لاہور (فرخ بصیر سے) مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی اور سٹینڈنگ کمیٹی برائے ریلوے کے چیئرمین سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ ریلوے کو منافع بخش ادارے میں ڈھالنے کیلئے حکومت فوری طور پر اسکا بیل آئوٹ پلان دے اور اسکے ذمہ 50 ارب کے قرضے معاف کر کے اسے زیادہ سے زیادہ فنڈز مہیا کرے اور ریلوے میں نچلی سطح پر انتظامی و مالی خودمختاری کا نظام متعارف کرادیا جائے۔ پاکستان ریلوے کو انڈین ریلوے کی طرح کارپوریشن نہیں بنایا جا سکتا۔ ریلوے کو خودمختاری دینے کیلئے محکمے کے افراد سے کام لیا جائے۔ پاکستان ریلوے کی ٹھوس بنیادوں پر تنظیم نو کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے فوری طور پر ریلوے کو زیادہ سے زیادہ فنڈز دیئے جائیں اور پرانے سگنل سسٹم‘ ٹریک‘ انجنوں اور بوگیوں کو اپ گریڈ کرنا ہو گا۔ چینی ریلوے انجن ناکارہ اور عالمی معیار کے مطابق نہیں لہٰذا انہیں خریدنا قومی خزانے اور وقت کا ضیاع ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز نوائے وقت کو خصوصی انٹرویو میں کیا۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ ریلوے غریب آدمی کی سواری ہے مگر بدقسمتی سے اس اہم محکمے پر کسی بھی حکومت نے توجہ نہیں دی۔ حکومت ماضی میں جس طرح پی آئی اے‘ سٹیل ملز اور واپڈا کو مالی بحران سے بچانے کیلئے فنڈز دیتی رہی ہے اسی طرح حکومت ریلوے کو 50 ارب کے خسارے سے نکالنے کیلئے بیل آئوٹ پلان دے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت ریلوے کی سٹیٹ بنک کیساتھ 26 سے 28 ارب کی رننگ فنانس ہے جبکہ پنشنرز کو ساڑھے 3 ارب روپے سالانہ ادا کئے جاتے ہیں جس پر ہمیں بھاری مارک اپ دینا پڑتا ہے لہٰذا حکومت قرضے معاف کر دے یا اپنے ذمہ لے لے۔ اس کے ساتھ ساتھ محکمے کو منافع بخش بنانے کے لئے بھارت کی طرح ہم بھی فریٹ کے شعبے میں کنٹینرز کارپوریشن بنا کر اربوں روپے کا ریونیو اکٹھا کر سکتے ہیں اور یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ ہم ریلوے کو انجیکشن آف فنڈز دیں۔ ہمارے ٹریکس اور پل چینی لوکو موٹوز کے باعث ناکارہ اور کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انگریز کے بنائے ریلوے نظام میں ہم نے ریلوے لائنوں میں اضافہ نہیں بلکہ کمی کی ہے۔ ہمارے پاس اپنے تکنیکی سہولتوں کی مرمت کیلئے فنڈز نہیں۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ ہمیں فی الوقت ریلوے کی تنظیم نو کی سخت ضرورت ہے ہمیں باہر سے آدمی لا کر بٹھانے کی بجائے محکمے کے افسران پر اعتماد کی پالیسی اپنانا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے میں اکاؤنٹنگ سسٹم ناپید ہے جسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں یہ حالت ہے کہ جونیئر کو سینئر کی جگہ بٹھا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے جو 75 چینی انجن خریدنا چاہ رہا ہے اب تک تمام رپورٹس ان کیخلاف آئی ہیں۔ سابق جنرل منیجر ریلوے اسد سعید نے 2004ء میں اور ایڈیشنل جی ایم نعیم ملک نے 2007ء میں اپنی رپورٹ میں ان چینی انجنوں کو ناکارہ اور خراب قرار دیتے ہوئے خریدنے سے منع کیا تھا مگر آج وہ ٹینڈر کمیٹی میں بیٹھ کر ان چینی انجنوں کو خریدنے کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل موٹرز کے بنے انجن کی مرمت پر 5 جبکہ چینی انجن کی مرمت پر 8 دن لگتے ہیں۔ بی ایم انجن کی اوورہالنگ 8 لاکھ اور چینی انجن کی 5 لاکھ کلومیٹر کے بعد کرانا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے حکام ابھی تک لائف سائیکل کاسٹ کا فارمولا نہیں بنا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کی اراضی پر غیر قانونی قابضین کیخلاف آپریشن کیلئے ریلوے پولیس کے اختیارات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرف حکومت نے سمجھوتہ ایکسپریس کے سانحہ میں معذرت خواہانہ رویہ اپنا کر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کو اس وقت ٹیکنیکل افسران کی شدید کمی کا سامنا ہے کیونکہ کم تنخواہوں کے باعث اکثر افسران پرائیویٹ سیکٹر میں چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے میں بیٹھا مافیا اسکے پنشنرز کو ادائیگی کا نظام کمپیوٹرائزڈ کرانے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کے تمام پرانے سسٹم کو جدید بنانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ گوادر چین اور ایران کیساتھ ٹرین رابطے سے ہم اربوں ڈالر سالانہ کما سکتے ہیں۔
Post New Comment