یوم آزادی پر ٹارگٹ کلنگ‘ لاہور سے جانے والی بس کے 11 مسافر بولان میں قتل

ـ 15 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

کوئٹہ (بیورو رپورٹ + بی بی سی ڈاٹ کام + نیٹ نیوز) بلوچستان میں یوم آزادی کے موقع پر ٹارگٹ کلنگ کے دو مختلف واقعات میں 5 سکیورٹی اہلکاروں سمیت پنجاب سے تعلق رکھنے والے 15 افراد جاںبحق جبکہ 7 زخمی ہوگئے ، 48 گھنٹے کے دوران ٹارگٹ کلنگ میں جاںبحق ہونے والوں کی تعداد 21 ہو گئی۔ سیکرٹری داخلہ بلوچستان اکبر حسین درانی کے مطابق پہلا واقعہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ضلع بولان کے علاقے آب گم میں پیش آیا جہاں 30 سے 35 مسلح افراد نے لاہور سے کوئٹہ سے آنے والی مسافر بس کو اسلحہ کے زو رپر روکا اور اس میں سوار پنجابی بولنے والے افراد کو نیچے اتار دیا اور انہیں قریب ہی ایک کھائی میں لے جا کر قتل کر دیا۔ مقامی لیویز کے مطابق مسلح افراد کی بس پر فائرنگ سے 2 افراد مارے گئے‘ پھر مسلح افراد نے مسافروں سے شناختی کارڈ طلب کئے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 مسافروں کو ساتھ لے گئے۔ کلینر اور ڈرائیور کے مزاحمت کر نے پر ملزمان نے انھیں بھی فائرنگ کر کے زخمی کر دیا۔ ایک زخمی نے بتایا بس کے روانہ ہونے کے فورا ًبعد مسلح افراد نے سڑک سے چند قدم دور لے جا کر ان پر فائرنگ کی جس سے 9 افراد مارے گئے‘ 5 زخمی ہو گئے۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا جاںبحق ہونے والوں میں پانچ افراد کا تعلق سکیورٹی فورسز سے ہے۔ جاںبحق ہونےوالوں میں اب تک سید فقیر حسین (گجرات)، مقصود احمد (لاہور)، فلک شیر (لاہور)، مدثر علی (گجرات) اورمحمد وارث (سرگودھا) کی شناخت ہو سکی ہے جبکہ زخمیوں میں سجاد، بلال ارشد، پہلوان، مٹھل خان اور الطاف شامل ہیں۔ واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور نہ کسی گروپ نے واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی۔ وزیر اعلیٰ نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کا دوسرا واقعہ کوئٹہ کے تھانہ سیٹلائٹ ٹاﺅن کے علاقے خلجی کالونی میں اس وقت پیش آیا جب دس کے قریب مزدور کام سے فارغ ہونے کے بعد اپنی رہائشگاہ کی جانب جارہے تھے کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں چھ افراد موقع پر ہی جاںبحق جبکہ تین زخمی ہو گئے۔ جاںبحق ہونے والوں میں ادریس، سلمان، عبدالرحمن، محمد صدیق، محمد رفیق اور رسول کی شناخت ہو سکی جن کا تعلق قوم راجپوت اور ضلع ملتان کے علاقے وہاڑی سے بتایا جاتا ہے۔ واقعہ کے بعد پولیس اور فرنٹیئر کور کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ 13 اگست کو سریاب روڈ پر تین پولیس اہلکار وں جبکہ غوث آباد میں ایک حجام کو قتل کیا گیا۔ چاروں واقعات میں اب تک پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزمان کی گرفتاری میں ناکام رہے۔ واضح رہے کہ یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب بلوچ آزادی پسند تنظیموں کی جانب سے بلوچستان میں پاکستان کے یومِ آزادی کے دن کو یوم سیاہ کے طور منایا جارہا ہے۔ بی بی سی کے مطابق حکومت کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود کوئٹہ شہر میں جشن آزادی کے حوالے سے کوئی بڑا پروگرام منعقد نہیں ہوا اور نہ ہی ماضی کی طرح سرکاری عمارتوں‘ دکانوں اور گھروں پر چراغاں کیا گیا البتہ صرف پولیس اور فرنٹیئر کور کی گاڑیوں پر پاکستانی پرچم لہراتا ہوا نظر آتا رہا ہے۔بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جی این بلوچ نے بولان اور کوئٹہ کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی ایل اے نے یہ کارروائیاں حکومتی فورسز کی جانب سے لاپتہ بلوچوں کی لاشوں کے بدلے میں کی ہیں۔ وقت نیوز ، مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق قلات میں ڈی سی او آفس کے باہر نامعلوم افراد نے دستی بم سے حملہ کیا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، دھماکے سے الیکشن کمیشن کی عمارت کو نقصان پہنچا۔ قلات میں الیکشن کمشن کے اہلکار کے گھر پر دستی بم سے حملہ کیا گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions