واشنگٹن (آن لائن) امریکی میڈیا نے کہا ہے کہ پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری مشکلات کا شکار حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کی خواہاں نہیں ہے تاہم تاریخ پھر خود کو دوہرا رہی ہے اکتوبر 2005ءکے زلزلے کی طرح سیلاب زدہ علاقوں میں شدت پسند گروپ متاثرین کی سب سے زیادہ مدد کرتے نظر آرہے ہیں اور اپنا اثرورسوخ بڑھا رہے ہیں عالمی برادری کو دل کھول کر اور ذمہ داری سے پاکستان کی مدد کرنی ہوگی۔ صدر زرداری اپنی ساکھ بحال کرنے کیلئے سیلابی علاقوں کے دورے کررہے ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ عالمی برادری عام طور پر پاکستان کی مشکلات کا شکار حکومت کے ساتھ مل کر ریلیف و بحالی کی کوششوں میں حصہ لینے سے گریزاں ہے جبکہ سب سے زیادہ جو متاثرین کی امداد کرنا چاہتے ہیں وہ پاکستانی شدت پسند گروپ ہیں جو اپنے اثرورسوخ کو وسعت دینے کیلئے سماجی سروسز کا استعمال کرتے ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ جب رواں ماہ بدترین سیلاب آیا تو اسلام آباد کا حالیہ قائم کردہ قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارہ کمزور و ناتجربہ کار ثابت ہوا جبکہ صدر زرداری بیرون ملک رہے اور وہ اسی صورت حال سے کٹے ہوئے نظر آئے۔ دریں اثناءسخت گیر اسلامی خیراتی ادارے جن کے مبنیہ طور پر دہشتگرد گروپوں سے روابط ہیں انہوں نے چند روز کے اندر ہزاروں رضا کار متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کیلئے بھیجے ان میں لشکر طیبہ کا ونگ فلاح انسانیت بھی شامل ہے یہ گروپ متاثرین کو کھانا ، کپڑے، ادویات اور پیسے بھی فراہم کررہا ہے دیگر گروپوں میں حقانیہ مدرسہ سے پچیس سو کے قریب متاثرین کو شیلٹرز، کھانا ، طبی عالج اور بجلی فراہم کی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ قدرتی آفات کی زد میں گھرے پاکستانی عوام کی مدد کو آئیں۔ اخبار نے تباہ کن سیلاب کو عوام کے ساتھ ساتھ ملکی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا ہے کیونکہ انتہا پسند اس ناگہانی آفت کو استعمال کرکے عوام کی ہمدردیاں استعمال کرسکتے ہیں۔
Post New Comment