لاہور (رپورٹ : فرخ سعید خواجہ) مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں فوج جیت سکتی ہے نہ طالبان‘ مالاکنڈ‘ فاٹا اور بلوچستان میں شورش اور ردعمل کے طور پر فوجی طاقت کا اندھا دھند استعمال ملک کو تباہی کی جانب دھکیل رہا ہے‘ مالاکنڈ میں فل سکیل ملٹری آپریشن کا فیصلہ کس اتھارٹی نے کس کے مشورے سے کیا ہے۔ فوجی کارروائی کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا مقصد چند اشخاص کے فیصلے پر پارلیمنٹ کی مہر لگوانا ہے جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مسلم لیگ (ن) خدانخواستہ مرکزی حکومت میں شامل ہو گئی تو آخری دفاعی لائن بھی کمزور پڑ سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایوانِ وقت میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں انہوں نے مدیر اعلیٰ نوائے وقت گروپ مجید نظامی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ سعد رفیق نے مزید کہا کہ پاکستان کو درپیش بحرانوں کا حل نکالنے کیلئے سیاسی اور فوجی قیادت کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا۔ مالاکنڈ میں تباہی کی ذمہ داری سیاسی‘ فوجی قیادت اور طالبان تینوں پر عائد ہوتی ہے۔ سنی علماء مذمتی ریلیاں نکال کر طالبان ہی کی طرح ملک کی کوئی خدمت نہیں کر رہے۔ بزدل حکمران مصالحتی کوشش ترک کر دیں تو ایک قوم ہو کر اندرونی و بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تھوڑی سی غیرت کا مظاہرہ کریں تو ڈرون حملے بند ہو سکتے ہیں۔ بلوچستان کے مسئلے پر محض معافی مانگنے‘ طفل تسلیاں دینے سے بلوچوں کو ساتھ نہیں رکھا جا سکتا۔ اگر عدلیہ آزاد ہو چکی ہے تو پھر لال مسجد پر اعلیٰ عدالتی کمشن کی تشکیل اور نواب اکبر بگٹی کے قتل پر سوموٹو ایکشن کیوں نہیں لیا گیا اور کیا یہ معاملات جیلوں کے دورے سے زیادہ اہمیت کے حامل نہیں ہیں۔ طالبان اگر واقعی شریعت چاہتے ہیں تو انہیں اپنا رویہ بدلنا ہو گا۔ الطاف حسین کے حوالے سے کہا کہ اگر پکا قلعہ آپریشن جائز نہیں تھا تو پھر مالاکنڈ و دیگر علاقوں میں فوجی آپریشن کس طرح درست ہو سکتا ہے، الطاف حسین پنجابیوں کو طعنے دینے کی بجائے وطن آ کر مثبت کردار ادا کریں۔ سیاسی جماعتیں سِول سوسائٹی‘ وکلائ‘ دانشور مل کر قومی پرچم اٹھائے تمام بڑے شہروں میں باہر نکل آئیں اور امریکہ سے افغانستان خالی کرنے کا مطالبہ کریں۔
سعد رفیق
Post New Comment