لاہور+ کراچی+ راولپنڈی (رپورٹنگ ٹیم + ایجنسیاں) چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدور نے وفاقی بجٹ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ کے بارے میں تاجروں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر میاں مظفر علی‘ سینئر نائب صدر طاہر جاویدملک‘ نائب صدر عرفان اقبال شیخ نے کہا حکومت کو ٹیکس نیٹ ورک کو وسیع کرنا چاہیے تھا جس کا بجٹ میں کوئی ذکر نہیں۔ سرحد چیمبر آف کامرس کے صدر شرافت علی مبارک نے کہا کاروباری طبقہ کیلئے بجٹ دوستانہ نہیں تاہم بجلی کے شعبے کیلئے 47 ارب مختص کرنا تسلی بخش ہے۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے صدر اسد حیدر مشہدی نے کہا تیل کی قیمت کمی نہ ہونے سے عام آدمی پر مزید بوجھ بڑھے گا۔ نائب صدر امتیاز چودھری نے کہا حکومت ٹیکسز میں اضافہ واپس لے۔ ایوان صنعت و تجارت اسلام آباد کے صدر میاں شوکت نے کہا آٹو موبائل انڈسٹری میں 5 فیصد ٹیکس کم کرنا خوش آئند ہے جبکہ آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے سینئر وائس صدر محمد نوید ملک نے کہا اس سے انڈسٹری کو فروغ حاصل ہوگا۔ کراچی چیمبرز آف کامرس کے سابق صدور سراج قاسم تیلی‘ زبیر موتی والا‘ موجودہ صدر انجم نثار‘ نائب صدور جاوید بلوانی اور ہارون آگر نے کہا ٹیکس بڑھنے سے انڈسٹری کی شرح نمو رک جائے گی، بجٹ آئی ایم ایف کا تیار کردہ ہے۔ آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر حاجی مقصود بٹ نے کہا جمہوری حکومت کا بدترین بجٹ ہے۔ عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے ٹیکسٹائل و انڈسٹری مرزا اختیار بیگ نے کہا بجٹ عوام دوست ہے۔ کراچی سٹاک ایکسچینج کے رکن ظفر موتی نے کہا ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے نفاذ سے حصص کی خرید و فروخت کے کمشن میں اضافہ ہوگا۔ پیاف کے صدر عمران قیصر شیخ‘ ایگری فورم پاکستان صدر ابراہیم مغل‘ سابق وفاقی وزیر سلطان علی چودھری‘ پاکستان متحدہ کسان محاذ ایوب میو‘ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب صدر عاصم رضا احمد نے کہا ایک بار پھر اعداد و شمار کے ہیر پھیر کا بجٹ پیش کردیا گیا ہے۔ صنعتکاروں کا کہنا تھا کہ کیپٹل ویلیو ٹیکس 2 سے 4 فیصد کردیا گیا ہے۔ ڈیمز بارے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا۔ زرعی ماہرین کا کہنا تھا کہ عوام کی خواہش کے برعکس بجلی کے بحران اور زراعت کی ترقی کیلئے کالاباغ ڈیم کا ذکر گول کیا گیا ہے۔ ایپکا کے مرکزی صدر نذر حسین کورائی نے بجٹ مسترد کرتے ہوئے تنخواہ میں اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے 20 سے 25 فیصد تنخواہ بڑھانے کا وعدہ کرکے دھوکہ دیا۔
بجٹ ردعمل
Post New Comment