چٹھہ اور قصوری کی مشرف سے ملاقات نے لیگی اتحاد کیلئے کوششوں کا بھانڈا پھوڑ دیا : عطا مانیکا

ـ 18 جولائی ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (خبر نگار خصوصی) مسلم لیگوں کے اتحاد کے ضمن میں خورشید قصوری کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجلاس کے بعد خورشید قصوری اور حامد ناصر چٹھہ کی جنرل مشرف سے ملاقات سے بلی قبل از وقت ہی تھیلے سے باہر آ گئی ہے اور مذکورہ اجلاس کے شرکا خود اس حوالہ سے شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ اجلاس میں گوہر ایوب اور میاں اظہر نے اجلاس کے شرکا سے استفسار کیا تھا کہ اتحاد کے لئے کوششیں تب کارگر ہوں گی جب جنرل مشرف سے لاتعلقی ظاہر کی جائے گی کیونکہ عوامی سطح پر تاثر یہ بن رہا ہے کہ یہ سرگرمیاں جنرل مشرف کے کہنے پر ان کےلئے ہیں جن پر انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی ا ور ملاقات کے فوری بعد دبئی میں حامد ناصر چٹھہ اور خورشید قصوری کی ملاقات نے سارا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ مسلم لیگ ہمخیال گروپ پنجاب کے صدر میاں عطا محمد مانیکا نے مذکورہ صورتحال پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سینئر قائدین نے اپنے اس عمل سے ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنے مقاصد میں یکسو نہیں اور اس طرح اس میٹنگ کا سارا مقصد ہی فوت ہو گیا جو کی گئی تھی۔ میاں عطا مانیکا نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی بدقسمتی یہی ہے کہ ہم کہتے کچھ اور ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سیاست اور اہل سیاست کی کریڈبلٹی نہ بن سکی۔ انہوں نے دبئی یاترا کرنے والی قیادت کے حوالہ سے کہا کہ ”پلے نئیں تیلا تے کر دی پھرے میلہ میلہ“ جہاں سے روشنی لینے گئے وہ ’مرد آہن“ تو خوف کے مارے پاکستان کا رخ کرنے کو تیار نہیں اور جس شخص میں اتنی اخلاقی جرا¿ت نہیں کہ وہ اقتدار سے اترنے کے بعد اپنی قوم کو فیس کر سکے اس سے کوئی امیدیں اور توقعات قائم کرنا خود کو بےوقوف بنانا نہیں تو اور کیا ہے۔ ہمیں بتایا کچھ اور گیا اور کیا کچھ اور جا رہا ہے‘ ہم ایسے عمل کا حصہ کیسے رہ سکتے ہیں‘ میں ایسے عمل کو نہ سیاسی ا عتبار سے اچھا سمجھتا ہوں اور نہ اخلاقی اعتبار سے اچھا سمجھتا ہوں۔ میاں عطا مانیکا نے کہا کہ جس شخص کو وہ چھوڑ گئے ہوں جن کی وردی کو جو سرمایہ حیات سمجھتے تھے اور وردی میں بار بار دس بار منتخب کرانے کا عزم ظاہر کرتے تھے اب بے وردی شخص سے ہمارے دوست ملکر نہ جانے کیا حاصل کرنا چاہتے تھے لہٰذا انہیں تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیئے اور نہیں بھولنا چاہئے کہ اقتدار سے جانے والا جرنیل واپس نہیں آتا آگے جاتا ہے۔ جانے والے نے واپس نہیں آنا۔ اگر کوئی شخص جنرل مشرف کی شخصیت‘ کردار سے اب بھی مرعوب ہے تو ان کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے‘ ہاں البتہ مجھے اس بات کا رنج ضرور ہوا کہ ہمیں ایک ایسی مشق کا حصہ بنایا گیا جس کے مقاصد اتحاد کے لئے کم کسی چور دروازے کی راہ تلاش کرنے کے لئے زیادہ تھے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کی واپسی کا کوئی چانس ہوتا تو ہمارے دوست چودھری صاحبان ان سے یوں کنارہ نہ کرتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کی کارکردگی پر تحفظات سے پہلے ہمیں اپنے گریبانوں میں ضرور جھانک لینا چاہئے کہ ہماری اپنی حکومتوں کی کارکردگی کیا تھی۔ جنرل مشرف کے قومی جرائم سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے معافیاں طلب کرنے والے اب کسی لیگی اتحاد کی بجائے معافی گروپ بنا لیں تو بہتر ہو گا‘ سانحہ لال مسجد یا اکبر بگٹی کے قتل کے عمل سے یہ کہہ کر نہیں بچا جا سکتا کہ ہاں یہ ظلم ہوا‘ ہمیں مستعفی ہو جانا چاہئے تھا۔ وقت اور حالات بتا رہے ہیں کہ اب کوئی بات چھی نہیں رہ سکتی لہٰذا کسی کا کھیل چلانے اور اپنا کھیل بنانے کے لئے مسلم لیگ کا نام استعمال نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہو گا۔ مسلم لیگ قائداعظمؒ کی جماعت ہے اور قائداعظمؒ کے نام پر کسی جماعت کو باوردی جرنیل کی گود میں تو ڈالا جا سکتا ہے اب اسے کسی بھگوڑے جرنیل کی چوکھٹ پر ڈھیر نہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں مذکورہ اجلاس میں شریک ہونے والے ایک سینئر رہنما نے نوائے وقت سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں مذکورہ اجلاس میں شامل نہیں ہونا چاہتا تھا لیکن بعض دوستوں کے اصرار پر شدید تحفظات کے ساتھ بوجھل دل سے اجلاس میں شامل ہوا اور انہوں نے وہی کیا کہ جس کی مجھے ان سے امید تھی‘ جو لیڈر شپ بدلے ہوئے پاکستان میں جنرل مشرف سے مشاورت اور ان کی قیادت سے متاثر ہو ان کی حالت زار پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے‘ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اچھا ہوا کہ یہ جلد اپنے ساتھیوں کے سامنے ایکسپوز ہو گئے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions