لاہور (خبرنگار خصوصی+سٹاف رپورٹر+خبرنگار) پنجاب اسمبلی نے گزشتہ روز اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کرکے پنجاب نجکاری بورڈ 2010ءکے قیام کا بل منظور کر لیا ہے۔ اپوزیشن ارکان نے شدید اعتراض کیا اور حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مثبت نکتہ نظر سے ترامیم پیش کی تھیں جسے حکومت نے یکسر مسترد کر دیا۔ اپوزیشن ارکان محسن لغاری، ڈاکٹر فائزہ ملک، ثمینہ خاور حیات، ماجدہ زیدی اور آمنہ الفت نے مذکورہ بورڈ کے ملازمین کی تنخواہیں دیگر سرکاری محکموں کے برابر اور بورڈ کو فنڈز منتقل کرنے کی تجاویز پیش کی تھیں۔ اجلاس میں سال 2006-07ءکے بارے میں حکومت پنجاب کے محکموں سول ورکس، مواصلات، تعمیرات، ہاوسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، آبپاشی و بجلی اور مقامی حکومت و سماجی ترقی پر ریونیو وصولیوں کی 3 آڈٹ رپورٹس پیش کی گئیں۔ اپوزیشن نے بحث کا مطالبہ کیا تو وزیر قانون نے ایڈوائزری کمیٹی میں بحث کیلئے وقت متعین کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔ علاوہ ازیں پنجاب اسمبلی نے قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے بارے میں رپورٹ 31 مارچ تک پیش کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ گجرات میں اشتہاری ملزمان کی فائرنگ سے 15 افراد کی ہلاکت پر نوٹس توجہ طلبی پر چودھری عرفان الدین کے توجہ دلاو نوٹس پر وزیر قانون نے ایوان کو بتایا کہ 20 اشتہاریوں میں سے 9 گرفتار ہو چکے ہیں۔ دیگر کی گرفتاریوں کیلئے آزاد جموں و کشمیر حکومت سے مل کر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ گجرات اور اس کے اردگرد سنگین جرائم کی وارداتوں کے قلع قمع کیلئے خصوصی اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں اور آج خصوصی میٹنگ بھی ہوئی۔ پیپلزپارٹی کی ڈاکٹر فائزہ اصغر نے چیئرمین لیکوڈیشن بورڈ نذر چوہان کے ہتک آمیز رویہ کیخلاف تحریک استحقاق پیش کی جس کی رانا ثناءاللہ نے مخالفت کی تو اپوزیشن نے احتجاج کیا جس پر سپیکر نے تحریک پر فیصلہ پیر تک کیلئے ملتوی کر دیا۔ محسن لغاری کی پانی کی کمی کے حوالہ سے تحریک التواءپر وزیر قانون نے کہا کہ بارش کے بعد کمی 30 فیصد رہ گئی ہے جبکہ حکومت پنجاب کے جرات تمندانہ موقف پر لنک کینال کھول دی گئی ہے اور جنوبی پنجاب کی زمینیں سیراب ہونا شروع ہو چکی ہیں۔ جس پر سپیکر نے تحریک نمٹا دی۔ فارورڈ بلاک کے رکن شیخ علاوالدین نے تحریک التوا پیش کی کہ ہمارے معاشرے میں 30 سال سے زائد عمر کی خواتین کو شادی کے پول سے باہر کر دیا جاتا ہے۔ ایسی کنواری خواتین ماں باپ کے انتقال، بہن بھائیوں کی دوری یا عدم توجہی کے باعث کرب یا عذاب میں مبتلا ہو کر زندگی گزارتی ہیں۔ ان خواتین کا معاشرے میں تناسب 17 فیصد سے زائد ہے لہٰذا ان کی بہتری کیلئے ملازمتوں میں 2 فیصد کوٹہ مختص کیا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے میاں نصیر نے کہا کہ مردوں کو ایک سے زیادہ شادی کا حق دیکر ایسی خواتین کی بہتر حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔ ق لیگ کی ثمینہ خاور حیات نے تائید کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے خاوند کو شریعت کے مطابق دوسری شادی کی اجازت دیتی ہوں۔ مولانا الیاس چنیوٹی نے کہا کہ مرد کی دوسری شادی سے متعلق قانون میں ترمیم کرکے پہلی بیوی سے اجازت کی شرط ختم کر دینی چاہئے۔ پیپلزپارٹی کے حسن مرتضیٰ نے کہا کہ مردوں کے رشتہ نہ ہونے پر بھی غور کیا جانا چاہئے۔ محسن لغاری نے کہا کہ یہ اہم معاملہ ہے اس پر ایوان میں بحث ہونی چاہئے۔ پینل کے چیئرمین خواجہ اسلام نے مزید بحث کیلئے پیر کا دن مقرر کر دیا ہے۔ 40 ہزار بیلداروں کی ممکنہ برخاستگی کے متعلق زوبیہ رباب کی تحریک التوا پر صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ صوبائی حکومت کی پالیسی ایسے ملازمین کو مستقل کرنا ہے جو مستقل آسامیوں پر کنٹریکٹ ملازمت کر رہے ہیں۔ بیلدار اور کھالہ پکا کرنے والے اس زمرہ میں نہیں آتے کیونکہ وہ پراجیکٹ آسامیوں پر ہیں جب تک وفاقی حکومت کھالہ پکا کرنے کا منصوبہ جاری رکھے گی ان کی ملازمتیں برقرار رہیں گی۔ فرح دیبا نے دل کے عارضہ میں مبتلا موسیقار ماسٹر منظور حسین کیلئے پانچ لاکھ روپے امداد دینے پر وزیراعلیٰ شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔ وقفہ سوالات میں صوبائی وزیر ثقافت و سپورٹس ڈاکٹر تنویرالاسلام کو بھی اپوزیشن کے سوالوں کا جواب دینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آفیسرز گیلری سے ان کی مدد کیلئے ”غیبی امداد“ (رقعوں) کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کے باوجود وزیر جنگلات کی طرح وزیر ثقافت کو بھی اپوزیشن رکن محسن لغاری سے کہنا پڑا کہ وہ مزید سوال نہ کریں اور ”چیمبر“ میں مل لیں۔ وزیر ثقافت ”غیبی امداد“ کے باوجود محسن لغاری کے شالامار باغ میں کنٹین کے ٹھیکہ کی سالانہ آمدن بتانے سے قاصر رہے۔ مسلم لیگ (ن) کے اللہ رکھا نے بیگم پورہ میں پیرو والا مقبرہ کے بارے میں ڈاکٹر تنویرالاسلام کے جواب کو غلط قرار دیا۔ سپیکر نے اجلاس آج (جمعہ) تک ملتوی کر دیا ہے۔
Post New Comment