اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + مانیٹرنگ ڈیسک + ایجنسیاں) پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان 18ویں ترمیم پر عملدرآمد میں حائل رکاوٹیں دور کرنے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق یہ اتفاق رائے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں 18ویں ترمیم کی عملدرآمد کمیٹی کے اجلاس میں ہوا ہے۔ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور ترمیم پر عملدرآمد کے معاملات کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے چیئرمین رضا ربانی بھی اس اجلاس میں موجود تھے۔ اس اجلاس سے قبل وزیراعظم گیلانی نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کو فون کیا جس میں دونوں رہنماوں نے 18ویں ترمیم پر عملدرآمد کے معاملات کا جائزہ لیا۔ دونوں رہنماوں نے 18ویں ترمیم پر عملدرآمد پر اتفاق کیا اور کہا کہ اس سے جمہوریت مزید مستحکم ہو گی۔ ذرائع کے مطابق نوازشریف نے پیپلز پارٹی کو ترمیم پر عملدرآمد کے حوالے سے تعاون کا یقین دلایا۔ اس موقع پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم عوام کی خواہشات کی مظہر ہے‘ اسے جلد حقیقت میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں آرٹیکل 270 اے اے کے تحت سینیٹر میاں رضا ربانی کی صدارت میں کمشن قائم کیا ہے جو اس سلسلے میں اقدامات کی سفارش کرے گا۔ اجلاس میں کمشن کے ارکان کابینہ ڈویزن کے پارلیمانی سیکرٹری‘ سیکرٹری ایسٹیبلشمنٹ صوبوں کے چیف سیکرٹریز نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ عملدرآمد کمشن کو 18ویں ترمیم پر عملدرآمد کے لئے قواعد میں ترمیم کرنے کی ہدایات جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ حکومت کمشن کو ہر طرح سے تعاون اور حمایت فراہم کرے گی وزیراعظم نے ان تمام وزارتوں اور محکموں کو ہدایت دی جن کی ذمہ داروں کو منتقل کیا جانا ہے کہ وہ ایشوز اور معاملات مشترکہ مفادات کی کونسل کو بھیج دیں اگر پالیسی سازی کے لئے کوئی اقدام ضروری ہے تو عملدرآمد کمشن سے مشورہ کیا جائے‘ مشترکہ مفادات کونسل کو بھیجا جائے ایسی وزارتیں اور کمیشن جن کی ذمہ داریاں صوبوں کو جانا ہیں ان کے فنڈز اور اثاثوں کا مناسب انتظام کیا جائے‘ اس سلسلے میں عملدرآمد کمشن کے مشورے کے بغیر کوئی قدم نہ اٹھایا جائے وزیراعظم نے توقع ظاہر کی کہ عملدرآمد کمشن 30 جون 2011ءتک تمام کام مکمل کرے گا۔ اٹھارہویں ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت سے تیار ہوئی تھی اس پر عملدرآمد کے سلسلے میں بھی اسی جذبہ کا مظاہرہ کیا جائے۔ کنکرنٹ لسٹ ختم ہو چکی ہے اب صوبے اپنے وسائل کو منظم کرنے میں زیادہ خود مختاری کے حامل ہو چکے ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبائی حکومتوں کے شیئرز میں اضافہ ہوا ہے صوبوں کو اپنی انتظامی مشینری کو مستحکم کرنے کیلئے کام کرنا چاہئے کیونکہ مستقل قریب میں اس پرزیادہ ذمہ داری عائد ہو جائے گی۔ اٹھارہویں ترمیم پر عملدرآمد کے عبوری مرحلہ میں بعض قوانین‘ قواعد و ضوابط میں تبدیلی کی ضرورت پڑے گی اس لئے توقع ہے کہ صوبائی حکومتیں اس سلسلے میں عملدرآمد کمشن کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔ انہوں نے وزرائے اعلیٰ سے کہا کہ وہ اٹھارہویں ترمیم پر عملدرآمد میں تیزی اور وقت مقررہ پر اس کی تکمیل کو یقینی بنائیں۔ وزیراعظم نے توقع ظاہر کی کہ کمشن تمام معاملات حساسیت کو ذہن میں رکھتے ہوئے کام کے لئے روڈ میپ دے گا‘ اس کے ساتھ نظام الاوقات بھی دیا جائیگا پارلیمنٹ کو ہر دو ماہ بعد اٹھارہویں ترمیم پر عملدرآمد کے اقدامات سے آگاہ کیا جائیگا۔ سینیٹر رضا ربانی نے اجلاس کے شرکا کو بریفنگ دی اور کہا کہ کمشن کے تین اجلاس ہو چکے ہیں جن میں توجہ کے حامل شعبوں کی نشاندہی کی گئی۔ بین الصوبائی رابطہ کے ڈویژن جو بین الصوبائی معاملات کے لئے سیکرٹریٹ ہے اسے اب مشترکہ مفادات کی کونسل اور عملدرآمد کمشن کے لئے بھی سیکرٹریٹ بنا دیا گیا ہے مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے سیکرٹریز سے قریبی رابطہ رکھا گیا ہے انہوں نے عملدرآمد کمشن اور سی سی آئی کے قواعد و ضوابط اور طریقہ ہائے کار تیار کر لئے گئے ہیں اور انہیں لا ڈویژن کو بھیجا گیا ہے بعد میں انہیں منظوری کے لئے وزیراعظم اور مشترکہ مفادات کی کونسل کو بھیجا جائیگا۔ مشترکہ مفادات کی کونسل کے کردار کو بڑھایا جائیگا‘ اس کا جولائی 2011ءتک ہر ماہ ایک اجلاس ہو گا اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ نے عملدرآمد کمشن کے اب تک کے کام کی تعریف کی اور یقین دلایا کہ اس سارے عمل کی بروقت تکمیل کے لئے ہر ممکن تعاون کیا جائیگا۔ ہدایات کے مطابق صوبوں میں عملدرآمد سیل قائم کر دیئے گئے ہیں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے متفقہ رائے دی کہ این ایف سی میں صوبوں کی اضافی ذمہ داریوں کے حوالے سے خیال نہیں رکھا گیا اس لئے جو وزارتیں اور ڈویژن اب صوبوں میں جاتے ہیں ان کے اثاثے اور فنڈز صوبوں کو دیئے جائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ 18ویں ترمیم کو جلد حقیقت کا روپ دھارنا چاہئے‘ کوئی فیصلہ میری مشاورت کے بغیر نہ کیا جائے۔ چاروں صوبوں نے 18ویں ترمیم کے تحت ملنے والی وزارتوں کے ساتھ ان کے فنڈز اور بجٹ کی وفاق سے صوبوں کی منتقلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ملنے والے اضافی وسائل ان وزارتوں کو چلانے کے لئے ناکافی ہیں تاہم صوبائی حکومتیں 18ویں ترمیم پر عملدرآمد کے لئے کمشن کا بھرپور ساتھ دےں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ 18ویں ترمیم عوام کی خواہشات کا مظہر ہے جس پر جلد ازجلد عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ قائم کردہ کمشن کو ہر طرح کے اختیارات دیئے گئے ہیں کہ وہ کمشن کے قواعد و ضوابط میں ضرورت کے مطابق تبدیلی کر سکتا ہے۔ وفاقی حکومت کمشن کی ہرممکن مدد کر رہی ہے جس نے اب تک بہت اچھے طریقے سے کام کیا ہے۔ انہوں نے تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ کمشن کے ساتھ مکمل تعاون کریں ہر کسی اہم معاملہ پر کمشن سے رہنمائی حاصل کریں۔ کمشن کی اجازت کے بغیر اثاثہ جات یا فنڈز کے حوالے سے کوئی ایکشن نہ لیا جائے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کمشن 30 جون 2011ءتک اپنا ہدف حاصل کرلے گا ۔ اٹھارویں ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے منظور ہوا اب اس پر عملدرآمد کے لئے بھی اس ملی جذبہ کی ضرورت ہے کنکریٹ لسٹ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اب صوبے اپنے وسائل کو بھرپور طریقہ سے استعمال کرسکتے ہیں۔ انہوں نے صوبوں پر زور دیا کہ وہ انتظامی امور کو مزید موثر بنائیں کیونکہ آنے والے دنوں میں ان کی ذمہ داریاں بڑھیں گی اور اس کے لئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ حساس معاملات پر کمشن ٹائم فریم کے ساتھ ساتھ گائیڈ لائن بھی دے اور ہر دو ماہ بعد عملدرآمد کے حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔ رضا ربانی نے کہا کہ بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کو عملدرآمد کمشن کا سکرٹریٹ بنایا گیا ہے جو وفاق اور صوبوں میں رابطہ کا کام کر رہا ہے اور تمام متعلقہ ادارے اور وزارتیں تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمشن کے قواعد و ضوابط تیار کر کے وزارت قانون کو بھجوا دیئے گئے ہیں جو کہ اب وزیراعظم کی منظوری کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمشن کا ہر ماہ بعد ایک اجلاس لازمی ہوا کرے گا۔
Post New Comment