سندھ اوربلوچستان کے ساحلی علاقوں میں آنے والی طوفان اور بارشوں سے اٹھارہ افراد جاں بحق ہوئے جبکہ دو سو سے زائد کشتیاں ابھی تک نہیں ملیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی

ـ 12 جون ، 2010
  • Adjust Font Size
سندھ اوربلوچستان کے ساحلی علاقوں میں آنے والی طوفان اور بارشوں سے اٹھارہ افراد جاں بحق ہوئے جبکہ دو سو سے زائد کشتیاں ابھی تک نہیں ملیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی

لیفٹیننٹ جنرل (ر) ندیم احمد نے یہ بات اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ گوادرمیں ریکارڈ تین سواٹھہتر ملی میٹر بارشی ہوئی۔ ایمرجنسی کا بروقت اعلان کرنے کی وجہ سے نقصان کم ہوا، ایک لاکھ سے زائد افراد کو حفاظتی مقامات پر رکھا گیا، جن میں سے اکثر اپنے گھروں میں پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں چار سے پانچ سو کچے گھر متاثر ہوئے ہیں جن کے نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ عطاء آباد جھیل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جھیل میں جتنا پانی آرہا ہے اس سے زیادہ اخراج ہو رہا ہے۔ جھیل کو دھماکہ کے ذریعہ اڑایا گیا تواس کا باقاعدہ طورپراعلان بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں جھیل کی وجہ سے زرعی زمینیں کاشت کے قابل نہیں رہیں ان کا معاوضہ دیا جائیگا۔ این ڈی ایم اے کے سربراہ نے کہا کہ قراقرم ہائی وے کا بیس کلومیٹر سے زائد راستہ زیرآب ہے، اس کا متبادل راستہ بنانے پردس سے بارہ کروڑ روپے خرچ ہوں گے جبکہ یہ منصوبہ چارسال میں مکمل کیا جاسکے گا۔

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions