’’بیرونی قرضوں میں اضافہ سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے‘‘

ـ 16 نومبر ، 2009
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (اے پی پی) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر زاہد مقبول نے کہا ہے کہ بیرونی قرضوں میں غیر ضروری اضافہ کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، حکومت بیرونی قرضوں پر انحصار کرنے کی بجائے ملکی وسائل کو متحرک کرنے کی کوششیں تیز کرے۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجر برادری کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زاہد مقبول نے کہا کہ جون 2009ء کے اختتام تک پاکستان کا بیرونی قرضہ 52.83 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ آئی ایم ایف نے مالی سال 2015-16ء تک پاکستان کا بیرونی قرضہ 75 ارب ڈالر تک پہنچنے کا عندیہ دیا ہے جو ملک کے اقتصادی منیجرز کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک سال کے دوران پاکستان کے بیرونی قرضوں میں 6.67 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بیرونی قرضوں میں اسی رفتار سے اضافہ ہوتا رہا تو آنے والے وقتوں میں معیشت پر اس کے سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔ زاہد مقبول نے کہا کہ بیرونی قرضوں سے نجات کا واحد اور بہتر طریقہ ملکی وسائل کو متحرک کرنا اور غیر ترقیاتی و غیر ضروری اخراجات کو کنٹرول کرنا ہے تاکہ ترقیاتی کاموں پر وسائل خرچ کرکے معیشت کی ترقی کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions