مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی متاثرین کی مدد کیلئے اپنا تن من دھن لگا دیں : شہبازشریف

ـ 19 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور + میانوالی (خبر نگار + نامہ نگار) وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی پر زور دیا ہے کہ وہ سیلاب کے متاثرین کی مدد کے لئے اپنا تن من دھن لگا دیں‘ آزمائش کی اس گھڑی میں سیلاب زدگان کی مدد کے لئے وہ جتنی بھی محنت کریں وہ کم ہے‘ پنجاب حکومت صوبے میں سیلاب سے بے گھر ہونے والے افراد کو مزید 10 ہزار خیمے فراہم کرے گی اور ضرورت پڑنے پر اس تعداد میں اضافہ بھی کر دیا جائے گا‘ انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ متاثرین کو راشن کی تقسیم میں مکمل شفافیت یقینی بنائے اور اس سلسلے میں کسی قسم کا دباو قبول نہ کیا جائے۔ متاثرین سیلاب کو معاوضے کی فراہمی کے لئے سروے کرتے ہوئے شفافیت ہماری اولین ترجیح ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی‘ ٹکٹ ہولڈرز اور پارٹی کے مرکزی اور صوبائی آرگنائزنگ کمیٹیوں کے ارکان کے کنونشن کے موقع پر خطاب اور میانوالی میں کالا باغ‘ عیسیٰ خیل اور دوسرے مقامات پر متاثرین سیلاب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ یہ پوائنٹ سکورنگ اور سیاست کا وقت نہیں اور اگر ہم سیلاب سے متاثرہ مصیبت زدہ لوگوں کی مدد اور بحالی کر سکیں تو یہی سیاست ہے اور یہ سیاست عین عبادت ہے۔ 1992ءمیں جب سیلاب آیا تو مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی اور کارکنوں نے جس طرح اپنے قائد میاں نوازشریف کے حکم پر سیلاب کے متاثرین کی مدد کی تھی آج بھی اسی جذبے ، عزم اور ہمت کی ضرورت ہے۔ جب سیلاب پہاڑوں سے چلا اور نوازشریف نے انہیں پنجاب میں اپنی ٹیم کے ہمراہ سیلاب کے ممکنہ متاثرہ علاقوں میں فوری پہنچنے کا حکم دیا تو وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ ان علاقوں میں پہنچ گئے۔ سیلاب ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس میں حکومت تن تنہا متاثرین کی مکمل بحالی نہیں کر سکتی اس آزمائش کی گھڑی میں سب کو اپنا اپنار کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو بچانا ہے تو آپ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مدد کر کے انہیں بچا لیں۔ نوازشریف نے سیلاب زدگان کی بحالی کے لئے کمشن تشکیل دینے کی جو تجویز وزیراعظم کو دی ہے وہ اس کو وقت ضائع کئے بغیر آگے بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ وزیراعظم کو اس کمشن کی تشکیل میں مشکلات اور رکاوٹیں بھی ہو سکتی ہیں اگر سیلاب کے متاثرین کی ہم پوری طرح مدد اور بحالی نہ کر سکے تو پھر سکھر والے کراچی اور مظفر گڑھ والے لاہور ہوں گے۔ متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ریلیف کیمپوں سے اپنے علاقوں میں واپس جانے والے متاثرین کو بھی اس وقت تک ٹینٹ‘ خوراک اور دیگر سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہے گا جب تک وہ اپنے گھروں کی تعمیر نو کر کے ان میں دوبارہ آباد نہیں ہو جاتے۔ نقصان کے تخمینے کے لئے تشکیل دی جانے والی سروے ٹیموں میں محکمہ مال کے اہلکاروں اور اساتذہ کے علاوہ نوجوانوں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے۔ ان نوجوانوں کا انتخاب سماجی بہبود اور عوامی خدمت میں ان کے سابقہ ریکارڈ اور شہرت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ حکومت پنجاب سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خشک راشن کی تقسیم پر کروڑوں روپے صرف کر رہی ہے اور اس کا ایک ایک پیسہ حقداروں تک پہنچنا چاہئے۔ انہوں نے اپنے دورے کے دوران مختلف ریلیف کیمپوں کا بھی معائنہ کیا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions