”بحالی کا عمل شفاف بنایا جائے“ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے قیام پر مسلم لیگ (ن) کے تحفظات

ـ 21 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (خبرنگار خصوصی) مسلم لیگ (ن) کے قومی کمیشن کی تشکیل کی بجائے ڈیراسٹر مینجمنٹ کونسل کی تشکیل پر تحفظات ہیں اور اسکا کہنا یہ ہے کہ نوازشریف کی جانب سے قومی کمیشن کی تشکیل قومی جذبہ، اتحاد و یکجہتی کی فضا مشترکہ فنڈز اور اسکے تحت بحالی کے عمل کیلئے تھی لیکن اب مینجمنٹ کونسل کا کردار صرف ایک نگران ادارے کے طور پر ہوگا لہٰذا اب دیکھنا ہوگا کہ اس کا دائرہ کار کیا ہے اور نگرانی کا ذمہ دار کسے بنایا جاتا ہے جس پر مسلم لیگ (ن) اپنا موقف ظاہر کریگی۔ مسلم لیگ (ن) کے ترجمان سابق وفاقی وزیر چودھری احسن اقبال نے کہا کہ کاش حکومت نوازشریف کی تجویز کا فائدہ اٹھاتی اور اس سے ملک بھر میں ایسی فضا طاری ہوتی کہ سیلاب کے متاثرین کی مدد کا عمل موثر بنتا۔ بحالی کے عمل میں شفاف پیشرفت ممکن نہیں لیکن نہ جانے کیوں ایک قومی کمشن کی بجائے محض مانیٹرنگ سسٹم قائم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی مصیبت کا سامنا ایک قوم، قومی جذبہ، مشترکہ فنڈز اور متفقہ حکمت عملی سے ہوسکتا تھا اور قومی کمشن کے تحت لائحہ عمل میں قوم کی تائید و حمایت اسے حاصل ہوتی۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ اب بھی حکومت کو چاہئے کہ اس حوالہ سے زیادہ ذمہ دارانہ کردار اور طرزعمل اختیار کرے اور بحالی کے عمل کو صوبوں کے ذریعے بروئے کار لایا جائے اور جتنا جتنا نقصان ہوا اتنی اتنی مدد صوبوں کو دی جائے اور خصوصاً بحالی کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے اقدامات کرے کیونکہ عوام کا حکومت اور اداروں پر اعتماد کے حوالہ سے کوئی دو آراءنہیں۔ مینجمنٹ کا بحران بھی قومی کمشن سے دور کیا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب مینجمنٹ کونسل کا اعلان ہورہا ہے اور دوسری جانب ملتان کے اندر کیبنٹ ڈویژن کے ذمہ داران کی سربراہی میں وفاقی حکومت نے ازخود کام شروع کردیا ہے۔ یہ صوبائی حکومت پر عدم اعتماد ہے لہٰذا وفاقی حکومت کو صوبوں پر اعتماد کرنا چاہئے اور خصوصاً وزیراعظم صاحب کو ایسے اقدامات نہیں کرنا چاہئیں جس سے صوبوں میں وفاق کے حوالہ سے بداعتمادی کی فضا پیدا ہو۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کی بیرونی قرضوں کے حصول کی پالیسی پاکستان کو میگا قرضے کے سیلاب میں ڈبو دے گی۔ قومی سلامتی کا انحصار انہی قرضوں پر ہوتا ہے،آئین کے تحت حکومت جی ڈی پی کے ساٹھ فیصد سے زائد قرضے نہیں لے سکتی جبکہ یہ حد حکومت پہلے ہی عبور کر چکی ہے مزید قرضوں کیلئے حکومت کو اسمبلی سے منظوری حاصل کرنا ہو گی۔ حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ قومی اسمبلی کی منظوری کے بغیر کوئی نیا بیرونی قرضہ نہ لے، حکومتی کرپشن اور اعتماد کے فقدان کے باعث اندرونی و بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کر رہے، جنرل مشرف نے بلوچستان کو جو زخم دیئے ان پر جمہوریت کا مرہم رکھ کر انہیں مندمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قومی کمیشن پر وزیراعظم نے مکمل اتفاق کیا تھا لیکن پتہ نہیں راتوں رات انہیں کیا ہو گیا۔
مسلم لیگ (ن)

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions