لاہور (انٹرویو سلمان غنی) برطانوی ہاوس آف لارڈ کے رکن لارڈز نذیر نے کہا ہے کہ امریکہ میں ہونے والے سٹرٹیجک مذاکرات امریکی مفادات کے لئے تھے‘ پاکستان کے لئے نہیں‘ پاکستان کے لئے ہوتے تو پاکستان کے بند دریا کھلوائے جاتے‘ بھارت کو اپنی اوقات میں رہنے کو کہا جاتا‘ کشمیر پر مذاکرات کے لئے مجبور کیا جاتا‘ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر خوشیاں منانے کی بجائے اس بات کی فکر کی جائے کہ امریکہ جاتا ہوا یہاں بھارت کو کوئی کردار نہ دے جائے جس کے لئے سازشیں بھی کی جا رہی ہیں‘ کاوشیں بھی جاری ہیں‘ حکمرانوں کو چاہئے کہ لوٹ مار چھوڑ کر پارلیمنٹ میں اس صورتحال پر غور کریں اور کم از کم ہر ماہ میں دو دن ریجنل سکیورٹی اور افغان بارڈر کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے اور اپنے خارجہ امور غیروں پر چھوڑنے کی بجائے خود اس پر حکمت عملی بنائیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکراتی عمل فضول مشق ہے جہاں اوپر سے نیچے تک لوٹ مار کا حصہ ہوں وہاں سرمایہ کاری کون کرے گا۔ وہ گذشتہ روز لاہور میں نوائے وقت سے بات چیت کر ہے تھے۔ لارڈز نذیر نے برطانوی انتخابات کے حوالہ سے کہا کہ لیبر کی جگہ کنزرویٹو کے آنے سے بڑی تبدیلی کا امکان نہیں اور وہاں انتحابات خارجہ امور سے زیادہ داخلہ پالیسیوں کو پیش نظر رکھ کر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والی برطانوی وزیر سعیدہ وارثی حافظہ قرآن اور ایک ٹیکسی ڈرائیور کی بیٹی ہیں لیکن یہ اپنی اہلیت کی بنیاد پر یہاں تک پہنچی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کون سرمایہ کاری کرنے آئے گا جہاں اوپر سے نچیے تک سب لوٹ مار کا حصہ بنے ہوں‘ عرب ممالک کا دورہ کر کے آیا ہوں اور لوگ یہاں سرمایہ کاری کرنے سے خوفزدہ ہیں جس ملک میں سرمایہ کار آنے سے ڈرتا ہو‘ جہاں تحفظ دینے والے ہی جیبوں پر نظر رکھتے ہوں تو یہاں کون آئے گا۔ لارڈ نذیر نے پاکستان بھارت مذاکراتی عمل کو ایک بے فائدہ مشق قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی دباو پر ہونے والا مذاکراتی عمل اس لئے کامیاب نہیں ہو سکتا کہ یہ بنیادی مفادات کے حل کے لئے نہیں بلکہ وقت گزاری کا نتیجہ ہے۔ یہ مذاکرات تبھی کارگر ہوں گے جب پاکستان کی برابری کی سطح تسلیم کی جائے گی اور مذاکراتی عمل کشمیر اور پانی کے بحران کے حل سے مشروط ہو گا‘ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی یہ ہے کہ مذاکرات کا راگ پاکستانی حکومت چھیڑتی ہے لیکن بھارت اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ بھارت مذاکراتی عمل کو کشمیر اور پانی سے مشروط کرنے کو تیار نہیں اور ہم اسے جامع قرار دے رہے ہیں۔ امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لئے سارے مغربی بارڈر پر پاکستانی فوج کو رکھنا چاہتا ہے‘ فوج ہماری سے کام لینا چاہتا ہے لیکن کردار بھارت کا افغانستان میں چاہتا ہے۔ انہوں نے صدر زرداری کے حوالہ سے ایک سوال پر کہا کہ ہم جنرل مشرف کے کردار کو ٹارگٹ کرتے رہے‘ ملکی مفادات کے منافی اس کے اقدامات پر سر پیٹتے رہے کہ الٹا ایسا شخص ان کی جگہ پر لا بٹھایا گیا جس کا مطلب ہی یہی تھا کہ اور بھگتو اور پاکستان بھی بھگت رہا ہے اور قوم بھی‘ یہاں کے لوگ پاکستان کے حالات کا اندازہ کرتے ہیں۔
Post New Comment