نوائے وقت گروپ کے زیراہتمام ایوان وقت میں ''بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مزید ٹیکس ناگزیریا حکومتی اخراجات میں کمی" کے موضوع پر مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔ مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے ماہرمعاشیات اور ڈاکٹر خواجہ امجد سعید نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے بجائے بجلی کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہماری آمدنی کا پینتالیس فیصد قرضوں کے سود کی مد میں چلا جاتا ہے حکومت کو اپنے اخراجات میں کمی کرنا ہوگی۔ پاکستان انجنیئرنگ فورم کے صدرامتیازحسین شاہ نے کہا کہ ہم سالانہ پندرہ ارب یونٹ بجلی استعمال کرتے ہیں، جتنا پیسہ ہم تیل خریدنے پر خرچ کرتے ہیں اس سے ملک میں تین ڈیم تعمیرکئے جاسکتے ہیں۔ مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے ورکنگ ویمن آرگنائزیشن کی ڈائریکٹرآئمہ محمود کا کہنا تھا کہ حکومت صرف غریبوں کا خون چوس رہی ہے۔ اپنے اخراجات میں کمی نہیں کر رہی۔ مسلم لیگ نون کے رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹراسد اشرف نے واضح کیا کہ پنجاب حکومت انے اپنے اخراجات میں نمایاں کمی کی ہے، خاص طور پر ایوان وزیر اعلی کے اخراجات پر بھاری کٹ لگایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کونہ تو مزید ٹیکس لگانے چاہییں اور نہ ہی بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا چاہیے۔ اس موقع پر جمعیت اہلحدیث کے ابتسام الہی ظہیر کا کہنا تھا کہ ملک کی دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین ٹیکس چوری کر رہے ہیں، عوام انہیں مسترد کردیں، جب تک کرپشن کرنے والوں کے سرقلم نہیں کئے جاتے ملک سے کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوگا، مذاکرے کے میزبان خواجہ فرخ سعید تھے۔
Post New Comment