واشنگٹن (اے ایف پی + مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ مالاکنڈ میں شرعی قوانین کا نفاذ انسانی حقوق اور جمہوریت کی نفی ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ افسوس ہے کہ پارلیمنٹ نے نظام عدل ریگولیشن پاس کرتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیموں کی تشویش کو مدنظر نہیں رکھا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبز نے مزید کہا کہ اوباما انتظامیہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ پاکستان میں سکیورٹی کے حوالے سے مسائل کے حل کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ جموہریت اور انسانی حقوق کی نفی ہو۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر آصف زرداری نے متنازعہ معاہدہ طالبان کے حمایتی ایک ایسے مذہبی رہنما سے کہا ہے جس کے بہت سے پیروکار افغانستان میں امریکی فوجیوں کے خلاف اور سرحد میں حکومت پاکستان کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ادھر جان کیری نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے کہا کہ پاکستان کو امریکی امداد ملنے کا پورا یقین ہے‘ انہوں نے کہا کہ سوات میں نظام عدل ریگولیشن پر مجھے تحفظات ہیں تاہم ہمیں یقین ہے کہ صدر آصف زرداری اپنی ذمہ داری نبھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تاہم مجھے سوات معاہدے کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے پیچیدہ معاملہ ہے‘ تاہم بہت احتیاط برتی جا رہی ہے‘ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کی ماضی میں پاکستان میں منصوبہ بندی ہوتی رہی ہے۔ قبل ازیں جان کیری نے گورنر اویس غنی اور وزیر اعلیٰ سرحد امیر حیدر ہوتی سے ملاقات کی۔ جان کیری نے کہا کہ امریکہ صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور ضرورت کے وقت سرحد حکومت کی مدد کرے گا۔ جان کیری نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور اُمید ظاہر کی کہ امریکی امداد سے قبائلی علاقوں میں صنعتی بستیوں کے قیام کے بعد صورتحال بہتر ہو گی۔ گورنر اویس غنی نے کہا کہ جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوتا پاکستان متاثر رہے گا۔ بعدازاں جان کیری نے وزیر اعلیٰ امیر حیدر ہوتی سے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ سرحد نے جان کیری پر واضح کیا کہ نظام عدل کا نفاذ سوات کے مسئلہ کا واحد آئینی اور جمہوری حل تھا۔ عالمی برادری سوات امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے بجائے سرحد حکومت کی مدد کرے۔
واشنگٹن (اے ایف پی + مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی امداد مشروط ہو گی‘ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان رابرٹ ووڈ نے کہا کہ ہم نے ڈونرز کانفرنس میں بھی پاکستان کو امداد دینے کا وعدہ کر رکھا ہے لیکن پاکستان کو دی جانے والی امداد مشروط ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ٹیکس دہندگان چاہتے ہیں کہ ان کی رقوم کا درست استعمال ہو اور ہم چاہتے ہیں کہ امداد دئیے جانے کے بعد اس کے نتائج بھی نظر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ امداد کے ساتھ ساتھ کئی کام بھی پورے ہوتے نظر آنے چاہئیں تاہم ترجمان نے شرائط کی تفصیلات میں جانے سے گریز کیا۔
Post New Comment