تازہ ترین:

طالبان نے ملک بھر میں نفاذ شریعت کیلئے حامی تنظیموں کو ملا کر یونائٹیڈ آرمی بنا لی

ـ 12 مئی ، 2009
  • Adjust Font Size

لاہور (معین اظہر سے) تحریک طالبان پاکستان نے 12 مذہبی اداروں اور تنظیموں پر مشتمل مسلم یونائیٹڈ آرمی بنا لی ہے جس میں پاکستان بھر کی عسکریت پسند تنظیمیں شامل ہیں جن کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں۔ وزارت داخلہ کی طرف سے صوبوں کو ارسال کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلم یونائیٹڈ آرمی کے نام سے تحریک طالبان پاکستان نے نئی فورس بنا لی ہے جس میں انہوں نے لشکر جھنگوی‘ تحریک نفاذ شریعت محمدی مولوی فضل گروپ چ۔حزب مجاہدین‘ جیش محمد‘ خدام اسلام‘ رحمت ویلفیئر ٹرسٹ مسعود اظہر گروپ‘ تحریک طالبان پنجاب‘ حرکت الجہاد اسلامی‘ الیاس کشمیری گروپ شامل ہیں۔ انہوں نے نفاذ شریعت سے متعلق چارٹر آف ڈیمانڈ تیار کیا ہے۔ جس کے لئے یہ اپنی کارروائیوں کا آغاز کریں گی۔ محکمہ داخلہ پنجاب کو وزارت داخلہ کی بھجوائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں بہاولپور‘ ملتان‘ ڈی جی خان‘ میانوالی اور خانیوال‘ ساہیوال میں ان عسکریت پسند تنظیموں کا زیادہ اثر ہے اور قاری نعیم آف بہاولپور‘ قاری عمران ملتان‘ عصمت اللہ خانیوال اور رانا افضل خانیوال کے علاوہ درہ آدم خیل میں کمانڈ ہیڈ آفس سے ان کے رابطے ہیں اور طارق نامی شخص کو ان کا کمانڈر بنایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ تنظیمیں اسلام آباد میں غیر ملکی سفارت خانوں‘ وزیراعظم‘ وفاقی اداروں‘ راولپنڈی میں جی ایچ کیو اور حساس اداروں کے دفاتر کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ رپورٹ میں لاہور کو دہشت گردی کے خطرے کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دے دیا گیا ہے کیونکہ یہاں ہونے والے دہشت گردی کے کسی بھی واقعہ کو میڈیا کوریج زیادہ ملتی ہے۔ اس کے علاوہ فیصل آباد‘ اٹک اور راولپنڈی میں شریعت یا شہادت کے پملفٹ کے تقسیم کئے جانے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق یہ نئی تنظیم اپنے پیغامات ویڈیو‘ لیٹر‘ پمفلٹ‘ موبائل میسج‘ ٹیلی فون کے ذریعے ایک دوسرے کو پہنچا سکتی ہے۔ اس لئے صوبے اس پر نظر رکھیں۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا جائے۔ وال چانکگ کرنے اور اشتعال انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ وزارت داخلہ نے فوری خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد فائرنگ کے علاوہ بم دھماکے اور خودکش حملے کر سکتے ہیں جس کے لئے ہوم میڈ پوٹاشیم کے الیکٹرک بم اور آر ڈی ایکس‘ ٹی این ٹی استعمال ہو سکتی ہے۔ جبکہ طالبان اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اپنے لئے عوامی ہمدردی کو حاصل کرنے کی کوششیں بھی کر سکتے ہیں۔ اس لئے تمام اضلاع میں مذہبی تنظیموں کے غیر ضروری اجتماعات پر پابندی لگا دی جائے۔ تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام سے خودکش حملوں کے خلاف فتوے لئے جائیں۔ غیر قانونی طور پر چندہ جمع کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ مختلف علاقوں میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جائے۔ صوبائی داخلی راستوں پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں اور مسافروں کو چیک کیا جائے۔
بونائیٹڈ آرمی

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions