کھاریاں + ڈنگہ + جہلم (نامہ نگاران + ریڈیو نیوز) جہلم سے اغوا کیا گیا برطانوی نژاد بچہ ساحل نقاش پراسرار طور پر بازیاب کرا لیا گیا۔ وزیر داخلہ رحمن ملک‘ برطانوی ہائی کمشن اور ساحل کے اہل خانہ نے بچے کی بازیابی کی تصدیق کر دی ہے۔ پولیس کے مطابق ساحل نقاش کو ڈنگہ کے علاقے چنن سے بازیاب کرایا گیا۔ تاہم پولیس نے بچے کو میڈیا کے سامنے لانے سے انکار کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ساحل نقاش کی بازیابی پر پولیس اور بچے کے اہل خانہ کو مبارکباد دی ہے۔ برطانوی ہائی کمشن کے ترجمان ایڈم تھامس نے ساحل نقاش کی بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ساحل نقاش کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا۔ پاکستانی حکام نے ساحل نقاش کی بازیابی میں بھرپور تعاون کیا۔ ساحل کی بازیابی برطانیہ اور پاکستان دونوں کے لئے خوشخبری ہے۔ ساحل نقاش کے دادا راجہ بشارت نے بچے کی بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے ساحل کی بازیابی کی اطلاع دے دی ہے۔ اغوا کاروں سے متعلق ابھی نہیں بتا سکتے تاہم کوئی تاوان نہیں دیا لیکن بچہ بازیاب ہو گیا ہے۔ ساحل نقاش کو 3 مارچ کو ڈکیتی کی واردات کے بعد اغوا کر لیا گیا تھا اور اغوا کاروں نے ایک لاکھ پاﺅنڈ تاوان طلب کیا تھا۔ وزیر داخلہ رحمان ملک نے بتایا کہ ساحل نقاش کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ میں اہل خانہ کو مبارکباد دیتا ہوں۔ ملزموں نے ساحل نقاش کو ڈنگہ کے قریب گاﺅں چنن میں چھوڑ دیا۔ حالات و واقعات سے لگتا ہے کہ اغوا میں گھر کا بھیدی شامل ہے۔آن لائن کے مطابق صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ ساحل نقاش کے اغوا میں عالمی گروہ ملوث تھا جنہیں دیگر ملکوں کے تعاون سے گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آر پی او راولپنڈی اسلم ترین نے کہا ہے کہ پولیس کو فی الحال برطانوی بچے ساحل کے اغوا میں کسی اہل خانہ کے ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ملا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بچے کی بازیابی بغیر تاوان کے ممکن ہوئی یا نہیں اس حوالے سے معلومات نہیں۔ انہوں نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ برطانوی بچہ ساحل پولیس کے پاس تھا۔ انہوں نے کہا کہ بچہ جلد والدین کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اس سے پہلے بچے کو برطانوی ہائی کمشن کے حوالے کیا جائے گا۔ پولیس کے اندرونی ذرائع کے مطابق ننھے ساحل کو ایک کروڑ روپیہ دے کر بازیاب کروایا گیا ہے جبکہ ملزمان نے لواحقین اور پولیس کو مقام کے بارے میں دو گھنٹے بعد بتایا اس وقت ملزمان علاقہ سے فرار ہو چکے تھے۔ دریں اثناءایک مقامی زمیندار شوکت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ صبح اپنے جنریٹر کے لئے ڈیزل خریدنے نکلے اور انہیں یہ بچہ سکول کے پاس روتا ہوا ملا۔ انہوں نے بتایا کہ بچہ انگریزی یا اردو بول رہا تھا جس کی مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ وہ بچے کو دودھ پلانے کے لئے اپنے ساتھ لے آئے اور سوچا کہ جب سکول کھلے گا تو وہ اس کا پتہ کروائیں گے۔ ان کے مطابق سکول میں ہی پولیس والے بھی آ گئے اور انہوں نے بچے کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ پولیس نے بعد میں شوکت سے بھی پوچھ گچھ کی۔ تاہم انہوں نے اسے تھانے آنے کے لئے نہیں کہا۔ بی بی سی کے مطابق وزیر قانون رانا ثناءنے ایک نجی ٹی وی کو بتایا کہ بچے کی بازیابی کے لئے تاوان کی رقم ادا کی گئی ہے۔ اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بچے کی والدہ عقیلہ نقاش نے بتایا کہ وہ بہت خوش ہیں‘ ساحل کے گھر لوٹنے پر وہ ایک بڑی دعوت کا اہتمام کریں گے۔ دریں اثناءبرطانوی اخبار کے مطابق مغوی بچے کو رہا کرانے کے لئے بھاری رقم بطور تاوان ادا کی گئی‘ پولیس کی تحقیقات کا دائرہ کار سپین تک پھیلا دیا گیا ہے۔ اغوا کرنے والوں کی فون کالز سپین سے بھی کی گئی تھیں۔ پاکستانی پولیس نے ساحل کے والد کے مالی معاملات کی چھان بین شروع کر دی۔ پولیس ساحل کے والد کی طرف سے قرض کی ادائیگی میں تاخیر کے معاملے کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ ساحل کا والد کسی کا 80 ہزار پاونڈ کا مقروض تھا‘ اطلاعات ہیں کہ ساحل کے والد نے 80 ہزار پاونڈ ادا کر کے اپنے بچے کو آزاد کرایا۔
Post New Comment