اسلام آباد (ثناءنےوز + اے این این) وکلا رہنماوں نے کہا ہے کہ چیف جسٹس افتحار محمد چودھری سمیت سپریم کورٹ اور چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس کے ججوں کی بحالی کے باوجود بھی آزاد عدلیہ کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے وکلا کی اس تحریک سے آزاد عدلیہ کی بنیاد ضرور رکھ دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر علی احمد کرد نے برطانوی ریڈیو کو بتایا کہ موجودہ جمہوری نظام اور مضبوط پارلیمنٹ وکلا تحریک کی ہی مرہون منت ہے۔ سپریم کورٹ بار کے صدر قاضی انور نے کہا کہ قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) کے بارے میں انتظامیہ کی طرف سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر بار ایسوسی ایشن ایک درخواست عدالت میں دائر کرے گی۔ عدلیہ کی آزادی کے لیے وکلا تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک صیح معنوں میں آزاد عدلیہ کا قیام عمل میں نہیں آ جاتا۔ سپریم کورٹ کے وکیل احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ افراد کی بجائے اداروں کی مضبوطی ضروری ہے۔ برطانوی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدالتوں میں اچھی اقدار کے حامل ججوں کو تعینات کیا جائے جن کے فیصلے اس بات کی گواہی دیں کہ واقعی عدلیہ آزاد اور خودمختار ہو گئی ہے۔ علاوہ ازیں نیشنل پریس کلب میں آر آئی یو جے کے زیر اہتمام ”آزاد عدلیہ‘ جمہوری استحکام اور میڈیا کی آزادی کی ضامن“ کے موضوع پر گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ صدر آصف زرداری آئینی طریقے سے منتخب ہوئے ہیں ان کو غیر آئینی طریقے سے نہیں ہٹایا جانا چاہئے، آئینی اصلاحات کمیٹی کی ججوں کی تقرری سے متعلق سفارشات درست ہیں تاہم ان میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے، اگر وکلا کو اعتراض ہے تو جوڈیشل کمشن میں ان کی نمائندگی بڑھا دی جائے، وکلا بھی ہر ایک لڑائی چھوڑ دیں، سپریم کورٹ کو لاپتہ افراد کا کیس پوری شدت سے نمٹانا چاہئے، عدلیہ کی آزادی کے ثمرات سب تک پہنچیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما صدیق الفاروق نے کہا کہ پاکستانی معاشرہ بار بار کے مارشل لاءکے باعث انحطاط کا شکار ہوا۔ تمام مارشل لاءغیر ملکی مفادات کے تحفظ کے لئے لگائے گئے اور پارلیمنٹ کو ربڑسٹمپ بنایا گیا، ملکی تاریخ میں کوئی بھی ایسا کوئی سیاسی رہنما نہیں آیا جس میں کسی نہ کسی صورت میں مارشل لاءکا ساتھ نہ دیا۔ میڈیا کو آصف زرداری، نوازشریف سمیت سب کی خامیاں سامنے لانی چاہئیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سید اسرار شاہ نے کہا کہ آج ہمیں جو جمہوریت ملی ہے وہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور بےنظیر بھٹو شہید کی شہادت کے باعث نصیب ہوئی ہے ہمارے اس کریڈٹ کو ڈس کریڈٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سید واجد حسین گیلانی نے کہا کہ ملک میں جمہوریت عدلیہ کی تحریک کی بدولت آئی ہے اور عدلیہ کے فیصلوں پر من وعن عمل ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ بار کے صدر قاضی محمد انور اعتزاز احسن کا خطاب سنے بغیر گول میز کانفرنس سے روانہ ہو گئے۔
Post New Comment