اسلام آباد (چودھری صداقت) حکومت نے صدر زرداری کے خلاف سوئس مقدمات بحال کرانے کے لئے سوئس عدالت کو لکھے جانے والے خط کا ڈرافٹ تیار کر لیا ہے جو ایک دو روز میں اٹارنی جنرل کو دیا جائے گا اور وہ اسے سوئس عدالت کو بھیج دیں گے‘ اٹارنی جنرل یہ خط حکومتی ہدایات آنے کے بعد بھیجیں گے‘ خط کا ڈرافٹ ایوان صدر میں ہونے والی پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد تیار کیا گیا ڈرافٹ کی تیاری میں اہم آئینی ماہرین کے علاوہ ایک سابق اعلٰی عدالتی شخصیت سے بھی مدد لی گئی‘ ذرائع کے مطابق ڈرافٹ کی تیاری میں شریک ماہرین نے صدر کو رائے دی تھی کہ مقدمات بحال ہونے سے ان کی صدارت کو کوئی خطرہ نہیں۔ ماہرین نے سوئس عدالت کے فیصلے کا آخری حصہ مثال کے طور پر پیش کیا جس میں لکھا گیا تھا کہ عدالت کو فراہم کردہ مواد میں ایسے ثبوت موجود نہیں جن کی بنا پر یہ فیصلہ دیا جا سکے کہ سوئس بنکوں میں موجود دولت آصف علی زرداری کی ہے آئینی ماہرین کے مطابق خط اٹارنی جنرل کی جانب سے بھیجا جانا ضروری ہے کیونکہ سوئس عدالت نیب پراسیکیوٹر کے لیٹر کو تسلیم نہیں کرتی۔ قبل ازیں جب مقدمہ واپس لیا گیا تھا تو خط اٹارنی جنرل ملک قیوم نے لکھا تھا‘ حکومت سوئس عدالت کو لکھے خط کے ساتھ سپریم کورٹ کا این آر او کے حوالہ سے فیصلہ نتھی کرے گی اور کہا جائے گا کہ پاکستانی سپریم کورٹ نے بند مقدمہ بحال کرنے کے احکامات دیئے ہیں جبکہ عدالت کو یہ بھی بتایا جائے گا کہ عالمی قوانین کے تحت صدر یا وزیراعظم کے خلاف فوجداری مقدمات عہدے پر موجود ہونے کے دوران نہیں چلائے جا سکتے انہیں اس حوالے سے موجود کنونشن آف ڈپلومیٹک کے تحت تحفظ حاصل ہے جبکہ پاکستانی آئین بھی انہیں یہ تحفظ فراہم کرتا ہے حکومت کو یقین ہے کہ سوئس عدالت مقدمہ بحال کرنے سے انکار کر دے گی کیونکہ عدالت اس سے پہلے کہہ چکی ہے کہ پہلے آپ مقدمہ اپنی عدالت میں ثابت کریں اور اس کی نقل ہمیں ارسال کریں اس صورت میں مقدمہ بحال ہو سکتا ہے۔
اسلام آباد (بی بی سی ڈاٹ کام + جی این آئی) اٹارنی جنرل اور صدارتی ترجمان نے مقامی ذرائع ابلاغ مےں آنے والی ان خبروں کی تردید کر دی ہے کہ صدر زرداری نے وزارت قانون کو ہدایت دی ہے کہ وہ سوئس عدالتوں مےں دائر کئے گئے مقدمات دوبارہ کھولنے کےلئے کارروائی کریں۔ واضح رہے جمعہ کی شب ججوں کی تقرری پر حکومت اور عدلیہ کے درمیان تنازع کے حوالے سے ایوان صدر مےں اجلاس ہوا میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر نے اس اجلاس مےں فیصلہ کیا تھا کہ سوموار کے روز وزارت داخلہ کو احکامات دے دیئے جائیں جس کے تحت وہ سوئس حکومت سے مقدمات دوبارہ کھولنے کی درخواست کرے گی۔ تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اٹارنی جنرل منصور احمد نے کہا کہ نہ تو وہ اس اجلاس مےں شامل تھے اور نہ ہی ان کو ایسی کوئی ہدایت ملی ہے۔ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے بھی اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں صدر اور اٹارنی جنرل کے درمیان ایسی ملاقات کا علم نہیں اور نہ ہی ایسے احکامات جاری ہوئے ہےں۔ جی این آئی کے مطابق وزیر اطلاعات و نشریات قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس مےں ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور آئندہ بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے پارٹی کی حکمت عملی پر بحث کی گئی۔ انہوں نے کہا اجلاس مےں صدر زرداری کے سوئس مقدمات کے بارے مےں کوئی بات نہیں کی گئی، صدر اور گورنر کو آئین کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔ جب ملک کے اندر صدر اور گورنر کے خلاف مقدمات نہیں چلائے جا سکتے تو پھر ملک سے باہر کس طرح مقدمات چلائے جاسکتے ہےں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا استثنیٰ کے متعلق کسی قسم کی وضاحت کےلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے کہا حکومت کسی بھی صورت عدلیہ سے نہ پہلے کبھی ٹکراﺅ چاہتی تھی اور نہ آئندہ کبھی حکومت کا عدلیہ سے کسی قسم کا تصادم یا تناﺅ کا ارادہ ہے۔ تاہم چند لوگوں نے افواہ سازی کا ”کارخانہ“ لگایا ہوا ہے جس سے وہ ہر وقت اداروں مےں تصادم کی افواہیں پھیلاتے رہتے ہےں۔
Post New Comment