صدر نااہل قرار پا سکتے ہیں‘ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی بھی ہو سکتی ہے : وکلا کا ردعمل

ـ 14 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (وقائع نگار خصوصی+ مانیٹرنگ سیل‘ ایجنسیاں) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس خواجہ محمد شریف کو سپریم کورٹ بھجوائے جانے کا نوٹیفیکیشن جاری کر کے صدر نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے جس پر انکے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔ اس ضمن میں بات کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ بار کی صدر ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ صدر نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سفارشات کو نظرانداز کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو سپریم کورٹ بھجوانے کا نوٹیفیکیشن جاری کر کے آئین کے آرٹیکل177کی تعمیل نہیں کی اور اس تقرری میں چیف جسٹس آف پاکستان کی رائے شامل نہیں۔ دوسرا صدر نے آئین کے آرٹیکل42کی بھی خلاف ورزی کی ہے جس کے تحت صدر اپنے عہدے کا حلف اٹھاتا ہے جس میں واضح ہے کہ وہ آئین کی خلاف ورزی نہیں کرے جبکہ آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت وہ ریاستی مفادات کا تحفظ کرے گا ۔یوں آئین کے آرٹیکل5کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے کیونکہ ایسا کرنے والا آئین کوسبوتاژ کرنے کا مرتکب ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری راجہ ذوالقرنین نے کہا کہ صدر مملکت کا یہ اقدام غیر آئینی و غیر قانونی اور غیر منصفانہ ہی نہیں بلکہ آئین پاکستان کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ سپریم کورٹ بار کے سابق صدر علی احمد کرد نے بھی کہا کہ سنیارٹی کے اصول کو ہمیشہ مد نظر رکھا جانا چاہئے۔ معروف قانون اشتراوصاف نے کہا ہے کہ صدارتی نوٹیفکیشن کے حوالے سے وزیر قانون اور سیکرٹری قانون نے صدر کو مس گائیڈ کیا ہے۔ چنانچہ صدر آصف علی زرداری کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر یہ نوٹیفکیشن واپس لے لیں تاکہ محاذ آرائی کی کیفیت کو ختم کیا جا سکے۔ پروفیشنل گروپ کے سربراہ حامد خان نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کی سفارش کے بغیر کوئی تقرری نہیں ہو سکتی۔ اگر اس نوٹیفکیشن میں چیف جسٹس کی مشاورت شامل نہیں تو یہ نوٹیفکیشن غیرآئینی ہو گا۔ معروف قانون دان اے کے ڈوگر نے کہاکہ عدلیہ میں تقرریاں چیف جسٹس کی سفارش پر ہی ہونی چاہئے‘ اس طرح کہ حکومتی اقدامات سے مزید خرابیاں پیدا ہونگی۔ مانیٹرنگ سیل اور خبررساں ایجنسیوں کے مطابق قانون دان فروغ نسیم نے کہا ہے کہ آرٹیکل 177کی خلاف ورزی پر صدر زرداری نااہل بھی قرار پا سکتے ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فخر الدین جی ابراہیم نے کہا کہ حکومت اور عدلیہ میں کوئی ٹکراﺅ نہیں‘ آئین کے مطابق کام کیا گیا ہے‘ ججز کی تقرری میں سنیارٹی کو اہمیت دینی چاہئے۔ سینئر وکیل اطہر من اللہ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ غیرجمہوری قوتیں تصادم کی خواہش مند ہیں اگر چیف جسٹس سے مشاورت نہیں ہوئی تو یہ غیرجمہوری قوتوں کا تحفہ ہے۔ جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ صدر چیف جسٹس کی سفارشات ماننے کے پابند ہیں ان کا یہ فیصلہ غداری کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی محمد انور نے کہا ہے کہ ججز کی تقرری کے حوالے سے حکومتی طرز عمل آرٹیکل 6کی زد میں آتا ہے۔ صدر نے چیف جسٹس کی سفارشات سے انحراف کرکے خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے جو بھی نتیجہ برآمد ہو گا اس کے ذمہ دار حکمران ہوں گے۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر رشید اے رضوی نے کہا ہے کہ جسٹس خواجہ محمد شریف اور جسٹس ثاقب نثار نے قابل تحسین کام کیا ہے۔ سینئر ایڈووکیٹ اکرم شیخ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کی سفارشات کو مسترد کرنا آئین کی صریحاً خلاف ورزی ہے‘ صدر اور وزیراعظم کے اس اقدام پر انکے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔ سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ صدر چیف جسٹس کی سفارش کے بغیر ججوں کی تعیناتی عمل میں نہیں لا سکتے۔معروف وکیل فروغ نسیم سمیت دیگر آئینی ماہرین نے کہا ہے کہ آرٹیکل 117 کی خلاف ورزی پر وزیراعظم بھی نااہل قرار دیئے جاسکتے ہیں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions