اسلام آباد (ریڈیو نیوز + ایجنسیاں) پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ امریکیوں کو پاکستانی ویزوں کے اجرا میں رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں اور اب وہ پاکستان کو امداد کی فوری فراہمی کا وعدہ کرتے ہیں‘ امریکہ پاکستان کو آئندہ ہفتے میں کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں 341 ملین ڈالر کی رقم جاری کر دے گا جو تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر ہے‘ امریکی کانگریس اگلے ہفتے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دے گی۔ انہوں نے گزشتہ روز یہ باتیں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات اور نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران کہیں۔ وزیراعظم کے ترجمان نے ملاقات کے بارے میں بتایا کہ ہالبروک نے وزیراعظم کو افغانستان کے صوبے ہلمند میں جاری آپریشن کے بارے میں بریف کیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اس آپریشن کی وجہ سے شدت پسند اور پناہ گزینوں کا ریلا کہیں صوبہ سرحد اور بلوچستان میں نہ آ جائے۔ انہوں نے امریکہ اور اتحادی افواج پر زور دیا کہ اس بارے میں پاکستانی افواج سے وسیع تعاون ہونا چاہئے۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ رواں سال کے وسط تک پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹریٹجک ڈائیلاگ شروع ہو جائے گا۔ اعتماد کو پختہ کرنے اور دونوں جانب پائے جانے والے غلط تاثر اور غلط فہمیاں دور ہوں۔ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ وہ جامع مذاکرات کی بحالی کے لئے سنجیدگی سے کوشش کر رہے ہیں لیکن بھارت کی جانب سے ملنے والے اشارے حوصلہ افزا نہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات دہشت گردوں کی کارروائیوں کے یرغمال نہیں ہونے چاہئے جو کہ دونوں کے مشترکہ دشمن ہیں‘ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کو مسئلہ کشمیر اور پانی کے اہم تنازعات کو حل کرنا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ کو ہمارے تحفظات کا خیال رکھنا ہو گا اتحادی سپورٹ فنڈ اور کیری لوگر بل کے تحت پاکستان کو دی جانے والی امداد پر تاخیر ہماری معیشت پر بدترین اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ اس دوران پاک امریکہ تعلقات‘ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ‘ اتحادی سپورٹ فنڈ کے فوری اجرا ڈاکٹر عافیہ کی پاکستان واپسی‘ پاک امریکہ سٹریٹجک مذاکرات کی بحالی سمیت دیگر اہم امور پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے پاکستان میں موبائل فون نیٹ ورک کی لانچنگ کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے لوگوں میں پائے جانے والے امریکی منفی تاثر کو بھی ختم ہونے میں مدد ملے گی۔ رچرڈ ہالبروک نے وزیراعظم کو افغانستان کی سیاسی صورتحال اور ہلمند میں جاری آپریشن پر اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ امریکہ دہشت گردوں کو پاکستان کے اندر اور باہر شکست دینے کے لئے پاکستانی حکومت اور مسلح افواج سے ملکر کام کرتا ر ہے گا اور امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اتحادی سپورٹ فنڈ سمیت کیری لوگر بل کے تحت پاکستان کو دی جانے والی امداد میں درپیش رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو میں ہالبروک نے کہا کہ آرمی چیف جنرل اشفاف پرویز کیانی اور ان کے رفقاءکو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے دہشت گردی کے خاتمہ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے ایک سوال پر امریکی نمائندہ خصوصی نے کہا کہ امریکی ڈرون حملے کس کی منظوری سے ہو رہے ہیں اس حوالے سے پاکستان کی حکومت سے سوال کریں وہ بہتر طور پر بتا سکتی ہے۔ قبل ازیں پاکستان آمد سے قبل بی بی سی کو انٹرویو میں رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کا تعاون ضروری ہے۔ القاعدہ سے ناطہ توڑے بغےر امرےکہ طالبان سے بات چےت مےں حصہ نہےں لے گا۔ ہالبروک نے کہا ہے کہ افغانستان میں جہاں پاکستان کے جائز سکیورٹی مفادات ہیں، وہیں امن اور استحکام کے لیے جاری کوششوں میں پاکستان کے قریبی تعاون کی بھی ضرورت ہے۔ ہالبروک نے طالبان سے بالواسطہ رابطوں کی تصدےق کی تاہم کسی بھی قسم کے امن مذاکرات کی تردےد کی ۔ رچرڈ ہالبروک نے تسلےم کےا کہ واشنگٹن مےں گفتگو کا اےک اہم موضوع مفاہمت بھی ہے۔وزیر اعظم نے ملاقات کے دوران ہالبروک سے کہا کہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کےلئے امریکہ فوری اقدامات کرے۔ سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر اور رچرڈ ہالبروک کے درمیان ملاقات جمعرات کو دفتر خارجہ میں ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات، افغانستان، پاک بھارت تعلقات اور خاص طور پر افغانستان کے بارے میں نئی حکمت عملی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق دونوں جانب نے دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور باہمی مفاد میں دو طرفہ تعلقات بڑھانے کیلئے تمام سطحوں پر بڑھتے ہوئے رابطوں پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزارتی سطح پر سٹرٹیجک ڈائیلاگ کے پہلے دور سے دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم ہونگے۔ سٹرٹیجک ڈائیلاگ مستقبل قریب میں واشنگٹن میں ہونگے۔
Post New Comment