میر پور خاص میں ایل بی او ڈی سیم نالے میں پڑنے والے شگاف کو پر نہ کئے جانے کے باعث پا نی کا بہاﺅ تیز ہو گیا ہے۔شہر میں ایمر جنسی نا فذ ہے اورچودہ سے زائد شہر ی کا لو نیوں کے لو گوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہو نے کی ہدایات کر دی گئی ہیں۔دوسری جانب شہر اور گر د نواح میں جا ر ی بارش سے اہم شاہراہوں پر تین سے چار فٹ پانی کھڑا ہو گیا ہے،جسکے باعث ہزاروں افراد گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔ ادھر بدین میں حالیہ بارشوں کی وجہ سےمتاثرین کے لیے امدادی سرگرمیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور لوگ کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ سڑکیں زیر آب آنے سے بدین کا رابطہ دیگرشہروں سے منقطع ہے۔ ضلع بدین کے علاقوں ترائی ، پانگریو اور خوسکی سے سینکڑوں افرا کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ضلع ٹھٹھہ اور اس کے گردو نواح میں واقع علاقوں میں طوفانی بارشوں سے ہزاروں مکانات منہدم جبکہ سینکڑوں نشیبی گاﺅں زیر آب آگئے ہیں۔دادو میں ایک سو چوالیس ملی میٹربارش کے باعث گاج ندی میں طغیانی سے جوہی کا علاقہ ڈوبنے کا خطرہ ہے۔ شکارپورمیں موسلا دھار بارشوں سے نشیبی علاقےزیرآب آگئے ہیں اور بجلی اورمواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا، سیلابی صورتحال سے فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہےنوابشاہ کے کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، ٹنڈو محمد خان کےعلاقے سعید پورمیں بارش کے باعث آلودہ پانی پینے سے تین بچیاں اور ایک حاملہ خاتون جاں بحق ہوگئیں۔ مٹیاری میں بھی بارش کے باعث سینکڑوں کچے مکانات منہدم ہو گئےہیں۔
سکھر میں کئی کئی فٹ سیلابی پانی کھڑا ہے جسکے باعث ملیریا اور ڈینگی جیسے امراض کی افزائش کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ جامشورواورٹنڈو الہ یارمیں سیلابی ریلوں کے بعد ابھی تک امدادی سرگرمیاں شروع نہیں ہوسکیں ۔
Post New Comment