اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + اے پی پی) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ دو سال کے عرصہ میں اہم معاشی اہداف حاصل کئے گئے اور معیشت دوبارہ ترقی اور استحکام کے راستے پر گامزن ہو گئی ہے۔ وزیراعظم نے یہ بات اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم کی صدارت میں منعقد ہوا کیونکہ ملک میں وزیر خزانہ کے عہدے پر کوئی فائز نہیں ہے۔ اجلاس میں مختلف اہم فیصلے کئے گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کافی بہتر ہیں‘ ریونیو کولیکشن بھی بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ ای سی سی کے فیصلے منتخب حکومت کی طرف سے عوام کی فلاح و بہبود‘ غربت میں تخفیف کے لئے اس کے جذبہ کا مظہر ہوتے ہیں۔ اجلاس میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی خدمات کو سراہا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ معاشی فیصلہ سازی کے لئے ای سی سی اعلیٰ ترین فورم ہے جبکہ انہوں نے وزیراعظم کی حیثیت سے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے تمام فیصلوں کی کابینہ سے توثیق کرانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کو کابینہ کے سامنے رکھنے کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سیاسی تناظر اور معاشی تناظر دونوں کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلوں میں توازن لانا چاہئے‘ حکومت نے سیاسی عزم کے ساتھ متعدد فیصلے کئے جن کا عوام پر اثر ہوا ہے۔ عید کے موقع پر حکومت نے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے ذریعے عوام کو 3 بلین روپے کی سبسڈی دی۔ انہوں نے فیصلوں پر موثر عملدرآمد پر زور دیا۔ قبل ازیں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں چینی کے مناسب سٹاک موجود ہیں حکومت مناسب نرخوں پرچینی خریدے گی جس سے 80 ملین ڈالر کی بچت ہو گی۔ اجلاس میں 0.4 ملین ٹن یوریا درآمد کرنے کی منظوری دی گئی‘ یہ کھاد ٹی سی پی درآمد کرے گی‘ جبکہ اس کھاد میں 0.1 ملین ٹن کھاد فوری طور پر درآمد کی جائے گی‘ اجلاس میں پاکستان آئل سیڈز ڈویلپمنٹ بورڈ کو بحال کرنے کے فیصلے کی توثیق کی گئی‘ پورٹ قاسم کے چینل کو گہرا کرنے کے لئے حکومت کی طرف سے گارنٹی فراہم کرنے کی منظوری دی گئی‘ اس سے منصوبے کے لئے فنانسنگ حاصل کرنے میں مدد ملے گی‘ اجلاس میں پگ منٹ تھکنر اور ایکریلک تھکنر کی درآمد پر 5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے کی منظوری دی‘ اجلاس میں ایلومینیم اور کاپر کے سکریپ کی برآمد کی حوصلہ شکنی کے لئے کاپر اور ایلومینیم ڈیوٹی لگانے کی منظوری دی گئی‘ یہ ڈیوٹی بار‘ راڈز ان گوٹ‘ سلیب‘ بلٹ کی برآمد پربھی لگے گی‘ اجلاس میں وزارت صنعت کی طرف سے نیشنل فرٹیلائزر کی حکمت عملی کے بارے میں پریزنٹیشن دی گئی‘ اجلاس میں پاک امریکن فرٹیلائزر لمیٹڈ کے لئے 16 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مختص کرنے کی منظوری دی گئی‘ اجلاس میں چھوٹے کاشتکاروں سے چاول کی خریداری کے معاملہ کا جائزہ لیتے ہوئے ای سی سی نے ہدایت کی سٹیٹ بینک فنانسنگ کی سہولت کا انتظام کرے تاکہ پاسکو یکم اکتوبر سے سندھ اور یکم نومبر سے پنجاب میں چاول کی خریداری کر سکے‘ کاشتکار سے زیادہ سے زیادہ 500 من چاول خریدنے کے اصول کی پابندی کی جائے صوبائی حکومتیں اور مقامی انتظامیہ چاول میں معاشی اعشارئیوں کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں بتایا گیا کہ کور افراط زر میںکمی آئی ہے ایس پی آئی افراط زر 0.4 فی صد گزشتہ ہفتے کے مقابلہ میں زائد رہا‘ ٹماٹر ‘ کروسین‘ ڈیزل‘ ایل پی پی‘ پٹرول کی قیمتیں کم ہوئی ہیں‘ اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں گندم کے سٹاک 5.1 ملین ٹن ہیں صوبوں اور دوسرے اداروں نے اب تک پاسکو سے اپنے 62 فیصد گندم کے سٹاک اٹھائے ہیں‘ درآمدات میں 31.3 اضافہ ہوا ہے تجارتی خسارہ 22 فیصد کم ہوا‘ یہ جولائی تا جنوری میں 8.4 بلین ڈالر رہا گزشتہ سال اس کا حجم 10.8 فیصد رہا ہے‘ ترسیلات وطن جولائی تا جنوری 5198.1 بلین ڈالر رہیں‘ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائز 14.8 بلین ڈالر رہے۔ اے پی پی کے مطابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے عوام کو ناجائز منافع خوری سے بچانے کےلئے ضلعی، تحصیل اور ٹاﺅن کی سطح پر پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے قیام اور چینی کی درآمد کے فیصلے پر عمل درآمد کی ہدایت کر دی‘ سٹیٹ بنک چاول کی آئندہ فصل کی خریداری کےلئے پاسکو کو بنکوں کے ذریعے قرضہ کی سہولت کی فراہمی یقینی بنائے گا۔ پاکستان آئل سیڈز ڈویلپمنٹ بورڈ کی بحالی، پیٹرو کیمیکل کمپلیکس میں مختلف کیمیائی مصنوعات کی تیاری کے سلسلہ میں فنانشل کلوژر میں توسیع، پورٹ قاسم نیوی گیشن چینل کےلئے آزادانہ ضمانت اور پگمنٹ وآرکیلک تھکنرکی درآمد پر 5 فیصد اور ایلومینیم اور کاپر سکریپ کی برآمد پر 25 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی منظوری دی گئی جبکہ قومی فرٹیلائزر حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کےلئے وزارتی کمیٹی قائم کر دی گئی۔
Post New Comment