ایف بی آر ملازمین نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان کردیا جس کے بعد عوام کے کو دفاتر کے دروازے سے لوٹایا جارہا ہے۔

ـ 15 اگست ، 2011
  • Adjust Font Size
ایف بی آر ملازمین نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان کردیا جس کے بعد عوام کے کو دفاتر کے دروازے سے لوٹایا جارہا ہے۔

ایف بی آر کے ملازمین نے آج سے ملک بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ حکومت نے انکے بنیادی پے سکیل الاوئنس کو منجمد کر دیا ہے جو ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ایف بی آر کے ملازمین حکومت کو کما کر دیتے ہیں لہذا انکے ساتھ اس طرح کا سلوک ظلم کے مترادف ہے۔ایف بی آر ایمپلائز یونین کے صدر میاں عبدالقیوم کا کہناتھاکہ ہم نے حکومت کو اپنے مطالبات کے حوالے سے متعددبار درخواست کی جبکہ جزوی ہڑتال بھی کی گئی لیکن حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگی اب مطالبات کی منظوری تک ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی۔
ایف بی آر ملازمین کی ہڑتال کے باعث ٹیکس دہندگان کے مسائل میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ایک گرمی دوسراروزے کی حالت میں جب لوگ اپنے کسی کام کے لیے ایف بی آر کے دفتر میں پہنچتے ہیں تو انہیں گیٹ سے ہی یہ کہہ کر واپس لوٹادیاجاتا ہے کہ ہڑتال کی وجہ سے سے دفاتر میں کوئی کام نہیں ہوگا جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
ایف بی آر کے ملازمین تو اپنے مطالبات نہ مانے جانے پر ہڑتال کئے بیٹھے ہیں لیکن عوام کے لبوں پر یہ سوال ضرور ہے کہ آخر انہیں کس جرم کی سزا دی جارہی ہے۔

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions