اسلام آباد (ریڈیو نیوز + وقت نیوز + ایجنسیاں) پاکستان اور امریکہ نے غذائی اشیا کی وافر فراہمی کو یقینی بنانے‘ تیز تر اقتصادی ترقی‘ غربت کے خاتمے‘ دیہات میں روزگار بڑھانے سمیت پاکستان کے زرعی شعبہ کو جدید بنانے کے لئے 11 شعبوں پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں منگل کو پاکستان امریکہ سٹرٹیجک فریم ورک کے تحت زراعت کے بارے میں سٹرٹیجک ڈائیلاگ کے تیسرے اجلاس میں غور کیا گیا۔ سیکرٹری خوراک و زراعت جنید اقبال اور امریکہ کی ڈپٹی انڈر سیکرٹری ڈارسی ویٹر نے اپنے اپنے وفد کی نمائندگی کی۔ اجلاس کے اختتام پر جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں جانب نے زرعی شعبہ میں شرح نمو کیلئے تحقیق اور زرعی شعبہ کے ساتھ تعاون میں اضافہ پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں آئندہ کے تعاون کیلئے جن شعبوں کی نشاندہی کی گئی ان میں فصلوں خاص طور پر گندم اور کپاس کی پیداوار میں اضافہ، جانوروں اور پودوں کی بیماریاں، ڈیری ڈویلپمنٹ، باغبانی، آموں سمیت پاکستانی مصنوعات کیلئے منڈی تک رسائی، ریسرچ ڈویلپمنٹ اور واٹر مینجمنٹ شامل ہیں۔ ترجمان امریکی سفارتخانہ کے مطابق اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور امریکہ زرعی تحقیق میں تعاون کو مستحکم کریں گے۔ زرعی شعبے میں معاشی گروتھ کے لئے نجی شعبہ کی حمایت کی جائے گی اور تعاون کو وسعت دی جائے گی۔ دونوں ممالک پانی کے انتظام کو بہتر بنانے اور تحقیق کی ترقی کو وسعت دینے پر بھی متفق ہوئے ہیں۔ وقت نیوز کے مطابق پاکستان اور امریکہ نے 11 شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا۔ وزیر خوراک نذر محمد گوندل اور امریکی ڈپٹی انڈر سیکرٹری نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر نذر محمد گوندل نے کہا کہ امریکہ اب پاکستان سے آم بھی خریدے گا۔ امریکی نمائندہ نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مشترکہ منصوبوں سے غربت کا خاتمہ اور فصلوں کی پیداوار بڑھے گی۔ منصوبوں پر عملدرآمد سے مویشیو ں اور فصلوں کی بیماریوں کی روک تھام میں مدد ملے گی‘ ہلیری کلنٹن کے دورے کے بعد منصوبوں پر عملدرآمد کو حتمی شکل دی جائے گی۔
Post New Comment