لاہور (سلمان غنی) تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ کرپشن اور لوٹ مار کے رجحان کے باعث ملک تباہی کے کنارے پر ہے۔ پاکستانی خون پسینہ کی کمائی 8‘ 9 ارب ڈالرز سالانہ ملک میں بھجواتے ہیں جبکہ حوالہ کے ذریعے 8‘ 9 ارب ڈالرز ملک سے باہر چلے جاتے ہیں جس کے باعث پاکستان کمزور ہوتا ہے۔ ملک غربت کے سمندر میں ڈوب رہا ہے اور لیڈرشپ اپنے اربوں ڈالرز ملک سے باہر لے جاچکی ہے۔ مغرب میں جمہوریت کی بنیاد ایمانداری پر ہے اور یہاں کرپشن پر۔ این آر او کی وجہ سے پاکستان کو بے حد نقصان پہنچا۔ قومی لٹیرے جمہوری سسٹم کا حصہ نہ ہوتے تو آج پاکستان بہت آگے جاچکا ہوتا۔ آزاد عدلیہ اور فعال میڈیا کے بعد آزادانہ انتخابات کیلئے خودمختار الیکشن کمشن قومی ضرورت ہے جس کیلئے تگ و دو کرینگے۔ میں شکست کے لفظ سے ناآشنا ہوں۔ آخری فتح تک لڑنا جانتا ہوں۔ کرکٹ میں بھی ثابت کیا‘ خدا کے فضل و کرم سے سیاسی میدان میں بھی فتح کے جھنڈے گاڑونگا‘ مایوس ہونے والا شخص نہیں۔ ضمنی انتخابات مسلم لیگ (ن) نہیں ریاستی اداروں نے لڑے۔ دھاندلی کی نئی تاریخ رقم کی گئی۔ وہ گزشتہ روز ”وقت نیوز“ کے پروگرام ”اگلا قدم“ میں اظہار خیال کررہے تھے۔ پروگرام کے پروڈیوسر میاں شاہد ندیم اور اسسٹنٹ پروڈیوسر وقار قریشی تھے۔ عمران خان نے کہا کہ 18 فروری کے انتخابات تازہ ہوا کا جھونکا تھے۔ جلاوطن قیادت سے توقع تھی کہ اس نے تاریخ سے سبق سیکھا ہوگا لیکن اس نام نہاد جمہوریت نے عوام میں مایوسی اور بڑھا دی ہے۔ بے یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ پنجاب میں گورننس کے دعوے کئے گئے لیکن یہاں غریب عوام پر چھترول جاری ہے۔ چھترول کے مستحق این آر او زدہ طاقتور ڈاکو اور لٹیرے ہیں جو مسند اقتدار پر دندنا رہے ہیں۔ اس حکومت کی کارکردگی کا اندازہ یہاں سے لگالیں کہ جنرل پرویز مشرف جیسا ڈکٹیٹر جماعت بنانے کی سوچ رہا ہے۔ ان دو سالوں میں ملکی حالات اس نہج پر پہنچے جہاں پرویز مشرف کے دور میں بھی نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ این آر او سے فائدہ اٹھانیوالا شخص آج ملک کا صدر ہے۔ کسی نے ان کے کاغذات چیلنج کرنے کی بھی جرا¿ت نہیں کی۔ جس شخص کیخلاف 140 ارب کرپشن کے الزامات ہیں وہ ہمارا صدر مملکت ہے اور اسی وجہ سے ہم تباہی کے دھانے پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں ہم نے الیکشن کا بائیکاٹ درست اور سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ انتخابات سے قبل ججز کی بحالی ضروری تھی۔ این آر او پر ججز کے فیصلے کے بعد انتخابات ہوتے تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔ انہوں نے آزاد عدلیہ اور فعال میڈیا کو سب سے بڑی نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک الیکشن کمشن بھی آزاد و خودمختار نہیں ہوگا تب تک یہاں آزاد جمہوریت قائم نہیں ہوسکے گی۔ ہندوستان میں انتخابی نتائج اس لئے قبول کرلئے جاتے ہیں کہ الیکشن کمشن آزاد و خودمختار ہے۔ 1970ءکے بعد کوئی انتخاب ایسا نہیں ہوا جس میں دھاندلی نہ کی گئی ہو۔ این اے 55 اور اب این اے 123 میں کھلے طور پر سرکاری وسائل کا استعمال ہورہا ہے۔ تحریک انصاف کے بورڈز اور پوسٹرز پھاڑے جاتے ہیں اور حکمران جماعت کے لگائے جاتے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ہم نے باوجود شدید دھاندلی کے این اے 55 کا نتیجہ تسلیم کیا البتہ این اے 123 میں میدان مارنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔ میں ہار کے لفظ سے ناآشنا ہوں۔ آخری فتح تک لڑنے والا آدمی ہوں۔ کرکٹ میں بھی یہی کیا اور سیاسی میدان میں بھی جیت کر دکھاﺅنگا۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستانی لیڈرشپ اپنا سرمایہ واپس نہیں لاتی تو انہیں یہاں سیاست کا حق نہیں دینا چاہئے۔ نوازشریف جلسے میں کرپشن کے خلاف تقریر کرتے ہیں مگر اسی جلسے میں بجلی چوری کی ہوتی ہے۔ قول و فعل کے اس تضاد نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ مڈٹرم انتخابات کے سوا ہمارے پاس تبدیلی کا کوئی جمہوری راستہ نہیں۔ نوازشریف خود پارلیمنٹ کو ڈمی قرار دیتے ہیں‘ اس پارلیمنٹ میں جانے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا عالم یہ ہے کہ صدر زرداری کچھ اور کہتے ہیں۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر ‘ نوازشریف اور شہبازشریف کے بیانات بھی آپس میں نہیں ملتے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ این آر او کا الیکشن امریکی دباﺅ پر ہوا۔ بے نظیر بھٹو بھی ایسے انتخابات کا حصہ بننے کو تیار نہ تھیں مگر امریکی دباﺅ کارگر ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آج ہمارے ٹیکسوں پر اپنے ہی لوگوں کو مارنے کیلئے جمع ہورہے ہیں۔ وزیرستان پر فوج کشی سے قبل وہاں طالبان نہیں تھے لیکن ڈکٹیشن پر عملدرآمد کردیا گیا۔ ڈرون حملوں کے ذریعے کیا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کو مارنا ہے۔ مرتے غریب اور معصوم عوام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو جنرل پرویز مشرف نے کیا وہی یہ حکومت کررہی ہے۔ ہماری پالیسیوں نے پاکستان میں طالبان کو جنم دیا۔ ہم یہاں فتح کے ڈونگرے برسا رہے ہیں‘ یہ کسی کو نہیں معلوم کہ 60 لاکھ قبائلیوں پر کیا گزر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمران امریکی پتلے ہیں۔ ان کا پیسہ‘ جائیدادیں ملک سے باہر ہیں۔ ہاں میں امریکہ کیخلاف ہوں اس لئے کہ امریکہ ہماری آزادی و خودمختاری کے درپے ہے۔ وہ خود طالبان سے مذاکرات کرتا ہے اور ہمیں روکتا ہے۔ ہمیں تجزیہ کرنا چاہئے کہ ہمنے دہشت گردی کی جنگ میں کیا کھویا کیا پایا؟ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آج یہاں اپوزیشن کا کوئی کردار نہیں۔ پارلیمنٹ ڈرون حملوں کیخلاف قرارداد پاس کرتی ہے لیکن اس پر عملدرآمد کی بجائے اسے فضا میں تحلیل کردیا جاتا ہے۔ اگر اپوزیشن ہوتی تو پھر اس پارلیمنٹ میں نہ بیٹھتی‘ طوفان اٹھا دیتی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوئی خارجہ پالیسی نہیں‘ غلاموں کی کوئی پالیسی نہیں ہوتی۔ میں حکومت اور حکومتی پالیسیوں سے مایوس ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف سے بھی غلطیاں ہوئی ہوں گی۔ تحریک انصاف امیدواروں کی جماعت نہیں‘ عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور وہ تبدیلی کیلئے میری جانب دیکھتے ہیں۔ میں ان کی آواز بنوں گا۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی خود اپنا دشمن بن جائے تو اسے چارسو سازشیں نظر آتی ہیں۔ جنرل پرویز مشرف بھی آخری ایام میں کہتا تھا کہ میرے خلاف میڈیا سازش کررہا ہے۔ میڈیا عوام کی زبان اور ان کا ترجمان ہوتا ہے۔ حکومت عوام کی زبان ہے تو میڈیا کیا کریگا؟ انہوں نے کہا کہ آئینی پیکیج کی باتیں دو سال سے جاری ہیں۔ یہ تمام تر بدنیتی کی علامتیں ہیں۔ سب کچھ صدر زرداری کی دولت چھپانے کیلئے ہورہا ہے۔ کرپشن کو دبانے کیلئے سب کچھ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدان درست ہوں تو بیوروکریٹس خودبخود درست ہوں گے لیکن جب قیادت ہی دو نمبر اور نو نمبر ہوگی تو تھانیدار اور پٹواری دندنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف آئندہ انتخابات میں کرپٹ افراد کو امیدوار نہیں بنائیگی۔ اچھے لوگوں کو اور اچھی شہرت کے حامل افراد کو آگے لائینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر نوازشریف واقعتاً انقلاب چاہتے ہیں تو لائیں اپنی دولت ملک میں واپس‘ اپنے اثاثے پاکستان منتقل کریں۔ ملک میں بہتری کیلئے اپنا ٹیکس پورا ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ گڈگورننس کرپٹ حکمران یقینی نہیں بنا سکتے۔ یہ تو خود گورننس کی ناکامی کا منبع ہیں۔ 90‘ 90 وزراءقومی خزانے پر بوجھ نہیں تو کیا ہیں؟ سٹیل ملز کرپش کیس پر کس نے پردہ ڈالا؟ انہوں نے کہا کہ شوکت ترین کے استعفے نے کرپشن کی نئی تاریخ سے پاکستان کو بچایا ورنہ بے شمار اور رینٹل پاور پلانٹ جنم لیتے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ تھانوں کے اندر چھترول کلچر غریب اور مظلوم افراد کیلئے ہے۔ چھترول پاکستان کا اربوں لوٹنے والوں کی جائے تو پاکستان کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ چھترول ان کی ہونی چاہئے جو قومی دولت لوٹ کر بیرون ملک لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کا مسئلہ بڑا مسئلہ ہے جس نے چھوٹے کسانوں کو پریشان کررکھا ہے لیکن کسی کو اسکی فکر نہیں۔ انہوں نے ایک اور سوال پر کہا کہ آخری فتح میری ہے۔ میں جدوجہد کرنیوالا شخص ہوں‘ کوئی میرے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔
Post New Comment