مجید نظامی نے یہ بات ایوان کارکنان لاہور میں ضلع فیصل آباد، سیالکوٹ اور سرگودھا کے سکول پرنسپلز اور سینئر ہیڈماسٹرز کی بیسویں نظریاتی تربیتی ورکشاپ سے خطاب میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اپنے انجنیئرز کی مدد سے دریائے کابل میں پانی چھوڑ کر خیبر پختونخوا کو ڈبو دیا، اگر کالا باغ ڈیم بنایا ہوتا تو سیلاب سے اتنی تباہی نہ ہوتی۔ مجید نظامی نے کہا کہ اساتذہ کرام طلبہ کو دو قومی نظریے کی اہمیت، پاکستان کے حصول کی وجوہات اور تحریک پاکستان کے بارے میں بتائیں تاکہ نوجوان نسل کو دو قومی نظریے کے صحیح مفہوم کا پتہ چل سکے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک طلبہ کو دو قومی نظریے کا پتہ نہیں چلتا،اس وقت تک حصول پاکستان کے مقاصد پورے نہیں ہو سکتے۔ چئرمین نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے کہا کہ قیام پاکستان سے قبل مسلمان معاشی طور پر انتہائی پسماندہ تھے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ لاہور جیسے مسلم اکثریتی شہر میں مال روڈ پر مسلمانوں کی صرف دو عمارتیں تھیں جبکہ بقیہ تمام عمارتیں ہندووں کی ملکیت تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کی بدولت ہی پاکستانی قوم نے ترقی کی ہے وگرنہ وہ بھی بھارتی مسلمانوں کی طرح غلامی کی زندگی گزارتے اور پسماندہ رہ جاتے۔
Post New Comment