خیبرپختونخوا میں امدادی کیمپوں سے متاثرین سیلاب کی اپنے علاقوں کو واپسی آج بھی جاری ہے ۔ دوسری جانب بعض متاثرہ علاقوں میں حکومتی امداد نہ پہنچنے کے باعث لوگ سحری و افطاری سے بھی  محروم ہیں

ـ 17 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size
خیبرپختونخوا میں امدادی کیمپوں سے متاثرین سیلاب کی اپنے علاقوں کو واپسی آج بھی جاری ہے ۔ دوسری جانب بعض متاثرہ علاقوں میں حکومتی امداد نہ پہنچنے کے باعث لوگ سحری و افطاری سے بھی  محروم ہیں

سیلاب زدہ علاقوں سے ہزاروں لوگ پشاورکے مختلف سکولوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں جوصوبائی انتظامیہ کی جانب سے نوٹس ملنے کے بعد اپنے گھروں کو واپس جارہے ہیں ۔ دوسری جانب نوشہرہ، چارسدہ ، ڈیرہ اسماعیل خان اورسوات کے متاثرہ علاقوں میں پہلے سے موجود لوگ امدادی کارروائیوں میں تاخیر کی وجہ سے مشکلات سے دو چارہیں ۔ ناقص پانی پینے کی وجہ سے اذا خیل کیمپ میں بتیس افراد ہیضے کے مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں جنہیں طبی امداد دی جارہی ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں  ہیضہ ، جلدی امراض اور دیگر بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ متاثرین نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں اپنی جیب سے خیمے خریدنے پڑرہے ہیں۔ رسال پور، مصری بانڈہ اور امان گڑھ میں لوگ کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبورہیں ۔ سوات کی تحصیل کبل اور مٹہ میں چھ لاکھ افراد تاحال محصور ہیں جن تک اشیائے خوردونوش نہیں پہنچ سکیں۔ پاک فوج نے چکدرہ کے مقام پر عارضی پل تعمیر کرکے پیدل آمدورفت بحال کردی ہے ۔ ادھر ڈیرہ اسماعیل خان کے بیشتر علاقوں میں حکومتی امداد نہ ملنے  کیوجہ سے لوگ سراپا احتجاج ہیں ۔ اس علاقے میں  اشیائے خوردونوش اور صاف پانی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے متاثرین روزے جیسے مذہبی فریضے کی ادائیگی سے بھی محروم ہیں۔ بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی توان علاقوں میں شرح اموات میں اضافہ ہوسکتاہے۔

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions