پنجاب اسمبلی : ذوالفقار کھوسہ اور مونس الہی میں شدید جھڑپ

ـ 20 جون ، 2009
  • Adjust Font Size

لاہور (خصوصی رپورٹر + نیوز رپورٹر + لیڈی رپورٹر) پنجاب اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران سینئر مشیر ذوالفقار کھوسہ اور (ق) لیگ کے مونس الٰہی کے درمیان شدید جھڑپ ہو گئی‘ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر خفیہ طور پر مفادات اٹھانے کے انکشافات کئے گئے‘ فارورڈ بلاک نے چودھری ظہیر الدین کو اپوزیشن لیڈر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا‘ دونوں طرف سے لوٹا لوٹا کے نعرے بھی لگائے گئے۔ قبل ازیں اجلاس کورم کی نشاندہی پر آدھے گھنٹے کے لئے مؤخر ہوا لیکن آدھے کے بجائے ڈیڑھ گھنٹے بعد شروع ہوا تو اپوزیشن نے احتجاج کیا اور سپیکر سے اس معاملے پر رولنگ کا مطالبہ کیا۔ دریں اثناء پیپلز پارٹی کی خواتین ارکان اور (ق) لیگ کی ثمینہ خاور حیات میں بدمزگی کے واقعہ پر پیپلز پارٹی کی طرف سے معذرت پر ثمینہ خاور نے اپنی تحریک استحقاق واپس لے لی۔ ثناء نیوز کے مطابق اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن لیڈر ظہیر الدین بجٹ پر بحث کے لئے کھڑے ہوئے تو یونیفکیشن بلاک کے اعجاز شفیع نے اعتراض اٹھایا کہ چودھری ظہیر اکثریتی ارکان کی حمایت کھو چکے‘ انہیں بجٹ پر بحث کا آغاز کرنے کا حق نہیں۔ اس دوران (ق) لیگ کی خواتین نے ڈیسک بجانے اور لوٹا لوٹا کے نعرے لگانا شروع کر دیئے۔ اس موقع پر ذوالفقار کھوسہ نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ق) کی صفوں میں اتحاد نہیں رہا اور اکثریتی ارکان نے اپنا الگ گروپ بنا لیا ہے تو یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے یہ دراصل ان کا مینوفیکچرنگ نقص ہے۔ ہم لوٹا ازم کی بھرپور مذمت اور مخالفت کرتے ہیں۔ مونس الٰہی نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ ذوالفقار کھوسہ کو وہ دور نہیں بھولنا چاہئے جب وہ شریف برادران کی جلاوطنی کے دوران میرے والد پرویز الٰہی کے پاس آتے اور اپنے تحصیل ناظم بیٹے سمیت مختلف امور پر بات چیت کرتے‘ میری زبان نہ کھلوائی جائے تو بہتر ہے‘ ذوالفقار کھوسہ غصہ میں آگئے اور کہا کہ نواز شریف کے چودھری صاحبان پر جو احسانات ہیں اگر انہیں گنوانا شروع کر دوں تو وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ تاہم انہوں نے پرویز الٰہی سے ملاقاتوں کا اعتراف بھی کیا۔ کھوسہ نے کہا کہ مونس الٰہی میری گفتگو کو اپنے خاندان کی جانب لے گئے حالانکہ میرا مقصد یہ تھا کہ ا س جماعت کو ادھر ادھر سے گھیر کر ایک آمر پرویز مشرف نے بنایا تھا۔ نیوز رپورٹر کے مطابق مونس الٰہی نے پوائنٹ آف آرڈر پر ذوالفقار کھوسہ کو ’’کھوسہ صاحب‘‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آپ کے بزرگوں نے بڑوں کا ادب کرنا نہیں سکھایا۔ میں آپ کو مونس الٰہی کی جگہ ’’نت صاحب‘‘ کہہ کر بلاؤں گا جس پر مونس الٰہی نے کہا کہ میں پوچھتا ہوں کہ جب رانا ثناء اللہ پیپلز پارٹی میں تھے تو میاں صاحبان کو گالیاں دیتے تھے‘ مجھے پتہ نہیں کہ آپ نے اپنی اولاد کو بزگوں کا ادب سکھایا ہے کہ نہیں مگر ہمارے بزرگوں نے ہمیشہ ہی بڑوں کا ادب کرنا سکھایا ہے‘ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ یہاں ذاتیات پر بات نہیں ہو گی۔ چودھری ظہیر الدین نے کہا کہ جب ایک طرف فارورڈ بلاک اپوزیشن کی سیاست کرنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ ظہور الٰہی روڈ پر آ جائیں اور چودھری پرویز الٰہی سے معافی مانگ کر کہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی تھی ہم دوبارہ واپس آ گئے ہیں تو مجھے اپوزیشن لیڈری چھوڑنے پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہو گا‘ پارلیمانی لیڈر کا فیصلہ جاتی عمرہ میں نہیں ظہور الٰہی روڈ پر ہونا ہے‘ اس موقع پر رانا ثناء اللہ اور پیپلز پارٹی نے ظہیر الدین کو بطور اپوزیشن لیڈر تسلیم کیا۔ ظہیر الدین نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے گذشتہ سال بجٹ میں جو بھی وعدے کئے تھے ان پر عمل نہیں کیا گیا‘ آج 8 کلب روڈ کی دیواریں اونچی کر کے اس کو سب جیل جیسا ماحول دیا جا رہا ہے۔ بجٹ میں خواتین اور اقلیتوں کو نظرانداز کیا گیا‘ بلدیاتی نظام اور خواتین کی نشستیں ختم کرنے کی سازش تیار کی جا رہی ہے۔ حکومت احتساب سے بچنے کیلئے پبلک اکائونٹس کمیٹی تشکیل نہیں دے رہی۔ مسلم لیگ فنکشنل کے صوبائی صدر مخدوم احمد محمودنے کہا کہ جنوبی پنجاب کی محرومیاں ختم نہ کی گئیں تو طالبانائزیشن کا عمل تیز ہو جائے گا اور ہم سیاستدانوں کا آخری بیج ہونگے ورنہ جو لاوا پھٹے گا ہم اس پر تمام ہی لوگ پشیمان ہونگے۔ اگر جنوبی پنجاب کا حق نہ دیا گیا تو جنوبی پنجاب کے عوام فیصلے اپنی مرضی سے کریں گے۔ جنوبی پنجاب کیلئے 50 ارب روپے کا بجٹ ہونا چاہئے۔ گوجرانوالہ کی آبادی 16 لاکھ ہے وہاں کیلئے 31 کالجز اور 30 لاکھ آبادی والے رحیم یار خان کیلئے 4 کالجز۔ کیا یہ جنوبی پنجاب کے ساتھ انصاف ہے۔ ثمینہ خاور حیات نے نوائے و قت سے گفتگو میں بتایا کہ راجہ ریاض اور اشرف سوہنا نے ایوان کی کارروائی شروع ہونے سے قبل معذرت کی مگر میرا مطالبہ تھا کہ معذرت ہاؤس کے اندر اجلاس کے دوران کی جائے تو میں اسے قبول کر لوں گی۔ کورم کی نشاندہی ہونے پر آدھا گھنٹہ کیلئے موخر ہوا لیکن بجائے آدھ کے ڈیڑھ گھنٹے بعد شروع ہوا تو محسن لغاری نے اسے قانون اور روایت کیخلاف اقدام قرار دیا‘ چودھری ظہیر نے کہا اجلاس 30 منٹ بعد شروع ہونا چاہئے تھا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بجٹ اجلاس میں کورم کی نشاندہی نہ کی جائے۔ فارورڈ بلاک کے شیخ علائو الدین نے کہا کہ اجلاس 31 ویں منٹ پر شروع ہونا چاہئے تھا۔ اب بحث میں وقت ضائع نہ کریں۔ رانا ثناء اللہ خان نے یقین دہانی کرائی کہ صوبائی اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کے چیئرمین کا انتخاب بجٹ ختم ہونے کے ایک ہفتے بعد کروایا جائے گا۔ خبر نگار خصوصی کے مطابق اجلاس آج صبح 10 بجے کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ فارورڈ بلاک کی رکن صبا صادق کے پوائنٹ آف آرڈر کے دوران (ق) لیگ کے ارکان کی طرف سے لوٹی لوٹی کے نعرے لگائے گئے جس کے بعد وہ بیٹھ گئیں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions