اسلام آباد (خبرنگار+ وقت نیوز/ ریڈیونیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس چیئرمین طالب حسین نکئی کی زیر صدارت ہوا وفاقی وزیر پٹرولیم کے اجلاس میں نہ آنے پر ارکان کمیٹی نے ناراضی کا اظہار کیا جبکہ برجیس طاہر نے احتجاجاً اجلاس سے واک آﺅٹ کیا چیئر مین کمیٹی طالب نکئی نے بتایا کہ وزیراعظم نے نئے گیس کنکشن پر پابندی اٹھانے کا کہا ہے سیکرٹری پٹرولیم نے کمیٹی کو بتایا کہ گھریلو سمیت تمام صارفین کیلئے گیس نرخ میں 13.55 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز دی ہے۔ رکن کمیٹی برجیس طاہر نے کہا کہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائن اوور بلنگ کر رہی ہے ایک چولہا جلانے والے صارف کو 50ہزار روپے بل بھیج دیا جاتا ہے۔ سی این جی سٹیشنز پر اربوں روپے کی گیس چوری ہورہی ہے اوگرا کے پاس گیس چوری کرنے والوں کے خلاف کوئی قانون نہیں پابندی کے باوجود اوگرا نے 500 سی این جی سٹیشنز غیر قانونی طور پر لگانے کی اجازت دی ایم ڈی سوئی ناردرن عارف حمید نے کمیٹی کو بریفنگ میں تسلیم کیا کہ ہمارے سسٹم اور سٹاف میں خرابی ہے دو ماہ میں آٹھ ارب روپے کے بقایا جات وصول کئے باقی 21ارب روپے رہ گئے ہمارے پاس گیس چوری کا قانون نہیں۔ حکومتی اداروں اوگرا اور وزارت پٹرولیم نے تسلیم کیا کہ ملک میں آج تک گیس سیکٹر کے حوالے سے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی اور یہ علم نہیں ہے کس ایکٹ کے تحت گیس اور دیگر قدرتی وسائل کی تقسیم کی جا رہی ہے اور ان کی کیا سزائیں ہیں جس پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ حکومت فوری طور پر اس حوالے سے قانون سازی کرے۔ علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق اوگرا نے اپنی دی ہوئی تجویز کو ختم کرتے ہوئے گیس کی قیمتوں میں 13.55 فیصد اضافہ کی سمری تیار کر لی ہے اور یہ سمری اوگرا نے وزارت پٹرولیم کی ہدایت پر تیار کی ہے گیس کی قیمتوں میں اضافہ تمام صارفین کی کیٹگری پر لاگو ہو گا۔ بہرحال سو یونٹس سے کم ماہانہ خرچ کرنے والے گھریلو صارفین پر اس کا اطلاق نہیں ہو گا۔
Post New Comment