آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع پر ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا‘ ملک میں نہ کھلنے والے مقدمات باہر کیسے کھل سکتے ہیں : وزیراعظم

حوالہ : اسلام آباد (نوائے وقت نیوز + نمائندہ خصوصی + مانیٹرنگ + ایجنسیاں) ـ 11 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز + نمائندہ خصوصی + مانیٹرنگ + ایجنسیاں) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ جو مقدمات ملک کے اندر نہیں کھل سکتے وہ باہر کیسے کھل سکتے ہیں۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع پر ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا‘ الزامات پر کسی کو استعفیٰ دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس افتخار بھی مشرف کے سامنے ڈٹے رہے ہم بھی عدالتوں میں دفاع کریں گے‘ احتساب کے لئے سب کو تیار رہنا ہو گا۔ نوازشریف موجودہ سسٹم کے ساتھ مخلص ہیں‘ خواہش ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں آ کر کردار ادا کریں۔ احتساب بل پر کام جاری ہے یہ عوامی امنگوں کا ترجمان ہو گا۔ قومی اسمبلی میں خطاب‘ نجی ٹی وی سے گفتگو‘ عابدہ حسین‘ حسین حقانی سے ملاقاتوں اور ایرانی سفارتخانے میں قومی دن کی تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد کو اعتماد ہے کہ میں ان کے ساتھ ٹھیک طریقے سے چلوں گا۔ انہوں نے کہا آرمی چیف انتہائی پروفیشنل ہیں وہ پارلیمانی جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی حکومت کے ساتھ اچھی ورکنگ ریلیشن شپ ہے‘ قومی اسمبلی میں پبلک اکا¶نٹس کمیٹی کی رپورٹ پیش کئے جانے کے بعد وزیراعظم نے کہا کہ پی اے سی کی متفقہ رپورٹ سے اس کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے۔ نمائندہ خصوصی کے مطابق پارٹی رہنما عابدہ حسین سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا حکومت سیاسی قوتوں کے ساتھ مفاہمت اور مشاورت کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے تاکہ قومی اہمیت کے ایشوز پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔ سیاست میں محاذ آرائی سے وسیع ترقومی مفاد کو نقصان پہنچتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت تمام اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کو بڑے ایشوز پر فیصلہ سازی میں ساتھ لے کر چلنے کے لئے پرعزم ہے۔ ریڈیو نیوز کے مطابق قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا نیا احتساب بل غیر جانبدار اور شفاف ہو گا۔ نوائے وقت نیوز کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہم احتساب کے بل پر کام کر رہے ہیں اور جلد یہ بل ایوان میں پیش کر دیا جائے گا‘ کوئی شخص بھی احتساب سے بالاتر نہیں ہو گا۔ این این آئی کے مطابق انہوں نے کہا احتساب بل ایوان میں لائیں گے تاکہ پوری قوم کو پتہ چل سکے کہ ہم لوگ بھی احتساب کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نظام کے استحکام اور عوامی فلاح و بہبود کے لئے ہرممکن اقدامات کئے جائیں گے۔ وزیراعظم نے متفقہ رپورٹ پیش کرنے پر پی اے سی کمیٹی کو مبارکباد دی۔ مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے‘ امریکہ کے ساتھ کثیر الجہتی امور اور سٹریٹجک پارٹنر شپ کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ امریکہ کو دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی دور کرنے اور ایک دوسرے کو قریب لانے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔ آئی این پی کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا نوازشریف جمہوریت کیلئے کام کر رہے ہیں، ڈرون حملے بند کرنے کیلئے امریکہ کو واضح طور پر کہہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا نوازشریف ان کے نہیں بلکہ حکومت اور جمہوریت کے حمایتی ہیں وہ جمہوریت کی مضبوطی کیلئے مخلص ہیں۔ حکومت قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مفاہمت اور مشاورت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ این این آئی کے مطابق انٹرویو کے دوران وزیراعظم گیلانی نے میثاق جمہوریت پر عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی اصلاحاتی کمیٹی آزادانہ طور پر اپنا کام کر رہی ہے اور یہ تعین وہی کریگی کہ معاہدے پر کس قدر عمل کیا جانا چاہئے، عدلیہ کا بے حد احترام کرتے ہیں، آرمی چیف پروفیشنل اور جمہوریت کے حامی شخص ہیں، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق وقت سے پہلے کچھ نہیں کہا جا سکتا، نواز شریف کو مجھ پر مکمل اعتماد ہے، وہ میرے ساتھ نہیں جمہوریت اور نظام کے ساتھ کھڑے ہیں، این آر او کے خالق ہم نہیں جنرل پرویز مشرف ہیں جو مقدمات ملک کے اندر نہیں کھل سکتے وہ ملک کے باہر کیسے کھل سکتے ہیں سابق اٹارنی جنرل کا معاملہ عدالت میں ہے فیصلہ آنے دیں جو کچھ بھی آئین کے مطابق ہو گا اس پر عمل کرینگے، آئینی اصلاحاتی کمیٹی آزادانہ طور پر اپنا کام کر رہی ہے کبھی ان کے کام میں مداخلت نہیں کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر مستقبل میں پاکستان اور بھارت میں اتحادی حکومتیں ہی بنیں گی، ملکی معاملات پر تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں این آر او پر کسی نے اچھی بات کی تو اسے سراہتے ہیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین حکومت نہیں ریگولیٹ اتھارٹی کرتی ہے بھارت میں چالیس ہزار میگاواٹ کمی کا سامنا ہے وہاں تو اتنا ہنگامہ نہیں ہوتا، ڈاکٹر عافیہ قوم کی بیٹی ہے اس کی رہائی کیلئے سفارتی چینل استعمال کرینگے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ہدایت کی ہے کہ امریکہ سے اچھے سفارتی تعلقات میں امید ہے کامیابی ملے گی۔ مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق انہوں نے کہا ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھائیں گے‘ بلوچستان کے سیاسی قیدیوں کو عام معاف دینے پر غور کر رہے ہیں‘ براہمداغ بگٹی کے ساتھ رابطے ہیں۔ بلوچ رہنما¶ں کے ساتھ بلاواسطہ رابطے ہو رہے ہیں۔ بلوچستان پیکج پر عملدرآمد کے بعد بلوچ سرداروں سے براہ راست ملاقاتیں ہوں گی۔ ایران کے ساتھ 11 سو میگاواٹ پر بات چیت ہو رہی ہے‘ بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات شروع کرنا چاہتے ہیں‘ اطلاعات ہیں کہ سونیا گاندھی نے جامع مذاکرات شروع کرنے کی بات کی ہے‘ ہم ذمہ دار ریاست ہیں اور ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں‘ ہماری کمانڈ اینڈ کنٹرول موجود ہے‘ ہم کم سے کم ڈیٹرنس رکھیں گے۔ بھارتی وزیراعظم کو میں نے بلاواسطہ طور پر پاکستان کے دورے کی دعوت دی تھی‘ دونوں ممالک کی افواج کو تحفظات ہیں لیکن ہم کہتے ہیں کہ جنگ مسائل کا حل نہیں اس لئے مذاکرات ہونے چاہئیں۔ پاکستان میں کوئی بلیک واٹر موجود نہیں‘ رحمن ملک کی بات حکومتی پالیسی ہے۔
وزیراعظم

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions