کسان محاذ نے بھارتی آبی جارحیت اور عالمی اداروں کی پالیسیوں کیخلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کردیا

ـ 14 دسمبر ، 2009
  • Adjust Font Size

لاہور ( نیوز رپورٹر ) پاکستان متحدہ کسان محاذ نے بھارت کی آبی جارحیت ‘ آئی ایم ایف‘ ورلڈ بینک اور حکومتی پالیسیوں کیخلاف 10محرم الحرام کے بعد ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت پانی کے مسئلے پر پنجاب اور سندھ میں لڑائی کی سازش سے باز رہے ‘ حکومت ملوں کی طرف سے گنے کی فوری خریداری یقینی بنانے کے لئے اقدامات کرے اور سورج مکھی کی امدادی قیمت فی من کم از کم دو ہزار روپے مقرر کی جائے ۔ متحدہ کسان محاذ کے زیر اہتمام گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں کسان کانفرنس منعقد کی گئی جسکی صدارت پاکستان متحدہ کسان محاذ کے سربراہ ایوب خان میو نے کی جبکہ کانفرنس میں سندھ آباد کار بورڈ کے نائب صدر میجر (ر) عمر فاروق‘ پنجاب کے صدر سردار مراد خان بلوچ‘ آزاد کشمیر کے کوارڈی نیٹر ظفر اللہ خان ‘ سیکرٹری جنرل متحدہ کسان محاذ بلوچستان عزیز احمد بلوچ اور صوبہ سرحد کے کوارڈی نیٹر انجینئر شاد محمد سمیت دیگر نے شرکت کی ۔ کانفرنس کے بعد جاری کئے جانیوالے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ بلوچستان پیکج میں زمینداروں ‘ کسانوں کے لئے کچھ نہیں رکھا گیا ہمارا مطالبہ ہے کہ بلوچستان کے کسانوں کے لئے فوری طور پر زرعی پیکج لایا جائے اور بلوچستان میں تین رینٹل پاور اسٹیشنز لگانے کا وعدہ پورا کرتے ہوئے زرعی قرضوں کو معاف کیا جائے ۔ مزید کہا گیا کہ پاکستان کی چاروں صوبائی اور قومی اسمبلی کے علاوہ سینٹ میں بھی بھارت اور امریکہ کی مشترکہ آبی جارحیت کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کی جائیں بصور ت دیگر کسان کم قیمت کو کسی صورت قبول نہیں کرینگے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے دبائو پر بجلی کے نرخوں میں اضافہ کرنے کی بجائے اگست 2008ء کے ٹیرف شیڈول کو بحال کیا جائے اور بجلی کے بلوں میں سبسڈی بھی بحال رکھی جائے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ تونسہ اور پنجند سے آگے دریائے سندھ پر ڈیمز بنائے جائیں تاکہ ہمارا 18ملین ایکڑ فٹ پانی کا استعمال ہو سکے جس سے سندھ سر سبزو شاداب ہوگا اور زرعی و صنعتی ترقی آئے گی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ بھارت کو امریکہ نے مغربی ممالک کی فنانس کمپنیوں سے 212ارب ڈالر کے منصوبہ جات کیلئے فنڈز لیکر دئیے ہیں اور یہ تمام فنڈز پاکستان کیخلاف جاری بھارت کی آبی جارحیت کے لئے استعمال ہونگے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions