزہ لیا گیا۔ چودھری نثار نے سیکرٹری دفاع پر برہمی کا اظہار کرتے کہا کہ آڈٹ پر کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا جہاں جس کی مرضی ہوتی ہے عمارت کھڑی کر دی جاتی ہے۔ سیکرٹری دفاع نے موقف اختیار کیا کہ ایسے آڈٹ پر سخت اعتراض ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ فوج کھربوں روپے کھا گئی۔ آڈٹ اعتراضات میں کہا گیا کہ وزارت دفاع سے متعلق رپورٹ میں اراضی کے کمرشل استعمال میں 1.2 کھرب روپے کی بے ضابطگی ہوئی۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ مصحف میر بیس کی زرعی زمین کے ٹھیکے سے 78 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع نہیں ہوئے قواعد ہیں کہ گھاس کٹائی کی آمدنی بھی بغیر منظوری رجمنٹل فنڈز میں نہیں جا سکتی۔ پی اے سی نے مصحف بیس کی آمدنی کا معاملہ محکمہ آڈٹ کو واپس بھجوا دیا۔ آڈٹ نے پی اے سی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ این ایل سی کو گوجرانوالہ میں فوج کی 107 ایکڑ سے زائد اے ون لینڈ خلاف ضابطہ دی گئی تھی۔ اجلاس میں خصوصی طور پر سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سید اطہر علی اور وزارت دفاع کے متعلقہ حکام پیش ہوئے اس کے علاوہ آڈٹ حکام بھی موجود تھے۔ وزارت دفاع کو ہدایت کی گئی ہے کہ حکومت جو بھی فیصلہ کرے پی اے سی سیکرٹریٹ کو اس سے آگاہ کیا جائے۔ مشرف کا دور نہیں کہ یہ کہیں کہ کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔ یاسمین رحمن نے کہا کہ عملدرآمد کے حوالے سے وزارت دفاع سے کافی مایوسی ہوئی ہے۔ چودھری نثار نے کہا کہ بدقسمتی سے ایک ہاوسنگ سکیم کو بڑے گروپ نے لیز پر لے رکھا ہے۔ چودھری نثار نے کہا وزارت دفاع غلط لوگوں کو پکڑنے میں ہماری مدد کرے ورنہ وزارت کی اس طرح کی کارکردگی ناقابل قبول ہے۔ سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو پی اے سی میں پیش ہو چکی ہیں۔ بھارت میں پی اے سی‘ چیف آف آرمی سٹاف کو طلب کر چکی ہے۔ دو گھنٹے وہ اجلاس میں بیٹھے رہے‘ وزارت دفاع بھارت سے سبق سیکھے۔ علاوہ ازیں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کےلئے قومی ایجنڈے پر عملدرآمد کیلئے حکومت کو ٹائم فریم مسلم لیگ (ن) کے 10 نکات کا حصہ ہے۔ حکمرانوں کو اس سے راہ فرار اختیار نہیں کرنے دیں گے۔ صدر زرداری کی پالیسی ”وعدے کرتے جاﺅ پھر مکر جاﺅ“ اب نہیں چلے گی‘ حکومت نے رویہ نہ بدلا تو محفوظ راستہ نہیں دیں گے۔ نوازشریف نے حکومت کو دس نکاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کےلئے 45 دنوں کا وقت دیا تھا اور اس ٹائم فریم کو وزیراعظم نے قبول کیا چنانچہ یہ ٹائم فریم ہمارے دس نکات کا حصہ ہے اس لئے حکومت اب لاکھ پیچھے ہٹنے کی کوشش کرے اسے ایسا نہیں کرنے دیں گے۔
Post New Comment