جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس‘ عالمی برادری غلطی نہ کرے‘ سیلاب زدگان کیلئے سب کچھ دیدے : بان کی مون

ـ 20 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size
جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس‘ عالمی برادری غلطی نہ کرے‘ سیلاب زدگان کیلئے سب کچھ دیدے : بان کی مون

واشنگٹن (ریڈیو مانیٹرنگ + اے ایف پی) پاکستان کی تاریخ کے بدترین سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے امداد کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس ہوا‘ اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے پاکستان کے لئے مزید 6کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ پاکستان میں شدید ترین سیلاب قدرتی آفت اور ایک حادثہ ہے‘ پاکستان کا ایک لاکھ 60ہزار مربع کلومیٹر علاقہ زیر آب ہے‘ 3کروڑ افراد متاثر ہوئے‘ 80لاکھ افراد کو خوراک کی فوری ضرورت ہے‘ میں خود پاکستان جا کر سیلاب سے ہونے والی تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آیا ہوں‘ یہ واقعی بہت بڑی تباہی ہے جو سونامی سے بھی بڑی ہے۔ دنیا میں ایسی تباہیاں کم ہی دیکھی گئی ہیں ہر طرف تباہی ہی تباہی نظر آ رہی ہے‘ ہزاروں دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے‘ حکومتیں اس خطہ میں زیادہ امداد دینے میں ہچکچاہٹ برت رہی ہیں انہیں اپنے اس رویہ کو بدلنا ہو گا۔ یہ وقت عالمی سطح پر یکجہتی دکھانے کا ہے۔ اس موقع پر کوئی غلطی نہیں ہونی چاہئے‘ یہ عالمی المیہ اور عالمی چیلنج ہے۔ اس پر ہمیں دل کھول کر امداد کرنا ہو گی‘ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سڑکیں‘ مکان‘ پل اور دیگر ضروری تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں‘ اس وقت 460ملین ڈالر کی مدد کی ضرورت ہو گی۔ عالمی خیراتی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ امداد کرتے کرتے تھک چکے ہیں لیکن میں خود دیکھ کر آیا ہوں سیلاب سے متاثرہ افراد نہیں تھکے وہ بدستور ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے پر مجبور ہو رہے ہیں‘ یہ ”سلوموشن سونامی“ ہے جو محض ایک دن یا چند گھنٹے کا مہمان نہیں بلکہ مسلسل دو ہفتوں سے زائد عرصے سے لوگوں کی بستیاں اجاڑ رہا ہے‘ ایک قدرتی حادثہ ہے‘ اس سے نمٹنا بہت بڑا چیلنج ہے لہٰذا وہ عالمی اداروں اور حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ریلیف فنڈ میں عطیات دیں‘ ابھی کم از کم 460ملین ڈالر کی ضرورت ہے۔ آئیے آج ہم سب بھی پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑے ہوں اور انہیں اس بہت بڑے چیلنج سے عہدہ برآ ہونے میں تعاون کریں۔ ہم نے ہیٹی کے زلزلہ زدگان اور سونامی کے تباہ حال افراد کے لئے بہت کچھ کیا‘ آج پاکستانی ہماری ہمدردی کے مستحق ہیں۔ آئیے آج ہم پاکستان کے لئے بھی ایسا ہی کریں اور ہم سیلاب سے متاثرین کے لئے اپنا سب کچھ دے دیں‘ میں نے سیلاب سے متاثرہ افراد میں عزم‘ حوصلہ اور امید دیکھی ہے‘ وہ بڑے صبر کے ساتھ اس چیلنج سے نمٹ رہے ہیں‘ ہم سب کو ان کی مدد کرنا ہو گی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سیلاب نے چاروں صوبوں میں تباہی مچائی ہے‘ صورتحال مزید ابتری کی طرف جا رہی ہے۔ سیلاب کی پہلی لہر گذری ہے ابھی دوسری اور تیسری لہر گذرنی ہے‘ ملک کا 20فیصد سے زائد حصہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے‘ 70فیصد سڑکیں اور پل تباہ ہو چکے ہیں‘ جنہیں دوبارہ بنانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ سیلاب سے دو کروڑ سے زیادہ پاکستانی بری طرح متاثر ہوئے ہیں‘ کھڑی فصلیں بہہ گئی ہیں‘ گندم کے گودام پانی کی نذر ہو گئے‘ ہزاروں مکانات گر گئے‘ سینکڑوں دیہات مٹ گئے‘ متاثرین کو خوراک اور ادویات کی فراہمی بہت بڑا چیلنج ہے۔ امید ہے کہ میں جب یہاں سے واپس وطن جاوں تو یہ یقین کے ساتھ سوچ ساتھ لے کر جاوں کہ عالمی برادری ہمارے ساتھ ہے اور اس مصیبت کی گھڑی میں ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔ سیلاب ایسے وقت آیا جب ہم شدت پسندی کے خلاف جنگ میں مصروف تھے‘ تباہی اتنی شدید ہے کہ اس سے نمٹنا آسان کام نہیں‘ عالمی برادری کی مدد کے بغیر سیلاب کی ہولناک تباہی کے آثار ختم نہیں کر سکتے‘ خوراک کی فراہمی اور بیماریوں کی روک تھام ہماری اولین ترجیح ہے تاکہ متاثرین کی زندگیوں کو بچایا جائے۔ لاکھوں متاثرین بڑے شہروں میں چلے گئے ہیں‘ جس کی وجہ سے ان شہروں میں بھی مسائل بڑھ گئے ہیں۔ اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اور سیلاب سے متاثرین کی مدد کے لئے پیش پیش ہے۔ امریکہ نے اپنے متعدد ہیلی کاپٹر پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے کے لئے پاکستان بھجوائے ہیں‘ جو لوگوں کو بچا رہے ہیں۔ عارضی گھر بنانے کے لئے پلاسٹک شیٹس اور دوسرا سامان پاکستان کو فراہم کیا جا رہا ہے‘ پاکستان میں ہونے والی تباہی غیر معمولی ہے۔ یہ حقیقی معنوں میں قدرتی آفت ہے‘ ابھی تک مون سون کی بارشیں جاری ہیں اگر یہ بارشیں ستمبر میں بھی جاری رہیں جیسا کہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تو تباہ کاریوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ یہ درست ہے کہ امریکہ سمیت تمام حکومتوں کو اس وقت شدید مالی بحران کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کی مدد بہت ضروری ہے‘ یہ ایک انسانی المیہ ہے دو کروڑ سے زائد لوگ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ یہ تعداد نیویارک ریاست کی آبادی سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کو مزید 60ملین ڈالر کی امداد دے گا۔ اس کے علاوہ امریکہ نے پاکستان ریلیف فنڈ قائم کر دیا ہے جس میں امریکی شہری دل کھول کر چندہ جمع کرائیں۔ اس کے علاوہ امریکی موبائل فون کے ذریعہ پاکستان ریلیف فنڈ کے لئے ٹیکسٹ میسج کر کے دس ڈالر کا عطیہ دیں تاکہ اس انسانی المیہ سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی مدد کی جا سکے۔ امریکی پاکستان کو اس موقع پر تنہا نہیں چھوڑے گا اور اس بڑے چیلنج سے نمٹنے میں ہرممکن مدد کرے گا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions