صدر نے 7 ویں مالیاتی ایوارڈ پر دستخط کردیئے ۔۔ جمہوریت کو مضبوط ہونے کا موقع دیا جائے : زرداری

ـ 17 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size
صدر نے 7 ویں مالیاتی ایوارڈ پر دستخط کردیئے ۔۔ جمہوریت کو مضبوط ہونے کا موقع دیا جائے : زرداری

اسلام آباد (سجاد ترین / خبرنگار خصوصی) صدر زرداری نے کہا ہے کہ دائیں بازو والے تمام لوگ پھر جمع ہو رہے ہیں جھنگ میں سپاہ صحابہ کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنے والوں نے جو بیان دیا اس سے ان کی سوچ واضح ہو رہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ابھی جنگ ”ری ایکٹو“ ہے ”پروایکٹو“ ہو گی۔ پیپلز پارٹی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ اسی ماہ آئینی پیکج پارلیمنٹ میں پیش کرکے کوشش کریں گے کہ منظور کر لیا جائے۔ انہوں نے ایم کیو ایم کا نام لئے بغیر کہا کہ جب میں کراچی میں گیا تو مجھے پارٹی والوں نے بتایا کہ ہمارے 96 کارکنوں کو قتل کر دیا گیا ابھی ”وہ ہمارے ساتھ حکومت میں ہیں“ تو یہ صورتحال ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ لوگ جیلوں میں معاہدے کرکے چلے جاتے ہیں اور پھر واپس آ کر سیاست بھی کرتے ہیں۔ جب میں دبئی گیا تو میری عدم موجودگی میں حکومت کے خلاف سازشوں کی کہانیاں شروع ہو گئیں۔ فوری واپس آ گیا کسی نے مجھے کہا کہ ”آپ کیوں واپس آئے ہو تو میں نے کہا کہ میں حالات کا مقابلہ کروں گا“ انہوں نے کہا کہ ایک ہرن تھا جو بہت پھرتیلا تھا اس کو کوئی پکڑ نہیں سکتا تھا مگر ایک دن ایک شکاری نے اس ہرن کو تیر مار کر زخمی کر دیا اس کا خون نکل آیا شکاری نے ہرن کو پکڑ لیا جس پر شکاری نے ہرن سے پوچھا کہ تم کیسے پکڑے گئے ہو اس پر ہرن نے کہا کہ میرے خون نے میرے ساتھ وفا نہیں کی ورنہ میں نہ پکڑا جاتا میرے ساتھ بھی میرے خون (پارٹی) نے وفا کی تو میں حالات کا مقابلہ کروں گا ہم ذوالفقار علی بھٹو کے ویژن کے مطابق ملک کو ترقی پسند بنائیں گے ہم غریبوں کی حالت تبدیل کریں گے‘ اجلاس میں صدر کو این ایف سی ایوارڈ پر دستخط کرنے پر مبارکباد بھی پیش کی۔
اسلام آباد (ریڈیو نیوز + نیٹ نیوز) صدر آصف علی زرداری نے تاریخی ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی دستاویز پر دستحط کر دئیے ہیں‘ ایوان صدر میں ہونے والی این ایف سی ایوارڈ کی تقریب کے دوران صدر آصف علی زرداری نے این ایف سی ایوارڈ پر دستخط کئے۔ اس کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ جمہوریت کا تحفہ ہے‘ جمہوریت کی بقا کے لئے ضروری ہے کہ اسے وقت دیا جائے۔ مارچ کے آخر تک آئین کو خرافات اور آمرانہ ترامیم سے پاک کر کے قوم کو اور تحفہ دیں گے‘ قومی مفاہمت کی جو پالیسی اپنائی ہے اسی کے تحت قوم کو متفقہ این ایف سی ایوارڈ ملا ہے۔ قومی مالیاتی کمشن پر دستخط کی تقریب میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ‘ سندھ‘ پنجاب اور بلوچستان کے گورنروں نے شرکت کی۔ صدر زرداری نے کہا کہ ساتواں متفقہ این ایف سی ایوارڈ جمہوریت کا بہترین تحفہ ہے‘ این ایف سی ایوارڈ جمہوریت اور عوام کی فتح ہے‘ ایوارڈ سے قومی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا‘ شہید بےنظیر بھٹو کے نظریہ پر عمل کر رہے ہیں‘ بی بی کی سوچ جمہوریت اور قومی دفاع میں ہماری مدد کر رہی ہے‘ جمہوریت کو پنپنے کے لئے مزید وقت درکار ہے‘ وفاق‘ صوبوں اور قوم کو مبارکباد دیتا ہوں‘ مہینے کے آخر میں قوم کو ایک اور خوش خبری دیں گے۔ صدر نے حکومت پنجاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کے تعاون سے ہی قومی مالیاتی ایوارڈ پر اتفاق رائے ممکن ہوا۔ صدر نے ایوارڈ کو موجودہ سیاسی حکومت کی تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوریت، سیاسی جماعتوں اور تمام صوبوں کے ساتھ ساتھ مفاہمت کی پالیسی کی فتح ہے۔ تقریب میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، وفاقی وزرا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے گورنرز اور چاروں وزرائے اعلیٰ کے علاوہ صوبائی وزرا، ارکان پارلیمنٹ اور ممتاز شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے صدر زرداری نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ یہ متفقہ اور تاریخی اقدام اٹھایا گیا جو جمہوریت کے فروغ اور استحکام کی جانب بہت بڑی جست ہے، ہم محترمہ بےنظیر بھٹو شہید کے وژن کے مطابق ایک نئے پاکستان کی تشکیل کیلئے کوشاں ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے جمہوریت بحال ہوئی، ہمیں اس کو پھلنے پھولنے اور مضبوط ہونے کا موقع دینا چاہئے، پاکستان اور اس کے عوام کو موقع ملنا چاہئے۔ صدر نے این ایف سی ایوارڈ کی متفقہ منظوری پر اتحادی جماعتوں بالخصوص صوبہ پنجاب کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس عزم کا فقدان نہیں۔ ہم ثابت کریں گے کہ پاکستان جمہوریت کا واقعی مستحق ہے۔ انہوں نے پوری قوم، وزیراعظم، چاروں صوبوں کے وزراءاعلیٰ، وزارت خزانہ اور این ایف سی کے ارکان کو مبارکباد دیتے ہوئے تاریخی کامیابی پر پوری قوم کی تعریف کی۔ نئے فارمولے کے تحت وفاق اور پنجاب، سندھ اور سرحد نے بلوچستان کی خصوصی ضروریات کو تسلیم کرتے ہوئے بلوچستان کو ایوارڈ کے پہلے سال میں صوبائی پول سے 83 ارب روپے (9.09 فیصد) مہیا کرنے پر اتفاق کیا۔ صدر نے کہا کہ دستاویز پر دستخط سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور جمہوریت اہم امور کو انجام دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور یہ قومی یکجہتی کی عمدہ مثال ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی عزم سے اعتماد کے فقدان کو دور کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی حکومت رضا کارانہ طور پر منقسم پول میں سے صوبوں کا حصہ بڑھانے کیلئے اپنے حصے سے دستبردار ہوئی۔ بڑے صوبے نے اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے لچک اور مصالحت کا مظاہرہ کیا۔ آبادی کی بنیاد پر 82 فیصد، غربت 10.3 فیصد، محصولات کی وصولی 5 فیصد (2.5 فیصد ریونیو کی پیداوار، 2.5 فیصد ریونیو کی وصولی) جبکہ رقبہ کے لحاظ سے 2.7 فیصد حصہ دیا جائے گا۔ یہ ایوارڈ صوبوں کی مالیاتی خود مختاری کو یقینی بناتا ہے اور سب کیلئے سودمند ہے۔ وفاق کو درپیش بحران اعتماد کا بحران رہا ہے۔ اس فقدان کی تاریخی وجوہات رہی ہیں۔ صوبہ سرحد کو خالص ہائیڈل منافع کی ادائیگی گیس ڈویلپمنٹ سرچارج کی تقسیم اور سروسز پر جی ایس ٹی کے نفاذ جیسے مسائل سے وفاق اور وفاقی اکائیوں کے درمیان ماضی میں اعتماد کا فقدان پیدا ہوا۔ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبہ سرحد کو 110 ارب روپے خالص ہائیڈل منافع جات میں اس کا حصہ کے طور پر ادا ہونگے اور 10 ارب روپے موجودہ مالی سال میں پہلے ہی ادا کر دیئے گئے ہیں جبکہ 25 ارب روپے سالانہ آئندہ چار برسوں میں ادا کئے جائیں گے۔ بلوچستان کی خصوصی ضروریات کا ادراک کرتے ہوئے ایوارڈ کے پہلے سال میں منقسم پول میں سے صوبائی حصہ سے 83 ارب روپے بلوچستان کو دیئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس رقم میں کسی بھی شارٹ فال کو وفاقی حکومت اپنے وسائل سے پورا کرے گی۔ وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبے کی حیثیت سے سرحد / پختونخواہ کے کردار کو تسلیم کیا۔ منقسم پول ٹیکسوں کی خالص آمدنی کا ایک فیصد دہشت گردی کیخلاف جنگ کیلئے اضافی وسائل کے طور پر صوبے کو دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے بعض حصے گمراہ ہوئے انہیں غلط استعمال کیا گیا لیکن ہم ان پر قابو پانے کیلئے پرعزم ہیں۔ گیس ڈسٹری بیوشن سرچارج کے معاملے کو نظرثانی فارمولے کے تحت حل کر لیا گیا ہے۔ بلوچستان حکومت کیلئے جی ڈی ایس نظرثانی فارمولے کی بنیاد پر 2002ءسے موثر وضع کیا جائے گا اور وفاقی حکومت صوبے کو ادائیگی کرے گی۔ وفاقی حکومت نے 1991ءسے پہلے جی ڈی ایس کے واجبات کی ادائیگی پر اتفاق کیا یہ 120 ارب روپے کی رقم ہے جو 12 سال میں ادا کی جائے گی۔ سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس کا نفاذ صوبوں کو دیدیا گیا ہے۔ منقسم پول میں صوبوں کا حصہ 56 فیصد تک بڑھایا گیا ہے اور منقسم پول کی تقسیم کیلئے کثیر الجہتی معیار کو اب آبادی کے علاوہ دیگر عوامل کے طور پر مدنظر رکھا جائے گا۔ غربت، محصولات کی وصولی، معکوس آبادی جیسے عوامل کو اب آبادی کے علاوہ مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پی پی پی کے شریک چیئرمین کی حیثیت سے یہ کہتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ ان چار ایوارڈز میں سے دو ایوارڈز یعنی 1974ءکا ایوارڈ اور موجودہ 2009ءکے ایوارڈ کا اعلان پی پی پی کی حکومتوں نے کیا۔ این ایف سی ایوارڈ پر بات ختم نہیں ہوئی، ہم اس سے بھی زیادہ کچھ کرینگے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور ٹیکسوں کی جی ڈی پی کے لحاظ سے شرح تناسب کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک کو آگے لیکر جانے کیلئے مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔ نئے این ایف سی ایوارڈ کے تحت ایوارڈ کے پہلے سال منقسم پول کے صوبائی حصے کو 47.5 فیصد سے 56 فیصد اور ایوارڈ کے بقیہ سالوں میں 57.5 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔ بلوچستان کی خصوصی ضروریات اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبہ پنجاب 51.74 فیصد، سندھ 24.55 فیصد، سرحد 14.62 فیصد اور بلوچستان 9.9 فیصد حاصل کرے گا۔ پنجاب نے 1.27 فیصد، سندھ نے 0.47 فیصد اور سرحد نے 0.2 فیصد چھوڑا ہے جبکہ بلوچستان نے زیادہ حاصل کیا ہے۔ وزیراعظم گیلانی نے قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا اس سے پاکستان میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔ یہ جمہوریت کا حقیقی ثمر ہے اور سیاسی قیادت میں اس ایوارڈ کے لئے بصیرت اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ منتخب جمہوری حکومت نے اقتدار میں آتے ہی ساتواں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ ازسر نو تشکیل دیا۔ اس ایوارڈ سے صوبوں اور وفاق کے درمیان اور صوبوں کے درمیان بداعتمادی میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاق نے قابل تقسیم آمدنی کا 56 سے 57.5 فیصد صوبوں کو دینے میں انتہائی فراخدلی کا مظاہرہ کیا اور صوبوں کو ان کی اقتصادی ترقی کیلئے بے مثال خودمختاری دی۔ انہوں نے صدر، سابق وزیر خزانہ، وفاقی وزرا، گورنرز، وزرائے اعلیٰ، چاروں صوبوں کے وزرا خزانہ اور ان کی ٹیموںکو اس تاریخی کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ کمشن آرڈر پر دستخط اور آئندہ مالی سال سے اس پر عملدرآمد سے اس کے ثمرات لوگوں تک پہنچنا شروع ہو جائیں گے جس سے ان کی زندگیوں میں بہتری آئے گی اور غربت میں کمی ہو گی۔ صدر آصف علی زرداری کے دستخطوں کے بعد ساتواں قومی مالیاتی کمشن ایوارڈ یکم جولائی 2010ءسے شروع ہو جانے والے مالی سال میں نافذ العمل ہو جائے گا۔ نئے ایوارڈ کے مطابق صوبوں کو قابل تقسیم محاصل کے پول سے 57.7 فیصد جبکہ وفاق کو 42.3 فیصد حصہ ملے گا۔ 9.1 فیصد بلوچستان کو خصوصی طور پر دیا جائے گا ایوارڈ کی چھتیس سالہ تاریخ میں پہلی بار آبادی کو 100 فیصد کی بجائے 82 فیصد حصہ دیا گیا ہے۔ صوبوں کو پانچ فیصد ریونیو کی مد میں اور 2.7 فیصد رقبے سے حاصل ہونے والے وسائل سے ملے گا۔ 10.3 فیصد چھوٹے صوبوں کو غربت کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ اس ایوارڈ پر اتفاق رائے کے لئے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے صوبوں کے ساتھ کئی مذاکرات کئے تھے اور دسمبر 2009ءکے آخر میں چاروں صوبوں نے گوادر میں اس ایوارڈ پر دستخط کئے تھے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions