بلوچستان میں دہشت گردی کرنے والوں کو بھارت تربیت دے رہا ہے : لارڈ نذیر

ـ 17 مئی ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (سلمان غنی) برطانوی ہاﺅس آف لارڈز کے رکن لارڈ نذیر احمد نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر انسانی حقوق کی پامالی اور خلاف ورزیاں عروج پر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے ویزہ نہیں ملتا۔ پاکستان بھارت مذاکراتی عمل نتیجہ خیز تبھی ہوگا جب پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کیا جائے۔ مذاکرات برابری کی بنیاد پر کشمیر، سکیورٹی اور پانی کے ایجنڈے سے مشروط ہوں۔ ممبئی دہشت گردی پر شور مچانے والے پاکستان میں براہ راست دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ شواہد موجود ہیں، بلوچستان میں امن و امان سے کھیلنے والوں کی ٹریننگ بھارت میں ہوتی ہے۔ بھارت علاقائی دہشت گردی کا منبع رہا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں جھوٹ بولنے کا تصور نہیں لیکن بدقسمتی ہے پاکستانی پارلیمنٹ میں جھوٹ عام ہے۔ وزراءبھی اہم ایشوز پر جھوٹ بولتے نظر آتے ہیں۔ جب تک پاکستانی خارجہ اور داخلہ پالیسیاں پارلیمنٹ کے ذریعے نہیں بنیں گی تو حالات یہی رہیں گے۔ شاہ محمود قیرشی غیروں سے ڈائیلاگ کو اپنی فتح قرار دیتے ہیں لیکن ملک سے باہر پاکستان کے دوستوں کو ملنے کو تیار نہیں۔ پاکستان میں سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ حکمرانوں کی کریڈیبلٹی ہے۔ جو خود لوٹ مار اور کرپشن میں ملوث ہوں وہ کسی کی سرمایہ کاری کو کیا تحفظ فراہم کرینگے۔ وہ وقت نیوز کے پروگرام سے اپنے خصوصی انٹرویو میں بات چیت کررہے تھے۔ پروگرام کے پروڈیوسر میاں شاہد ندیم اور اسسٹنٹ پروڈیوسر وقار قریشی تھے۔ لارڈ نذیر نے کہا کہ دنیا بھر کے پاکستانی پاکستان کے مستقبل کے حوالہ سے فکرمند ضرور ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی قیامت تک رہنے کیلئے بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی انتخابات میں لیبر پارٹی کی شکست کی وجہ سکینڈلز اور میڈیا کا کردار تھا۔ بدقسمتی سے پہلی دفعہ سپیکر کو بھی جانا پڑا۔ ایسادو سو سال میں پہلی مرتبہ ہوا لیکن انتخابی نتائج بتا رہے ہیں کہ یہ پارلیمنٹ اور حکومت ایک سال سے زیادہ نہیں چلے گی۔ انہوں نے برطانوی انتخابات کے نتیجے میں وزیر بننے والی پاکستانی خاتون سعیدہ وارثی کی تعریف بھی کی اور کہا کہ وہ برطانوی شہری ہیں لیکن ان میں بے حد ٹیلنٹ ہے۔ حافظہ قرآن ہیں اور پورے اعتماد سے میڈیا کو فیس کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں اتنے پاکستانیوں کی جیت نے پاکستانیوں کی حیثیت کو اجاگر کیا ہے۔ پاکستانیوں نے برطانیہ میں محبت اور جدوجہد سے اپنا مقام بنایا ہے۔ برطانوی معیشت، تعلیم، صحت کے شعبہ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی تبدیلی کے باوجود خارجہ پالیسی تبدیل نہیں ہوگی کیونکہ خارجہ پالیسی وہاں حکومتوں کی نہیں بلکہ ملکی مفادات کے تابع ہوتی ہے لہٰذا امریکہ کی افواج جب افغانستان سے واپس جائیں گی تو تبھی برطانوی افواج واپس آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسکی افواج کو افغانستان سے جانا ہے لیکن بدقسمتی سے افغانستان میں انڈین کردار خطرناک ہوگا۔ ہندوستان کو یہاں ٹھیکے دئیے گئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس حوالہ سے مسلح افواج کا کردار اور راستہ درست ہے۔ افغانستان میں امن و امان کیلئے پشتونوں کی حیثیت اور اکثریت کو تسلیم کرنا ہوگا لیکن امریکہ چین کو پریشان کرنے کیلئے یہاں بھارت کو بٹھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں سٹرٹیجک ڈائیلاگ امریکی مفادات کیلئے تھے، پاکستان کیلئے نہیں۔ امریکہ پاکستانی حکمرانوں پر دباﺅ اپنے فیصلوں کیلئے ڈالتا ہے لیکن یہ اپنی جان چھڑانے کے چکر میں فوج کو آگے کرتے ہیں۔ مسلح افواج پر بھی دباﺅ آتا ہے لیکن پاکستان کی فوج سب کچھ کرسکتی ہے لیکن امریکہ کو سلیوٹ نہیں کرسکتی۔ انہوں نے بے نظیر بھٹو شہید کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان میں قائدانہ صلاحیتیں بھی تھیں اور ڈپلومیسی کی اہلیت بھی لیکن آج ان کی پارٹی برسراقتدار ہے لیکن ملک کے اندر اور باہر مایوسی انتہاﺅں پر ہے۔ بی بی کے نام پر اقتدار میں آنے، ہمدردیاں حاصل کرنے اور دولت کمانے والوں نے ملک کا بھٹہ بٹھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں 12 سال سے پارلیمنٹ کا رکن ہوں لیکن کسی کی مجال ہے جو پارلیمنٹ میں جھوٹ بول جائے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ میں وزیر جھوٹ بولتے ہیں، غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔ کالا باغ ڈیم اور بجلی کے بحران پر قوم سے جھوٹ بولا جاتا رہا لیکن آج تک وہی وزیر موجود ہیں، کوئی جوابدہی نہیں۔ انہوں نے حکومتی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں شریف برادران سے اس لئے ناراض ہوں کہ وہ جھوٹ کو جھوٹ نہیں کہتے۔ ان کی سافٹ اپروچ ان کی مقبولیت پر اثرانداز ہورہی ہے۔ انہوں نے افغانستان کے حوالہ سے ایک اور سوال پر کہا کہ ڈرون حملوں کا سلسلہ اور افغانستان میں مداخلت کا سلسلہ جاری رہا تو پھر سول وار ہوگی، پاکستان پر بھی اثرات پڑینگے۔ یہاں امن کیلئے پختونوں کی اکثریت تسلیم کرنا ہوگی۔ انہیں اعتماد میں لینا پڑےگا۔ امریکہ سمجھ گیا ہے کہ وہ افغانستان اور افغانوں پر غالب نہیں آسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج مقبوضہ کشمیر سے نہیں نکلیں، وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہی ہے۔ اس نے مجھے بھی ویزا نہیں دیا کہ میں باہر جاکر حقائق بیان کردونگا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات برابری کی بنیاد پر ہی نتیجہ خیز ہوسکتے ہیں۔ امریکی یا برطانوی دباﺅ پر مذاکرات کی کوئی حیثیت نہیں۔ مذاکرات وہی کارگر ہوں گے جس میں کشمیر اور پانی کا مسئلہ ایجنڈا پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی دھماکوں پر شور مچانے والے پاکستان میں دہشت گردی کرتے اور کرواتے رہے ہیں۔ دہشت گردوں کی ٹریننگ انڈیا میں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بدقسمتی سے اپنے اصل اپوزیش پر بھی یکسو نہیں لیکن بین الاقوامی سطح پر نہیں دکھاتی۔ کشمیر کی قراردادیں بھی موجود ہیں اور کیس بھی موجود ہے، نہ جانے کیوں اس پر بھی پسپائی اختیار کی جاتی ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions