اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/ ایجنسیاں) مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ حکومت اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تقرری میں لیت و لعل سے کام نہ لے‘ حکومت اور عدلیہ میں نئی محاذ آرائی سیاسی کشیدگی کو جنم دے رہی ہے جو نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات پنجاب ہاﺅس اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں پارٹی کے سینئر رہنماﺅں کے مشاورتی اجلاس کی صدارت کے دوران کی۔ اجلاس میں چودھری نثار علی خان‘ راجہ ظفر الحق‘ اسحاق ڈار‘ مخدوم جاوید ہاشمی‘ سرانجام خان‘ پیر صابر شاہ‘ اقبال ظفر جھگڑا‘ سردار مہتاب عباسی‘ ظفر علی شاہ‘ سرتاج عزیز‘ چودھری جعفر اقبال‘ عشرت اشرف‘ جنرل ترمذی سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔ نوازشریف نے کہا کہ حکومت اعلیٰ ججز کی تقرری کے لئے ملک بھر میں پیدا ہونے والے تناﺅ کو ختم کرے۔ یہ اس کی ذمہ داری ہے‘ حکومت این آر او سمیت دیگر ایشوز پر اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں پر نئی دلیلیں دینے کی بجائے عملدرآمد کرے‘ اگر حکومت نے عدلیہ کے فیصلوں پر کوئی دلیل دینی بھی ہے تو اس کے لئے بہترین فورم سپریم کورٹ ہے۔ آزاد عدلیہ کے فیصلوں کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے اور حکومت ایسے معاملات میں ملوث ہونے کے بجائے اپنی صلاحیتیں ملک میں بدترین مہنگائی اور بجلی‘ گیس لوڈشیڈنگ کے مسائل کو حل کرنے میں لگائے۔ اجلاس میں میاں نوازشریف کو پختونخواہ کے نام سے متعلق اے این پی سے ہونے والے مذاکرات کے بارے میں آگاہ کیا گیا‘ نوازشریف نے کہاکہ اس معاملے کو باہمی مذاکرات سے حل کیا جائے گا اور کوئی ڈیڈ لاک پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا۔
اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + نمائندہ خصوصی + ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی اور ان سے کہا ہے کہ حکومت آئین میں سترہویں ترمیم کی تنسیخ کی کمٹمنٹ پوری کرنے میں تاخیر نہ کرے‘ این آر او کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ پر من و عن عمل درآمد کرنے اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری میںرکاوٹیں حائل کرنے سے گریز کیا جائے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے ملک بحران کی طرف جا رہا ہے۔ یہ بات وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے فلسطینی صدر محمود عباس کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ کے بعد وزیراعظم سے ملاقات کے دوران کہی اس موقع پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان بھی موجود تھے۔ مسلم لیگی قیادت نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ جن امورپر اتفاق رائے پایا جاتا ہے پہلے مرحلے میں اس بارے آئینی ترمیم لائی جائے اس کے بعد متنازعہ امور پر اتفاق رائے کیلئے بحث جاری رہے۔ مسلم لیگ ن موجودہ صورتحال میں اعلیٰ عدلیہ پر دبا¶ ڈالنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ نہیں بنے گی۔ حکومت کوعدلیہ سے محاذ آرائی کا سلسلہ ترک کر کے آئین و قانون کے مطابق سپریم کورٹ کی سفارشات اور فیصلہ پر عملدرآمد کرنا چاہئے مسلم لیگی قیادت نے وزیراعظم کویقین دلایا کہ مسلم لیگ ن مڈٹرم الیکشن کی حمایت کریگی اور نہ ہی موجودہ نظام کو عدم استحکام کا شکار کرے گی۔ نوازشریف اور چودھری نثار علی خان نے آئینی صلاحات پر پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے کام کو مکمل نہ کرنے اور ججوں کی تقرری میں تاخیر کرنے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم گیلانی اور مسلم لیگی قیادت کے درمیان ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت پارٹی کے رہنما¶ںسے مشاورت کرے گی جبکہ وزیراعظم مسلم لیگی قیادت سے ہونے والی بات چیت سے صدر کو آگاہ کریں گے۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی‘ سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف اور قائد حزب اختلاف چودھری نثارعلی خان کے درمیان ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ تمام زیر التوا ایشوز کو میثاق جمہوریت کی روح کے مطابق حل کیا جائیگا۔ ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال‘ معاشی حالات اورسکیورٹی معاملات پر بات چیت کی گئی۔ رہنما¶ں نے سیاسی استحکام‘ پارلیمنٹ کی خودمختاری اور مضبوطی کے لئے مل کر کام کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ قوم کو جلد خوشخبری ملے گی۔ رہنما¶ں نے زور دیا کہ جمہوری اداروں کومستحکم بنانے کے لئے تمام سیاسی قوتوں کے درمیان قریبی روابط کی ضرورت ہے وزیراعظم نے زور دیا کہ ان کی حکومت سیاسی ہم آہنگی کے لئے مفاہمت کے عمل کے لئے پرعزم ہے۔ ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں قانون کی حکمرانی‘ ریاستی اداروں کے استحکام اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے مل کر کام کریں گی۔ ملاقات میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ تمام ریاستی اداروں کو آئین کے دائرہ میں رہ کر کام کرنا چاہئے۔ ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ موجودہ سیاسی نظام سیاسی جماعتوں کی غیر معمولی جدوجہد کے ذریعے قائم کیا گیا ہے اور عوام کے مفاد میں اس کی حفاظت ہر قیمت پر کی جائے گی۔ حکومت 17ویں ترمیم کی تنسیخ کی کمٹمنٹ پوری کرے۔ وزےراعظم نے خود نواز شرےف کا استقبال کےا، ملاقات مےں 17وےں ترمےم کے جلد خاتمے، آئےنی کمےٹی کی سفارشات، ملکی سےاسی صورتحال، آئندہ بلدےاتی انتخابات اور اےن آر او بارے سپرےم کورٹ کے فےصلے پر عملدرآمد سے متعلق امور زےر بحث آئے، نواز شرےف نے وزےراعظم پر زور دےا کہ حکومت چےف جسٹس کی سفارشات پر عمل کرے، انہوں نے اےن آر او کے فےصلے پر بھی مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کےا اور کہا کہ حکومت کا گراف نےچے جارہا ہے،عوام کی مشکلات کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی ہےں، پارلےمنٹ کی بالادستی اس وقت ہوگی جب آئےن 12 اکتوبر 1999ءسے قبل والی پوزےشن پر بحال ہو گا‘ مسلم لےگ (ن) حکومت اس حوالے سے تعاون کرے گی مگر حکومت محاذ آرائی کی طرف جانے کی بجائے عدالتی فےصلوں پر عمل کرے،انہوں نے نئے احتساب بل پر بھی (ن) لےگ کے م¶قف سے آگاہ کےا، وزےراعظم نے نواز شرےف کو ےقےن دلاےا کہ حکومت کوئی غےر جمہوری اور غےر آئےنی اقدام نہےں اٹھائے گی اعلیٰ عدلےہ مےں ججز کی تقرریوں سمےت اہم معاملات پر قانون کے مطابق فےصلے ہوں گے‘ اےن آر او پر سپرےم کورٹ کے فےصلے پر عملدرآمد جاری ہے، وزےراعظم نے کہا کہ مسلم لےگ(ن) اہم سےاسی جماعت اور بڑی جمہوری قوت ہے اسے ہم اہم سےاسی قومی امور پر ساتھ لےکر چلتے رہےں گے، ذرائع کے مطابق انہوں نے نواز شرےف کو ےقےن دلاےا کہ احتساب کے نئے بل پر اختلافات جلد ختم ہو جائےں گے‘ مسلم لےگ(ن) کی سفارشات پہلے ہی بل کا حصہ بنانے کے احکامات جاری کردئےے گئے ہےں، آئےن کو اس کی اصل شکل مےں بحال کرنے کا ہم نے تہےہ کےا ہوا ہے اور آئےنی کمےٹی مارچ مےں اپنی سفارشات پارلےمنٹ مےں لے آئے گی۔ نوازشریف نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ مسلم لیگ (ن) مڈٹرم الیکشن کی حمایت نہیں کرے گی۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیاگیاہے کہ سیاسی جماعتیں کسی صورت جمہوری اداروں کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گی دونوں رہنماﺅں نے پارلیمنٹ کی بالادستی، آئین و قانون کی حکمرانی اور سیاسی نظام کو مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔ محمد نواز شریف نے مطالبہ کیا کہ جمہوری اداروں کے استحکام کیلئے آمرانہ دور کی ترامیم کو آئین سے نکالا جائے میثاق جمہوریت پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کیا جائے۔ وزیراعظم گیلانی نے ایک بار پھر عزم کیا کہ قوم 1973ءکے آئین کی اصل شکل میں بحالی کی جلد خوشخبری سنے گی۔ وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم اور کئی دوسرے وزرا بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اس بات پر بھی اتفاق کیاگیا کہ جمہوری اداروں کے استحکام کیلئے آئین و قانون کی پاسداری ضروری ہے پارلیمنٹ کی خود مختاری کیلئے میثاق جمہوریت پر عملدرآمد ناگزیر ہے ملاقات ایک گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی۔ نواز شریف نے کسی تاخیر کے بغیر 17ویں ترمیم کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ملک میں کسی بھی حوالے سے محاذآرائی کو پیدا نہیں ہونے دیں گے جمہوری طریقے سے مسائل حل کئے جائیں گے۔ دونوں رہنما¶ں نے پارلیمنٹ کی بالادستی‘ آئین‘ قانون کی حکمرانی‘ سیاسی نظام کے استحکام اور میثاق جمہوریت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں نے اداروں کے استحکام کے لئے سیاسی قوتوں کے قریبی روابط پر زور دیا۔ نوازشریف نے کہا کہ آمرانہ دور کی آئینی ترامیم کو میثاق جموہریت سے ختم کیا جائے۔ مذاکرات میں 17ویں ترمیم کے خاتمے اور میثاق جمہوریت پر عملدرآمد پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ چودھری نثار نے کہا کہ حکومت کو سفارتی کوششیں تیز کر کے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا بندوبست کرنا چاہئے‘ وزیراعظم کو خود کردار ادا کرنا پڑے گا تو وہ گریز نہ کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بعض معاملات میں آئینی طریقہ کار اختیار کرنے کی وجہ سے دیر ہو رہی ہے‘ انہیں یقین ہے کہ حکومت کی مجبورریوں کو سپریم کورٹ سمھجھتی ہے۔ حکومت قانون کی حکمرانی پر پورا یقین رکھتی ہے لیکن سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں کچھ نکات وضاحت طلب ہیں جن کی وضاحت ہوتے ہی حکومت اس پر من و عن عملدرآمد کرائے گی۔ ججوں کی تقرریوں میں جان بوجھ کرر دیر نہیں کی جا رہی آئندہ چند روز میں یہ تقریاں عمل میں آ جائیں گی۔ انہوں نے نوازشریف کی طرف سے جمہوریت کے خلاف کسی قسم کی سازش کا حصہ نہ بننے پر انکار خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جمہوریت کے لئے یہ جذبہ اگر تمام سیاسی جماعتیں اپنائیں تو کوئی بھی طاقت پاکستان میں جمہوریت کو ڈی ریل نہیں کر سکتی۔ گیلانی نے کہا کہ حکومت جلد از جلد 17ویں ترمیم کا خاتمہ چاہتی ہے اور اس کے لئے آئینی کمیٹی کی سفارشات کا انتظار کیا جا رہا ہے اور جیسے ہی آئینی اصلاحاتی کمیٹی متفقہ طور پر آئین میں تبدیلی کے لئے اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرے گی حکومت ان سفارشات کو اسی وقت قومی اسمبلی میں لے آئے گی‘ حکومت مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔
Post New Comment