نیب کو نہیں مانتا : بابر اعوان ۔۔۔ حارث ملز سے ایک لاکھ ڈالر اور 30 لاکھ روپے فیس لی : شریف پیرزادہ

ـ 16 دسمبر ، 2009
  • Adjust Font Size

لاہور/ اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ آن لائن+ ریڈیو نیوز) نیب نے پنجاب بنک فراڈ کیس کے ملزموں سے فیس کے نام پر کروڑوں روپے رشوت وصول کرنے والے وکلا اور بیورو کریٹس سے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا تاہم سمن جاری ہونے کے باوجود کوئی بھی قانون دان شامل تفتیش نہ ہوا۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا ہے کہ وہ نیب کو تسلیم ہی نہیں کرتے‘ نیب کی جانب سے ان سمیت دیگر وکلا کو نوٹس خلاف قانون ہیں‘ پاکستان بار کونسل کے سامنے الزامات کا سامنا کرنے کو تیار ہوں۔ شریف الدین پیرزادہ نے نیب پنجاب کو فیکس پر بیان میں کہا ہے کہ حارث سٹیل ملز کیس میں ایک لاکھ ڈالر اور 30لاکھ روپے فیس وصول کی‘ ملک قیوم نے اسسٹنٹ کے ذریعے تحریری بیان جمع کرا دیا۔ نیب ذرائع کے مطابق پنجاب بنک سے جعلی کاغذات پر 9ارب روپے قرضہ حاصل کرنے والے حارث سٹیل ملز کے ڈائریکٹروں شیخ منیر اور شیخ افضل وغیرہ نے انکشاف کیا تھا کہ سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے دور میں بابر اعوان ، سینئر قانون دان شریف پیرزادہ‘ سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم‘ وسیم سجاد کے بیٹے علی سجاد اور سرفراز مرچنٹ نے فیسوں کے نام پر ان سے کروڑوں روپے وصول کئے جبکہ اعتزاز احسن نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بحال ہونے کے بعد ان سے 3کروڑ روپے وصول کئے۔ نیب پنجاب نے اعتزاز احسن کے علاوہ باقی تمام وکلا کو سمن جاری کرتے ہوئے گذشتہ روز طلب کیا تھا تاہم کوئی بھی وکیل شامل تفتیش نہ ہوا۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعوان نے کہا کہ نیب کی طرف سے نوٹس ملک کے ایک لاکھ وکیلوں کو مجرم بنا کر ہتھکڑیاں لگانے کی سازش کا آغاز اور یہ بار ایسوسی ایشن کی آزادی میں مداخلت ہے‘ نیب والوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ لیگل پریکٹشنز اینڈ بار کونسل ایکٹ کا مطالعہ کرلیں اور میرے سمیت تمام وکلاء کے خلاف جاری کئے گئے خلاف قانون اور خلاف واقعہ نوٹس سے دستبردار ہو جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ میرے ہاتھ صاف اور میرا کیریئر بھی شفاف ہے‘ وکلاء کے احتساب کا ادارہ پاکستان بار کونسل ہے۔ دریں اثنا بابر اعوان نے نیب پنجاب کو جواب دینے کیلئے دو روز کا وقت مانگ لیا ہے نیب کو بھجوائی گئی فیکس میں بابر اعوان نے موقف اختیار کیا ہے کہ اپنی مصروفیات کے باعث دو روز تک پیش نہیں ہو سکتا ۔بابر اعوان نے کہا ہے کہ کلائنٹ اور وکیل کے درمیان فیس کا معاہدہ ہوتا ہے جسے منظر عام پر نہیں لایا جا سکتا۔ سینئر وکیل شریف الدین پیرزادہ نے دو صفحات پر مشتمل فیکس بیان میں کہاکہ بطور وکیل ہر پیشی پر ایک لاکھ روپے وصول کئے فیس کی وصولی بطور وکیل میرا قانونی حق تھا کیونکہ کلائنٹ اور وکیل کے درمیان فیس ایک باہمی معاہدہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسی جج یا اعلیٰ شخصیت کے نام پر رقم وصول نہیں کی۔ سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم نے الزامات کو بے بنیاد قرا دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کا نوٹس غلط ہے۔ علاوہ ازیں سابق چیف کمشنر اسلام آباد فضیل اصغر پر الزام ہے کہ انہوں نے بحیثیت ڈی سی او ملتان ایک ملزم شیخ افضل کو ملک سے فرار کروانے کے عوض 50لاکھ روپے رشوت لی اور 5لاکھ روپے ایف آئی اے کے ایک ملازم گوہر علی کو رشوت دے کر شیخ افضل کو بیرون ملک بھجوا دیا گیا تھا۔ فضیل اصغر کو بھی سمن جاری ہوئے لیکن وہ نیب کے دفتر جانے کی بجائے ایک ہم پلہ افسر کے گھر بیٹھ کر نیب کے افسروں کو اپنا بیان قلمبند کروا کر چلے گئے۔ثنا نیوز کے مطابق فضیل اصغر نے تسلیم کیا کہ 19مئی 2008ء کو شیخ افضل کو ملک سے فرار کروانے میں پروٹوکول دیا تاہم ان سے 50لاکھ روپے لینے کا الزام غلط ہے۔ نیب کے ایک سینئر عہدیدار نے ’’آن لائن‘‘ سے گفتگو کے دوران تصدیق کی کہ وسیم سجاد‘ ملک قیوم‘ بابر اعوان اور شریف پیرزادہ نے تحریری جوابات بھجوا دئیے ہیں اور مئوقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے اس کیس میں پیسے لیکر کوئی غلط کام نہیں کیا بلکہ اپنی فیس وصول کی ہے۔ نیب عہدیدار کا کہنا تھا کہ ان وکلا سے صرف جواب مانگا گیا تھا طلب نہیں کیا گیا تھا‘ اب اگلی کارروائی چیئرمین نیب کو کرنا ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions