ایٹمی بجلی گھروں پر پابندی کے خاتمے‘ یتیم خانہ چوک میں اوورہیڈ برج کی تعمیر سمیت 3 قراردادیں منظور

ـ 17 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (کلچرل رپورٹر + خبرنگار + سٹاف رپورٹر + نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی میں گزشتہ روز انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمشن کی طرف سے پاکستان پر ایٹمی بجلی گھروں کی خریداری کے حوالے سے لگائی جانے والی پابندیوں کے خاتمے کے مطالبے‘ یتیم خانہ چوک میں اوورہیڈ برج یا انڈرپاس کی تعمیر سمیت مفادعامہ کی 3 قراردادیں کثرت رائے سے منظور کر لی گئیں۔2 قراردادیں اور دو تحاریک ملتوی کر دی گئیں۔ وقفہ سوالات میں گزشتہ روز بھی وزیر جنگلات کو ارکان کے سوالات کا جواب دینے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ احمد اولکھ کے جوابات کا 75 فیصد حصہ ارکان کو سمجھ ہی نہیں آتا تھا جس پر ایوان میں قہقہے لگتے رہے۔ مقدس اوراق نہروں کے گندے پانی سے نکلنے پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا۔ تفصیلات کے مطابق رانا محمد افضل نے اپنی قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ امریکہ، فرانس، برطانیہ اور دیگر ممالک کی جانب سے نیو کلیئر پاور پلانٹ پر پابندی کو فورا ختم کروایا جائے جبکہ پاکستان انہی ممالک کی دہشت گردی کے خلاف جنگ راہ راست لڑ رہا ہے جبکہ پابندی لگانے والے ممالک خود نیوکلیئر پاور پلانٹ سے بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ پاکستان نیوکلیئر بجلی گھروں سے صرف 1.2 فیصد بجلی پیدا کرتا ہے جس سے بجلی کا بحران پیدا ہوا ہے حالانکہ پن بجلی کے بعد بجلی پیدا کرنے کا یہ سستا ترین ذریعہ ہے۔ دوسری قرار داد میں نسیم ناصر خواجہ نے کہا کہ سیالکوٹ میں معروف صوفی حضرت امام الحقؒ کے روضہ مبارک سے ملحقہ میدان کو تفریحی پارک بنانے اور اس کےلئے فنڈز کی منظوری دی جائے ۔ انہوں نے نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ ہر جمعرات کو میدان میں میلے کی آڑ میں غیر شائستہ و غیر قانونی سرگرمیاں ہوتی ہیں جس سے مزار کا تقدس مجروح ہوتا ہے اور ٹریفک کا بھی نظام درہم برہم رہتا ہے۔ ماجدہ زےدی نے چوک یتیم خانہ میں جلد از جلد انڈرپاس یا اوورہیڈ برج بنانے کی قرارداد پیش کی۔ حکومتی رکن شیخ علاﺅ الدین نے لاہور ہائیکورٹ کا نام تبدیل کرکے پنجاب ہائیکورٹ رکھنے کیلئے قرارداد پیش کی جسے ایک ہفتہ کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔ قبل ازیں رانا ثناءاللہ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ سے بھی مشاورت ضروری ہے۔ شیخ علاﺅ الدین کی ہی سی ایس پی افسران کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے حوالے سے تحریک التوائے کار بھی ملتوی کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں 42 سیکرٹریوں اور 9 کمشنروں میں کوئی بھی بی سی ایس نہیں‘ پنجاب کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھنے اور ان کا علاج نہ ہونے کے حوالے سے ثمینہ خاور حیات کی تحریک نمٹا دی گئی۔ طاہر چودھری کی نشتر میڈیکل کالج کو میڈیکل یونیورسٹی کا درجہ دینے‘ حاجی ذوالفقار علی کی پرائمری سکول ٹیچرز کے لئے کورسز‘ ٹریننگ کا اہتمام کرنے‘ زیب جعفر کی انڈین پریمیئر لیگ کی طرف سے پاکستانی کرکٹرز کی توہین کے حوالے سے قراردادیں محرکین کی ایوان میں عدم موجودگی کے باعث نبٹا دی گئیں۔ رکن اسمبلی خالد جاوید اصغر گھرال کی 25 ایکڑ تک زرعی اراضی کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے اور فرح دیبا کی سینما گھروں پر پاکستانی فلموں کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کی قرارداد ملتوی کر دی گئیں۔ وقفہ سوالات میں احمد علی اولکھ کے سامنے فائلوں کے ڈھیر لگے تھے۔ انہیں آفیسرز گیلری سے چٹیں بھی بھیجی گئیں۔ لکڑی چوری کے مشکل سوالوں کا جواب دینے میں اس قدر مشکل پیش آئی کہ انہوں نے ایک سرکاری ممبر کو اشارہ کرکے اور ”بہہ جا“ کہہ کر مزید سوالات سے روک دیا۔ مولانا الیاس چنیوٹی‘ فوزیہ بہرام اور سیمل کامران نے احتجاج کیا کہ نہروں میں گرائے جانیوالے سیوریج کے پانی سے قرآن پاک کے اوراق نکل رہے ہیں جس سے عوام میں سخت غم و غصہ پایا جا رہا ہے جس پر ڈپٹی سپیکر نے وزیر قانون کو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے فوری طور پر اقدامات کریں کیونکہ یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ ثمینہ خاور حیات نے نشاندہی کی کہ پنجاب پولیس میں جن ریٹائرڈ فوجیوں کو بھرتی کیا گیا ہے انہیں تین ماہ سے تنخواہ کی ادائیگی نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے ان کی مالی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے جس پر ڈپٹی سپیکر نے صوبائی وزیر قانون کو ہدایت کی کہ وہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کریں۔ راجہ ریاض نے کہا ہے کہ گزشتہ ہونیوالی بارشوں سے پانی کی مقدار بڑھ گئی ہے اور جو کمی صوبے کو بارشوں کے باعث تھی اب وہ بہتر ہو گئی ہے۔ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن گارنٹی دے کہ کسی کی گردن نہ کٹے گی تو حکومت بسنت کی اجازت دینے کو تیار ہے۔ پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر پیپلز پارٹی کے رکن حسن مرتضی ایوان سے احتجاجاً واک آﺅٹ کر گئے۔ قبل ازیں پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے حسن مرتضی نے کہا کہ دہشت گردی کے باعث پنجاب میں میلے ٹھیلے‘ جشن بہاراں اور پتنگ بازی ختم ہو چکی ہے اور سکول بند ہیں۔ یہاں صر ف2500 روپے کے حصول کیلئے حاضری نہیں لگاتے ہیں ہم نے بات بھی کرنی ہوتی ہے۔ حکومت گارنٹی مانگتی ہے کہ بسنت میں کوئی گردن نہیں کٹے گی مگر حکومت بھی یہ گارنٹی دے کہ کوئی بم دھماکہ‘ ٹارگٹ کلنگ نہیں ہوگی۔ کوئی مسجد‘ کوئی سکول ویران نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بسنت کے موقع پر موٹر سائیکل پر پابندی لگا دے۔ یہ سب بکواس ہے کہ بسنت ہندووانہ رسم ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions