معروف سکالر‘ ماہر تعلیم‘ شاعر‘ ادیب پروفیسر پریشان خٹک انتقال کر گئے

حوالہ : بیورو رپورٹ + اے پی پی ـ 17 اپریل ، 2009
  • Adjust Font Size

پشاور (بیورو رپورٹ + اے پی پی) معروف سکالر‘ ماہر تعلیم‘ شاعر‘ ادیب‘ پروفیسر ڈاکٹر پریشان خٹک دل کا دورہ پڑنے سے 77 برس کی عمر میں اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے چار بیٹے اور دو بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔ ان کے اہلخانہ کے ذرائع کے مطابق ان کا جنازہ آج صبح گیارہ بجے مکان نمبر 29‘ گلی نمبر 2‘ ای ون‘ فیز ون‘ حیات آباد پشاور سے اٹھایا جائیگا۔ پریشان خٹک 10دسمبر1932ء کوضلع کرک کے علاقہ غنڈی میرخیل میں پیدا ہوئے وہ گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان اور آزاد کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر،یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے چیئرمین اوروزیراعظم آزادکشمیرکے مشیر‘ سائوتھ ایشین فورم کے صدربھی رہ چکے ہیں پریشان خٹک نے متعدد کتابیں تصنیف کیںجن میں ’’پشتوقوم‘‘ کے نام سے لکھی گئی مشہورکتاب کے علاوہ اردوزبان میںاٹوٹ لسانی رابطہ کے نام سے کتاب شامل ہے اس کے علاوہ انہیں یہ انفرادی اعزازبھی حاصل ہے کہ انہوںنے انتھک محنت کے بعدپشتوادبیات کی فہرست مرتب کی انہیںان کی ادبی خدمات کے اعتراف میںحکومت پاکستان نے ’’تمغہ حسن کارکردگی‘‘ سے نوازاپریشان خٹک مختلف سیاسی جماعتوںکے ساتھ وابستہ بھی رہے پروفیسر پریشان خٹک پاک فوج کے ریٹائرڈ میجر خوشحال خٹک اور پشاور ہائی کورٹ بار کے سابق جنرل سیکرٹری بہلول خٹک ، پروفیسر شہباز خٹک اور ڈاکٹر جاویدخٹک کے والد جبکہ خیبر میڈیکل کالج کے وائس پرنسپل ڈاکٹر اعجاز خٹک کے چچا تھے۔ ڈاکٹر پریشان خٹک قومی خدمات کے حوالے سے متاثر کن اور بہترین ریکارڈ رکھتے ہیں۔ اپنی پوری زندگی میں وہ متعدد مواقع پر تعلیم اور پشتو لٹریچر کے فروغ کے حوالے سے کلیدی عہدوں پر رہے ہیں۔ وہ پشاور یونیورسٹی میں پشتو ڈیپارٹمنٹ اور پشتو اکیڈمی کے چیئرمین‘ اباسین آرٹس کونسل کے سینئر نائب صدر نیشنل لینگوئج اتھارٹی کے چیئرمین اور پاکستان اکادمی ادبیات کے چیئرمین رہے ہیں۔ وہ یونیسکو کے 53 رکن ممالک کے تعلیم کے حوالے سے چیئرمین بھی رہے ہیں۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پروفیسر پریشان خٹک کی وفات پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی پیغام میں وزیراعظم نے غم زدہ خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی روح کے لئے ایصال ثواب کے لئے دعا کی اور اللہ عزوجل سے دعا کی ہے کہ وہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ان کے خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پریشان خٹک اعلی پائے کے محقق اور ماہر تعلیم تھے جنہوں نے تعلیم کے میدان میں اعلی خدمات سرانجام دیں۔ تعلیم کے فروغ میں ان کی اعلی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔
پریشان خٹک

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions