لاہور (سلمان غنی) مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف نے ملک کے مستقبل کو جمہوریت سے مشروط قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومتی کارکردگی پر تمام تر تحفظات کے باوجود جمہوریت‘ جمہوری عمل اور جمہوری اداروں کو نقصان نہیں پہنچنے دینگے۔ جمہوریت کی بنیاد پر بننے والے ملک میں استحکام‘ ترقی اور خوشحالی کا دارومدار بھی جمہوریت پر ہے اور حکومتی خراب کارکردگی کو بنیاد بناکر مایوسی کا اظہار کرنیوالے نہیں بلکہ عوام کے اندر امید اور آس برقرار رکھنے کے ساتھ حکومتوں کو ڈیلور کرنے‘ عوام کی امیدوں اور توقعات پر پورا اترنے کیلئے دباﺅ جاری رکھیں گے۔ وہ گزشتہ روز نوائے وقت سے خصوصی بات چیت کررہے تھے۔ نوازشریف نے کہا کہ قوموں اور ملکوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں‘ بحران بھی آتے ہیں اور مسائل بھی زور پکڑتے ہیں لیکن اس صورتحال کا سدباب ہمیشہ عزم اور اعتماد سے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔ بحران غیرجمہوری طرزعمل اور غیرجمہوری فورسز کے اقدامات کے باعث پیدا ہوئے۔ برسوں کی غیرجمہوری روش نے ملک کو اس نہج پر پہنچایا ہے۔ مہنگائی‘ بیروزگاری اور غربت آمرانہ دور کی پیداوار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جمہوریت کی ڈگر پر قائم رہتا تو نہ ملک ٹوٹتا اور نہ اقتصادی‘ معاشی اور سیاسی بحران پیدا ہوتے۔ بدقسمتی سے یہاں مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے منتخب حکومتوں کا تختہ الٹا جاتا رہا اور من مانیاں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں میں سمجھتا ہوں کہ سسٹم آئین‘ قانون کی بالادستی‘ عدلیہ‘ میڈیا کی آزادی اور جوابدہی کے عمل کا نام ہے لیکن کسی حکومت کی عدم کارکردگی کو جمہوریت کی ناکامی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ ہم ملک میں کرپشن‘ لوٹ مار‘ بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کی روش کے خاتمہ کیلئے قومی احتساب کا موثر نظام چاہتے ہیں۔ احتساب کا قابل اعتماد ادارہ ملک کو اس دلدل سے نکالنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی دولت لوٹنے والے قابل معافی نہیں۔ احتساب کا عمل ایک مسلسل عمل ہونا چاہئے۔ نوازشریف نے ایک سوال پر کہا کہ میں نہیں کہتا کہ حکومتوں کی کارکردگی بہت اچھی ہے لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ جمہوریت اور جمہوری عمل کو تقویت دیکر ہی تمام مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست‘ سیاست برائے اقتدار نہیں۔ ہم نے اپنی سیاست کو قومی مفادات‘ عوام کی حالت زار میں بہتری‘ اداروں کی مضبوطی‘ آئین و قانون‘ پارلیمنٹ کی بالادستی سے مشروط کررکھا ہے اور اسی کیلئے سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی بڑی محنت اور غوروخوض کے بعد سامنے آیا۔ کاش اس پر شروع سے عمل کیا جاتا تو آج یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ یہ آج بھی قابل عمل ہے۔
لاہور ( خبرنگار خصوصی +این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ملٹری آپریشن کی تحقیقات کےلئے عدالتی کمیشن کا قیام‘ امن وامان کےلئے پولیس کو ذمہ داریاں تفویض کرنا اور مری بگٹی کے قبائل کی بحالی اور معاوضہ کی ادائیگی پر فوری عمل کیا جا نا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی جنرل (ریٹائرڈ) عبدالقادر بلوچ سے اپنی رہائشگاہ رائےونڈ میں بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ملٹری ایکشن جس کے نتیجے میں اکبر بگٹی کو شہید کیا گیا۔ آئین توڑنے والوں اور بد عنوان عناصر کا محاسبہ نہیں ہوگا۔ اس وقت تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے کیونکہ یہ مسلم لیگ (ن) کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہیں اس لئے ہم جمہوریت کے استحکام، اداروں کی مضبوطی، آئین کی بالادستی، قانون کی عمل داری اور سوئس بنکوں سے پاکستانی دولت کی واپسی کےلئے اپنا بھر پور کردار ادا کرتے رہیں گے کیونکہ اسی میں ملک کی بقاءاور سلامتی ہے۔ بلوچستان کے عوام کے دیرینہ مسائل کا حل بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بلوچستان کے مسائل حل کرنے اور ملکی معیشت کو بحال کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے‘ نت نئے کرپشن سکینڈلز کے باعث لوگوں کا اعتماد کھو چکی ہے۔ نا اہلی، بے عملی اور دو عملی کے باعث ملکی وقار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ اکبر بگٹی کے قا تلوں کو سزا دلوانے اور بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھنے میں حکومت یکسر ناکام رہی ہے اور ایسے بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے قوم کو نت نئے مسائل میں الجھا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے سیاست میں اصولوں کو ہی اپنا شعار بنایا ہے اور اپنے ذاتی مفادات پر ہمیشہ قومی مفادات کو ترجیح دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے عدلیہ کی بحالی کے بعد عدلیہ کے وقار کی خاطر بھی بھر پور کردار ادا کیا اور حکومت کو مجبور ہوکر آئین اور قانون کے مطابق عمل کرنا پڑا۔ نوازشریف نے کہا کہ ملکی مفاد کو مد نظر رکھنا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے اور ہمیں پاکستان کے مسائل کے حل اور برائیوں کے خاتمے کےلئے جنگ کرنا ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے پاس اب ضائع کرنے کےلئے با لکل وقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم نے این آر او، کیری لوگر بل، قرضوں کی معافی اور عدلیہ کے وقار کی خاطر اصولی موقف اختیار کرکے حکمرانوںکو پسپا ہونے پر مجبور کیا۔ اسی طرح ہم آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے بھی جدوجہد جاری رکھیں گے اور بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے بھرپور آواز اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور ملک کو درپیش موجودہ مشکل صورتحال کا ایک سبب حکومت کا منفی رویہ ہے جو میثاق جمہوریت اور دوسرے تحریری یا زبانی وعدوں کے بارے میں اختیار کیا گیا۔ دو سال گزرنے کے باوجود پورا ملکی نظام پرویز مشرف کے مسخ کردہ آئین کے تحت چل رہا ہے یہاں تک کی میثاق جمہوریت میں طے کردہ آزاد احتسابی نظام کی طرف بھی پیشرفت نہیں کی گئی۔ 17 ویں ترمیم بدستور آئین کا حصہ ہے اور اسے ختم کرنے کے سادہ معاملے کو بھی وسیع تر آئینی اصلاحات کے پیچیدہ مسئلے سے جوڑ کر التواءمیں ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا مسلم لیگ (ن) محسوس کرتی ہے کہ حکومت پارلیمینٹ کی بالادستی، آئین کی 12 اکتوبر99 ءکی حالت میں بحالی، میثاق جمہوریت کے نفاذ، کرپشن کے خاتمے، میڈیا کی آزادی اور عوام کو درپیش مہنگائی جیسے مسائل کے بارے میں سنجیدگی اور یکسوئی کا مظاہرہ نہیں کررہی۔ موجودہ عدلیہ بحران بھی حکومت کی انہی غیر سنجیدہ رویوں کا نتیجہ ہے۔ ان حالات میں لازم ہے کہ حکومت اپنی ترجیحات کی از سر نو درجہ بندی کرے اور ان عوامل کا خاتمہ کرے جو ملک میں بے یقینی کا سبب بن رہے ہیں اور جن سے جمہوری نظام کیلئے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ بلوچستان کو عوام کے مسائل حل کرے جس سے ملک کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
Post New Comment