حیدر آباد میں طوفانی بارش کے دو روز گزرنے کے باجود اب بھی کئی علاقوں میں بارش کاپانی موجود ہے۔ گھروں میں پانی داخل ہونے کی وجہ سے لوگوں کو بھاری مالی نقصان کے علاوہ اپنے گھر چھوڑ کر علاقہ خالی کرنا پڑ رہا ہے۔ ڈی جی ہیلتھ کے دفتراور ٹیکنیکل کالج سمیت اہم عمارتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
بدین میں ایل بی او ڈی نالے میںپانی کی سطح کم ہو جانے کے باوجود شہر کے کئی علاقوں میں گندا پانی کھڑا ہے جس سے مچھروں کی افزائش اور وبائی امراض میں شدت آگئی ہے۔ ہسپتالوں میں ہیضہ، بخار،پیٹ کے امراض اور ملیریا سے متاثرہ افراد کا رش لگا ہوا ہے جن میں ذیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
ٹنڈوالہ یار اور اسکے گردونواح میں بارہ گھنٹوں سے جاری بارش نے تباہی مچا دی ،شہر کے مضافاتی اور نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں ،جبکہ متاثری کیلئے لگائے گئے ریلییف کیمپ اور خیمہ بستیاں بھی پانی میں ڈوب گئی ہیں،سیلاب کے باعث قحط کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے جبکہ آرمی کے جوانوں نے پانی میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کردیا ۔
ٹھٹہ میں بارش سے پانچ سو اکہتر دیہات متاثر جبکہ ایک کروڑ اٹھہتر ہزار لوگ بے گھر ہوئے ہیں، چالیس ہزار ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
دادو کی گاج ندی میں تین روز قبل آنے والی طغیانی کے بعدکاچھو کےپانچ سو سے زائد دیہات کا جوہی سے زمینی رابطہ منقطع ہو جانے کی وجہ سے علاقے میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔تعلیمی اداروں میں پانی کھڑا ہونے سے تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں۔
سانگھڑکے سیم نالے میں قریبی دیہاتوں اور نوابشاہ سے آنے والا برساتی پانی مشرقی حصے میں تباہی مچانے کے بعد مغربی حصے میں داخل ہوگیا ہے، خطرے کے پیش نظر لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے۔
ادھر منچھر جھیل میں پانی کی سطح ایک سو سولہ اعشاریہ پانچ فٹ تک پہنچ گئی ہے،گزشتہ سال جھیل میں پڑنے والے شگافوں کی وجہ سے کئی پشتے حساس ہیں جس کی وجہ سے ایمرجنسی نافذ ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اٹھاون لاکھ سیلاب متاثرین میں سے تقریبا پچیس لاکھ افراد مختلف بیماریوں کا شکار ہو گئے ہیں۔جن میں پانچ لاکھ ساٹھ ہزار افراد جلدی بیماریوں کا شکار ہیں جبکہ ایک لاکھ پچاسی ہزار افراد ملیریا سے متاثر ہیں ۔
Post New Comment