سمگل شدہ گاڑیوں کی رجسٹریشن‘ محکمہ ایکسائز کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے والے افسر معصوم قرار

ـ 19 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (احسان شوکت سے) محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن حکام نے نان کسٹم پیڈ سمگل شدہ گاڑیوں کی رجسٹریشن کرکے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے نقصان پہنچانے اور لاکھوں روپے کمانے والے اپنے کرپٹ افسران و اہلکاروں کو ”معصوم“ قرار دے دیا جب کہ جعلی کاغذات تیار کرنے والے مافیا کے ساتھ ساتھ بے گناہ خریداروں کو بھی قربانی کے بکرے بناتے ہوئے ان کے خلاف مقدمات درج کراکے معاملہ رفع دفع کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں کسٹم کلیئر کئے بغیر درجنوں سمگل شدہ گاڑیاں رجسٹرڈ کرنے کے ایک بہت بڑے سکینڈل کا انکشاف ہوا جس پر محکمہ ایکسائز حکام نے معاملہ کا نوٹس لیتے ہئے انکوائری کا حکم دیا۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے جعلی کاغذات تیار کرکے انہیں فروخت کرنے والا ایک گروہ بہت زیادہ سرگرم عمل ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ گروہ کسٹم حکام کی ملی بھگت سے یہ کام کر رہا ہے جب کہ محکمہ ایکسائز لاہور کا عملہ مک مکا کرکے ان جعلی کاغذات پر گاڑیوں کو رجسٹرڈ کر رہا تھا۔ اگر کوئی شہری اس گروہ سے گاڑی خرید کر محکمہ ایکسائز کے پاس تصدیق کیلئے آتا تو محکمہ ایکسائز کے افسران و عملہ ان کاغذات کو درست قرار دے کر گاڑی کی رجسٹریشن کرکے اسے نمبر پلیٹ دے دیتے۔ محکمہ ایکسائز حکام نے اس معاملہ کی انکوائری کی تو انہوں نے کمال فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے افسران واہلکاروں کو بے گناہ قرار دے دیا اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جب کہ صرف 21 گاڑیوں کے کاغذات جعلی قرار دے کر ان کا ذمہ دار صرف گاڑی رجسٹر کرانے والوں کو ٹھہرایا گیا۔ محکمہ ایکسائز حکام نے پولیس سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ان 21 افراد نے رجسٹرنگ اتھارٹی میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لئے فائلیں جمع کرائیں۔ سرکاری واجبات کی ادائیگی کے بعد انہوں نے گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بھی حاصل کر لیں۔ تاہم بعدازاں تصدیق دستاویزات بوگس اور جعلی پائی گئیں جس پر ان گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی۔ ان افراد کے خلاف جعل سازی دھوکہ دہی و جعلی سرکاری دستاویزات تیار کرنے کے جرم میں مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کی جائے اور حاصل کردہ نمبر پلیٹس واپس لے کر دفتر کو ارسال کی جائیں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions