کراچی (نیوز ایجنسیاں) سندھ اسمبلی نے بلدیاتی نظام میں ترامیم سے متعلق ترمیمی بل 2010ءمتفقہ طور پر منظور کر لیا ہے، سندھ میں بلدیاتی ادارے تحلیل کرکے تمام ناظمین کی جگہ سرکاری ایڈمنسٹریٹرز تعینات کرنے کے علاوہ 4 ماہ کے اندر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرانے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے، بل کی منظوری کے بعد گورنر سندھ کے دستخط کے بعد سندھ حکومت کے نوٹیفکیشن سے تمام بلدیاتی ادارے تحلیل کر کے شہری ناظم، ضلعی ناطمین، تحصیل اور ٹاﺅن ناظمین، یوسیز ناظمین کو ہٹا کر سرکاری افسران کو ایڈمنسٹریٹرز تعینات کیا جائے گا، سندھ حکومت کو بل کی منظوری کے بعد ناظمین کی جگہ سرکاری افسران کو ایڈمنسٹریٹرز تعینات کرنے کے اختیارات مل گئے۔ گذشتہ روز سندھ اسمبلی کا اجلاس سپےکر نثار احمد کھوڑو کی صدارت مےں ہوا۔ وقفہ سوالات کے بعد صوبائی وزےر بلدےات آغا سراج درانی نے بلدیاتی نظام 2001ءمےں ترامےم کرنے کے سندھ بلدیاتی نظام ترمیمی بل 2010ءاےوان مےں منظوری کے لئے پےش کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی نظام کی 4 سالہ مدت پوری ہو چکی ہے اس لئے نظام مےں ترامےم کرکے ناظمےن کی جگہ اےڈمنسٹرےٹرز کو مقرر کےا جائے تاکہ 4 ماہ کے اندر شفاف طرےقے سے جماعتی بنےادوں پر انتخابات کرائے جائےں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ےہ چاہ رہے تھے کہ ےہ بل پےش نہ ہو اور ڈکٹےٹر شپ کا نظام چلتا رہے مگر وہ کامےاب نہیں ہوئے۔ اس بل کے بعد اےڈمنسٹرےٹرز مقرر کر کے 120 دن مےں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنےادوں پر کرائےں گے اور انتخابات کی تےاری کے لئے پورے صوبے کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ انتخابات مےں حصہ لےں۔ بل کے تحت لوکل گورنمنٹ آرڈےننس کی شق نمبر 153 مےں ترمےم کی گئی ہے جس کے تحت اب بلدیاتی انتخابات جماعتی بنےادوں پر 4 ماہ مےں کرائے جائےں گے اور آزاد امےدوار بھی بلدیاتی انتخابات مےں حصہ لے سکےں گے۔ لوکل گورنمنٹ آرڈےننس کی شق نمبر 179 مےں ترمےم کی گئی ہے جس کے تحت شہری، ضلعی حکومتوں، تحصےل اور ٹاون مےونسپل اےڈمنسٹرےشن، یونین اےڈمنسٹرےشن، ضلعی کونسلز، تحصےل اور ٹاون کونسلز اور یونین کونسلز اس تاریخ سے تحلےل ہو جائےں گی جس تاریخ سے سندھ حکومت نوٹیفکےشن جاری کرے گی۔ بل پر بحث کرتے ہوئے صوبائی وزےر مراد علی شاہ نے کہا کہ موجودہ ناظمےن کی نگرانی مےں شفاف انتخابات نہیں ہو سکتے اور ہم شفاف انتخابات کرانا چاہتے ہےں اس لئے ناظمین کی جگہ اےڈمنسٹرےٹرز ضروری ہےں۔ صوبائی وزےر قانون اےاز سومرو نے کہا کہ موجودہ حکومت شفاف انتخابات کرائے گی اس لئے ناظمےن کو ہٹا کر اےڈمنسٹرےٹرز مقرر کئے جا رہے ہےں۔ بلدیاتی انتخابات 120 دن کے اندر ہوں گے اور جماعتی بنےادوں پر انتخابات کرائے جائےں گے جس مےں آزاد امےدوار بھی حصہ لے سکےں گے۔ مسلم لےگ (ق) کے شہریار مہر‘ اے این پی کے مسرور جتوئی نے کہا کہ سندھ کے وسیع تر مفاد مےں اس بل کی حماےت کرتے ہےں‘ متحدہ قومی موومنٹ کے رکن ڈاکٹر صغےر احمد نے کہا کہ 2001ءکے بلدیاتی نظام کو بھی بلدیاتی انتخابات مےں مدنظر رکھا جائے اور ترامےم مےں 2001ءکے بلدیاتی نظام کو مدنظر رکھ کر بھی ترامےم کی جائے۔ قائد حزب اختلاف جام مدد علی نے کہا کہ اس بل کی حماےت کرتے ہےں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات شفاف ہونے چاہئےں اور اس نظام مےں وہ ترامےم کی جائےں جو سندھ کے بہتر مفاد مےں ہوں۔
Post New Comment