سینٹ میں ہنگامہ آرائی ۔۔۔ نوازشریف حالات خراب کررہے ہیں‘ پیپلز پارٹی ۔۔ وعدے پورے نہیں کئے گئے ‘ مسلم لیگ ن

ـ 17 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (نامہ نگار+ لیڈی رپورٹر) ایوان بالا کے اجلاس میں گذشتہ روز اس وقت گرما گرمی شروع ہوگئی جب پیپلز پارٹی کے سینیٹر صابر بلوچ نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کے متعلق نکتہ اعتراض پر بات کی اسی حوالے سے چیئرمین سینٹ فاروق ایچ نائیک اورمسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید کے درمیان تلخ کلامی‘ چیئرمین سینٹ نے پرویز رشید کو ڈانٹ پلا دی اور سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آپ معذرت کریں پھر بات ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے سینیٹر صابر بلوچ نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ نواز شریف ملک کے حالات خراب کر رہے ہیں‘ جان بوجھ کر خود کو عدلیہ کے معاملے میں ملوث کر رہے ہیں انہیں ججز کی تقرری کے حوالے سے پریس کانفرنس کا کوئی حق نہیں پہنچتا جس پر مسلم لیگ (ن) کے اسحاق ڈار نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور ان پر شدید تنقید کی اور کہا کہ پیپلزپارٹی وعدے پورے نہیں کر رہی‘ ابھی تک سترہویں ترمیم ختم نہیں کی گئی۔ اسحاق ڈار کے بولنے کے بعد فوراً (ن) لیگ کے سینیٹر پرویز رشید اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے اور بولنا چاہا جس پر چیئرمین سینٹ نے کہا کہ آپ کی جانب سے اسحاق ڈار نے جواب دیدیا ہے اب آپ بیٹھ جائیں جس پر پرویز رشید نے کہاکہ نہیں میں بات کرونگا۔ چیئرمین نے کہا کہ نہیں آپ بات نہیں کرسکتے جس پر پرویز رشید نے اصرار کیا چیئرمین سینٹ نے کہا کہ ان کا مائیک بند کر دیں اور آپ بیٹھ جائیں۔ پرویز رشید نے کہا کہ آپ کیا کریں گے میں نہیں بیٹھوں گا جس پر چیئرمین سینٹ نے کہا کہ آپ کا رویہ غلط ہے اور اب آپ مجھ سے معذرت کریں۔ جس پر پرویز رشید نے معذرت کر لی اور چیئرمین سینٹ نے نوازشریف کیخلاف الفاظ کارروائی سے حذف کر دئیے۔ دریں اثناءپروفیسر خورشید نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ باجوڑ میں سابق رکن اسمبلی ہارون الرشید کے گھر پر بمباری کی گئی ہے۔ صاحبزادہ ہارون الرشید ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس بمباری میں انکا گھر مکمل تباہ ہو گیا ہے اور انکے متعدد عزیز اس میں شہید ہوئے ہیں یہ کھلی ریاستی دہشت گردی ہے۔ انہوں نے واقعہ کیخلاف تحریک التواءبھی جمع کرائی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ تسنیم قریشی نے کہاکہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے اسکی مکمل تحقیقات کرائی جائیں گی۔ پی پی پی کے سینیٹر جہانگیر بدر نے کہا کہ مفاہمت کی پالیسی پیپلز پارٹی کی پالیسی ہے جو شخص ایوان میں موجود نہ ہو اس کے خلاف بات کرنا اچھی بات نہیں ہم ایسے عمل کو ہمیشہ روکیں گے اور اس کی مذمت کرتے ہیں۔ سب ایک دوسرے کی عزت نفس کا خیال رکھیں۔ سینیٹر عبدالرحیم مندوخیل نے کہا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں اس لیے اس نظام کو ڈی ریل نہیں ہونا چاہیے۔ آئینی اصلاحات کی کمیٹی کو خودمختار طریقے سے اپنا کام کرنے دیا جائے۔ سینیٹر طارق عظیم نے کہا کہ یوٹیلٹی سٹورز پر چینی کے حصول کے لیے شناختی کارڈ کی شرط فوری ختم کی جائے جبکہ چیئرمین سینٹ نے فاٹا سیکرٹریٹ اور وزارت سرحدی امور کے درمیان رابطے کے فقدان پر قائد ایوان نیئر حسین بخاری کو معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لانے کی ہدایت کر دی جبکہ فاٹا سیکرٹری سے متعلق سوالات آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دئیے گئے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ تسنیم قریشی نے بتایا کہ جعلی دستاویزات پر 92 ہزار سے زائد افغان مہاجرین نے کمپیوٹرائزڈ شناختی بنوائے ہیں جن میں سے82 ہزار سے زائد شناختی کارڈ بلاک کر دیئے ہیں جبکہ باقی کے خلاف بھی کارروائی جاری ہے ،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے دو لاپتہ بچوں کی ڈپلومیٹک چینل کے ذریعے تلاش جاری ہے، وقفہ سوالات کے دوران وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے ڈاکٹر اسماعیل بلیدی کے سوال کے جواب میں کہا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران ریلوے میں چھوٹے گریڈ میں سولہ افراد کو بھرتی کیا گیا ہے ،انہوں نے کہا کہ ریلوے کو مالی سال2008-09 ءکے دوران18 ہزار609ملین روپے کا خسارہ ہوا ہے۔دریں اثناءسینٹ کو بتایا گیا ہے کہ حکومت نے جنگ اور جیو گروپ کے اشتہارات بند نہیں کئے اور اس گروپ کو دوسرے اخبارات کی نسبت ایک ارب 59 کروڑ 90 لاکھ روپے کے زیادہ اشتہارات دیئے گئے ہیں۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات سید صمصام علی بخاری نے سینیٹر طلحہ محمود اور دیگر ارکان کے سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ سرکاری اشتہارات انہیں اخبارات و جرائد کو دیئے جاتے ہیں جو سینٹرل میڈیا لسٹ پر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ اور جیو گروپ کو پالیسی کے مطابق اشتہارات مل رہے ہیں اور اس گروپ کے اشتہارات بند نہیں کئے گئے۔وزیر مملکت برائے دفاع ارباب محمد طاہر نے بتایا کہ پی آئی اے کے نیویارک اور پیرس میں 2ہوٹل مطلوبہ قیمت نہ ملنے کی وجہ سے فروخت کرنیکا فیصلہ موخر کر دیا گیا۔ سینیٹر زاہد خان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کلاشنکوف اور ہیروئن کا کلچر ضیاءدور میں ہمارے ملک میں آیا قبائل موجودہ صورتحال کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلیوں اور وزیرستان والوں پر جہادیوں کو یہاں لانے کی ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکتی، اس کے ذمہ دار جنرل پرویز مشرف تھے، پختون دہشت گرد نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت مجرموں اور دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کرے۔سینیٹر عبدالرشید نے کہا کہ بد امنی کے واقعات پر پوری قوم مضطرب ہے، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ واقعات سے شہریوں کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سینٹ کا اجلاس آج شام چار بجے تک ملتوی ہو گیا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions