چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس غلام ربانی اور جسٹس خلیل الرحمان رمدے پر مشتمل تین رکنی بنچ نے اس کیس کی سماعت کی۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خواجہ حارث نے عدالت کوبتایا کہ اس حادثہ کے ایک ملزم علی ریاض ملک نے سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت کرالی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ واقعہ راولپنڈی میں ہوا ہے اورضمانت سندھ ہائیکورٹ سے کیوں کرائی گئی،جبکہ جسٹس خلیل الرحمان رمدے کا کہنا تھا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، قانون سے کوئی بالا تر نہیں، کوئی باپ ہو یا بیٹا اسے عدالت میں پیش ہوکر اپنا موقف بیان کرنا چاہیئے۔ ملک بچانے کے لیے سب کو قانون کا احترام کرنا ہو گا۔ ڈی آئی جی راولپنڈی میجر ریٹائرڈ مبشر نے عدالت کو بتایا کہ سیکرٹری داخلہ تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ جو بھی تحقیقات میں رکاوٹ ہے عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے۔ عدالت نے مزید سماعت اٹھائیس جنوری تک ملتوی کر دی۔
Post New Comment