اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) 2008-09 ء کے دوران ملک کی اقتصادی شرح نمو2 فیصد رہی ہے جبکہ ہدف4.5 فیصد مقرر کیا گیا تھا‘ اس میں 2.5 فیصد کمی ہوئی۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر سروسز سیکٹر‘ سرمایہ کاری کے شعبوں کے اہداف بھی حاصل نہیں کئے جاسکے۔ زرعی سیکٹر4.7 فیصد کی گروتھ کے ساتھ نمایاں رہا ملک کے ذمہ قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا۔ فی کس آمدن میں4 ڈالر کااضافہ ہوا جو1042 ڈالر سے بڑھ کر1046 ڈالر ہوگئی۔ بجٹ میں ٹیکس ان پر لگایا جائے گا جواس وقت نیٹ میں نہیں۔ آئی ڈی پیز کے لئے رقوم بجٹ میں مختص کریں گے۔ درآمدات و برآمدات دونوں میں کمی آئی ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائی جائیں گی۔ آئی ایم ایف سے کہا ہے کہ پاکستان کے لئے4 بلین ڈالر کی کریڈٹ لائن انشورنس کے طورپر قائم کرے۔ زرعی ٹیکس کا آج اعلان کردوں تو کل شہید ہو جاؤں گا۔ وزیراعظم کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقتصادی سروے برائے 2008-09 ء جاری کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق اور دوسرے اعلیٰ افسر موجود تھے۔ شوکت ترین نے اقتصادی سروے کے نمایاں نکات بتاتے ہوئے کہاکہ 2 فیصد گروتھ حاصل ہوئی جسمیں نمایاں کردار سروسز سیکٹر(1.92) اور پیداواری سیکٹر( 0.08 ) فیصد کا ہے۔ گروتھ میں زراعت کا حصہ ایک فیصد رہا۔ موجودہ سال میکرو اکنامک استحکام کے حصول کا سال تھا اس سال کے دوران4 مختلف قسم کے چیلنجز کا سامنا رہا۔ ان میں میکرو اکنامک بحران‘ بیرونی ذرائع سے شاکس‘ ملکی سیکورٹی کی صورتحال شامل ہیں۔ عالمی اقتصادی بحران کے اثرات بھی پڑے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بھی لاگت ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے شرح نمو کا ہدف حاصل نہیں کیا جاسکا گذشتہ مالی سال میں یہ ہدف4.1 فیصد تھا۔ دنیا کی شرح ترقی 1.3 فیصد منفی ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک کی شرح ترقی1.6 فیصد رہے گی۔ اس لحاظ سے پاکستان کی شرح ترقی بہتر ہے۔ زراعت کی شرح نمو4.7 فیصد رہی جبکہ گذشتہ مالی سال میں یہ1.1 فیصد تھی جبکہ اس سال کا ہدف3.5 فیصد تھا۔ اس سیکٹر میں ویلیو ایڈیشن کی گروتھ7.7 فیصد رہی ہے۔ لائیو سٹاک کی شرح نمو3.7 فیصد رہی جبکہ گزشتہ سال میں شرح4.2 فیصدتھی۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ترقی کی شرح3.3 فیصد رہی جبکہ ہدف6.1 فیصد تھا۔ ایس ایم مینوفیکچرنگ سیکٹر کی شرح ترقی7.5 فیصد رہی۔ لارجر سیکٹر مینوفیکچرنگ کی شرح ترقی 7.7 فیصد گر گئی اس کی بڑی وجہ توانائی کی کمی‘ سیکورٹی کا کمزور ماحول اور مارچ2009 ء میں سیاسی گڑبڑ تھی۔ سروسز سیکٹر کی شرح ترقی3.6 فیصد رہی جبکہ ہدف6.1 فیصد تھا۔ ہول سیل اینڈ ریٹیل ٹریڈ سکیٹر کی شرح ترقی3.1 فیصد رہی جبکہ ہدف5.4 فیصد تھا۔ فنانس اینڈ انشورنس سیکٹر کی شرح نمو1.2 فیصد منفی رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فنانشل سیکٹر دنیا کی معیشت سے منسلک ہے اور اس پر عالمی بحران کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ سرمایہ کاری جی ڈی پی کے19.7 فبیصد کے برابر گر گئی۔ پرائیویٹ سیکٹر سرمایہ کاری بھی تسلسل سے گر رہی ہے۔
Post New Comment