سوات کا مسئلہ مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے‘ حکمرانوں کو اپنی سمت کا علم نہیں

ـ 11 جون ، 2009
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (خبرنگار/ نوائے وقت نیوز) سوات کا مسئلہ انسانی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے حکمرانوں کو اپنی سمت کا کوئی علم نہیں۔ پارلیمنٹ کو انگوٹھے اور بوٹ کے نیچے نہ دبایا جائے‘ سوات کے بے گھر شہری پاکستانی ہیں‘ ملک کے کسی بھی حصہ میں جا سکتے ہیں‘ لوگوں کو حقوق دیئے جائیں یہ سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ ان خیالات کااظہار سوات کی صورتحال پر بحث کے دوران سینیٹرز نے کی۔ ن لیگ کے سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ سوات کامسئلہ ایک دن کا نہیں یہ مسئلہ نو سے دس سال کا ہے وہ انسانی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے اور سیاسی قوتیں اس کی ذمہ دار ہیں پورا کا پورا پاکستان بارود کا ڈھیر بن گیا ہے ان حالات کا ذمہ دار جنرل مشرف ہے آج کے حکمران کنفیوز نظر آتے ہیں پوری قوم کا نروس بریک ڈاؤن ہو گیا ہے حکمران ملک چلانے میں ناکام ہو چکے ہیں 30لاکھ لوگ اپنے ملک میں بے گھر ہو گئے ہیں ایک دھڑا آپریشن کا حامی اور دوسرا مخالف ہے یہ دھڑے حکومت کے اندر بیٹھے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن حکومت کے ساتھ بیٹھے ہیں اور مخالفت بھی کر رہے ہیں۔ حکمران امریکہ کے دوست بنیں طفیلی نہ بنیں ہالبروک کو کس نے حق دیا ہے کہ وہ ہمارے ڈی جی آئی ایس آئی سے ملے پاکستان کا شہری ہونے کی حیثیت سے میں سوال کرتا ہوں ایک ڈپٹی سیکرٹری حیثیت کا شخص میرے ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات کر کے چلا جاتا ہے یہ ملک کس طرح چلایا جا رہا ہے۔ ہمیں کوئی یہ بتانے کے لئے تیار نہیں کہ ڈرونز حملے کیوں ہو رہے ہیں پارلیمنٹ کو انگوٹھے یا بوٹ کے نیچے نہ دبایا جائے بلکہ اس سے مشاورت کی جائے۔ سینیٹر سردار علی خان نے کہا کہ دہشت گردی ایک مسئلہ ہے سوات کے بے گھر لوگ پاکستان کے شہری ہیں انہیں ملک کے کسی بھی حصے میں رہنے کی اجازت ہے بیت المال 24گھنٹے کام کر کے بے گھر افراد کو ریلیف فراہم کر رہا ہے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا چاہئے مغربی سرحدوں پر انتہا پسندوں کی صورت میں حملہ ہو چکا ہے ریحانہ یحییٰ بلوچ نے کہا کہ جب لوگ بے گھر نہیں ہوتے تھے اور اموات کم ہو رہی تھیں تو اس وقت ایکشن کیوں نہیں لیا گیا تھا کراچی میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پیچھے کون ہے کوئی اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ سینیٹر گل محمد لاٹ نے کہا کہ ٹوکیو میں 78 ملین ڈالر امداد حاصل کی گئی ہم ملکی مفاد میں جنگ لڑ رہے ہیں کلثوم پروین نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کا نیا سلسلہ پاکستان میں شروع ہو گیا ہے جس میں 50 افراد کو قتل کر دیا گیا ہے بلوچستان اور صوبہ سرحد میں بھی صورتحال سنگین ہے ہمارے ملک کو کسی کی نظر لگ گئی ہے اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ان بے گھر افراد میں طالبان نہیں آئے ہیں حکومت سے اپیل ہے کہ اگر یہ قدم اٹھایا گیا ہے تو اسے کامیاب ضرور ہونا چاہئے۔ بنوں تک آپریشن شروع ہو گیا ہے بلوچستان کے بہت سے حصوں میں قومی ترانہ نہیں بجانے دیا جا رہا اور نہ ہی قومی پرچم لہرانے دیا جا رہا ہے یہ خطرناک صورتحال ہے اب بھی وقت ہے ان کو حق دیا جائے۔ دریں اثناء چیئرمین سینٹ فاروق ایچ نائیک نے سندھ یونیورسٹی جامشورو میں پختون طلباء کے مسئلے کے حل کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دیدی ہے جو وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کرکے اس مسئلہ کا پائیدار حل تلاش کرے گی۔ کمیٹی سینیٹرز میاں رضا ربانی‘ زاہد خان‘ حاجی عدیل‘ پروفیسر خورشید‘ عبدالرحیم مندوخیل‘ حاصل بزنجو اور شاہد سید پر مشتمل ہوگی۔ اس سے قبل مختلف اراکین سینیٹ نے نکتہ اعتراض پر سندھ یونیورسٹی جامشورو کے پختون طلباء کو درپیش مشکلات کا تفصیلی ذکر کیا۔ سینٹ میں حکومت کی بڑی اتحادی جماعت ایم کیو ایم حکومت پر تنقید کرتی رہی‘ چیئرمین فاروق ایچ نائیک نے زاہد حسین خان کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے حوالے سے کسی قسم کی بات کرنے سے روک دیا۔ وقفہ سوالات میں وفاقی وزیر منظور وٹو کے لمبے جوابات دینے پر ظفر علی شاہ نے ٹوک دیا جس پر ایوان میں قہقہ لگا ظفر علی شاہ نے طنزیہ کہا کہ وزیر موصوف بتائیں کہ ملک بھر میں صحت مند صنعتی یونٹ کتنے ہیں بیمار یونٹس کی لمبی تعداد بنا دی ہے۔
سینٹ

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions