لاہور + ملتان (خبرنگار خصوصی + نمائندہ نوائے وقت) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ قوم سیلاب کے پانی میں ڈوبی ہوئی ہے جبکہ کچھ لوگ سیاسی بیانات کے ذریعے پوائنٹ سکورنگ میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے ہونے والی حالیہ تباہی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہے جس سے نمٹنے کے لئے اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر تباہ حال عوام کو ریلیف نہ پہنچایا گیا تو سیلاب زدہ علاقوں میں انتہاءپسندی پھیل جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مظفر گڑھ‘ ڈیرہ غازیخان اور دیگر سیلاب زدہ علاقوںمیں ریلیف کے کاموں کا معائنہ کرنے کے بعد ملتان ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں سیاسی بیانات دیئے جا رہے ہیں کہ پنجاب کو این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے 480 ارب روپے دیئے گئے ہیں حالانکہ اس میں غیرترقیاتی اور ترقیاتی بجٹ دونوں شامل ہیں۔ این ایف سی کے ذریعے پنجاب کو ملنے والے فنڈز کا بڑا حصہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے میں چلا گیا ہے۔ ایوارڈ کی منظوری کے لئے چاروں صوبوں نے کلیدی کردار ادا کیا اور اس کی منظوری کے لئے سب سے زیادہ قربانی حکومت پنجاب نے دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی بیان بازی کا وقت نہیں بلکہ اتفاق اور انہماک کے ساتھ سیلاب زدگان کو ریسکیو کرنے اور ریلیف پہنچانے کی ضرورت ہے۔ صوبے کے وسائل کے علاوہ وفاقی حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ قدرتی آفات کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے تمام صوبوں کی مدد کرے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت سے 25 ارب روپے طلب کئے گئے ہیں لیکن اب تک وفاق کے کسی نمائندے نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے عوام کے گھر اجڑ گئے ہیں‘ مال و اسباب تباہ ہو گیا ہے اور مویشی مر گئے ہیں‘ ایسے حالات میں اگر جنوبی پنجاب کے عوام کی بحالی اور ریلیف کے لئے اقدامات نہ کئے گئے تو جنوبی پنجاب میں انتہاءپسندی کا ناسور پھیل جائے گا۔ پنجاب حکومت اپنے تمام وسائل مصیبت زدہ بھائیوں کے قدموں میں نچھاور کر دے گی اور اس کے لئے سستی روٹی پروگرام اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کے فنڈ استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔ سیلاب زدہ علاقے کی ترقی اور عوام کی بحالی کے لئے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبے تیار کئے گئے ہیں جن پر جلد عملدرآمد کا آغاز ہو گا۔ سیاسی امتیاز کے بغیر وسائل مظفر گڑھ‘ دائرہ دین پناہ‘ کوٹ ادو‘ بھونگ‘ میانوالی‘ راجن پور اور دیگر سیلاب زدہ علاقوں میں خرچ کئے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے کہا کہ رابطہ سڑکوںکے منقطع ہو جانے کی وجہ سے ریلیف آپریشن میں مشکلات آ رہی ہیں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کھانے پینے کا سامان اور اشیائے ضروریہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور پہنچائی جا رہی ہیں۔ مظفر گڑھ‘ ڈیرہ غازی خان روڈ کو فوری طور پر بحال کرنے کے لئے حکم دے دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ضلع مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان کی ضلعی انتظامیہ کو ریلیف آپریشن کے لئے دو ہیلی کاپٹر فراہم کر دیئے گئے ہیں۔ ریت کے ٹیلوں اور دریائی بندوں پر بیٹھے افراد کو ریلیف کیمپس منتقل کیا جائے متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ڈاکٹروں کی ٹیمیں پہنچا دی گئی ہیں جبکہ ان علاقوں میں اب تک منرل واٹر کی 40 ہزار بوتلیں اور ادویات بھی بھجوائی جا چکی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں دل کھول کر اپنے سیلاب زدہ بھائیوں کی مدد کریں۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ نے گزشتہ روز اچانک جوہر ٹاﺅن میں رمضان بازار کا دورہ کیا اور اشیائے صرف کی قیمتوں اور ان کے معیار کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے مختلف سٹالوں کا معائنہ بھی کیا اور خریداری میں مصروف شہریوں سے رمضان بازار میں اشیائے ضروریہ کے نرخوں اور ان کی کوالٹی کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے سے واپس آتے ہی انہوں نے رمضان بازار کا معائنہ کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو رمضان بازاروں میں عوام کو معیاری اشیائے صرف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے دوروں کی ہدایت کی گئی ہے اور اس ضمن میں ان کی خصوصی ڈیوٹیاں بھی لگائی گئی ہیں۔ ریڈیو نیوز کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کے بڑے سیلاب سے کروڑوں افراد متاثر ہوئے ہیں ڈی جی خان کا پنجاب سے زمینی رابطہ آج بحال ہو جائیگا۔ علاوہ ازیں شہباز شریف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی‘ عہدیدار اور کارکن اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے خود کو سیلاب زدگان کی خدمت اور بحالی کیلئے وقف کر دیں۔ وہ گزشتہ روز رحیم یار خان میں ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جس میں بہاولپور ڈویژن کے موجودہ اور سابقہ اراکین اسمبلی اور مسلم لیگ کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی اسمبلی مخدوم احمد محمود نے بھی شرکت کی۔ وزیراعلی نے کہا کہ سیلاب میں گھرے ہوئے لوگوں کو ہر صورت میں پکا ہوا کھانا مہیا کیا جائے۔
شہباز شریف
Post New Comment