اسلام آباد (آن لائن + ثناءنیوز) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس جاوید اقبال نے وسائل کے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان یقینی طور پر غریب ملک نہیں ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں اور پالیسی سازوں نے اسے غریب بنادیا ہے۔ وسائل کے غیر منصفانہ استعمال کی روش نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا‘ ہمیشہ سے یہاں ناقص مینجمنٹ رہی ہے‘ اب پوری قوم پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وسائل کا منصفانہ استعمال کیا جائے۔ وہ گزشتہ روز فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ملک بھر سمیت آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی دو روزہ ورکشاپ ”فنانشل مینجمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریشن“ کے اختتامی سیشن میں شرکاءمیں اسناد تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ جسٹس جاوےد اقبال نے کہا کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم وسائل کے استعمال مےں ذمہ داری سے کام لےں بصورت دےگر ہم کہےں کے نہےں رہےں گے،جسٹس جاوےد اقبال نے تربےتی ورکشاپ کے شرکاءججز سے کہا کہ عدالتی امورسے متعلق دستےاب وسائل کے ذرےعے جو بھی خرےداری کرےں اس کو اس طرح کرےں جےسے آپ اپنے گھر کے بجٹ کے طور پر کرتے ہےں،خرےداری کے دوران چےک بک،کےش بک اور دےگر دستاوےزات کو ےقےنی بنائےں۔ انہوں نے کہا کہ ےاد رکھےں کہ اےک دن سب نے خدا کی سپرےم کورٹ مےں پےش ہونا ہے جہاں ہمارے تمام اعمال کا حساب ہونا ہے،جہاں اس کے دائےں ہاتھ مےں اس کا اعمال نامہ ہوگا اور اللہ اس پر فےصلہ کرے گا۔ جسٹس جاوےد اقبال نے اپنی زندگی کی مثال دےتے ہوئے کہا کہ وہ ہمےشہ قرآن پاک جو اللہ کی کتاب ہے سے رہنمائی لےتے ہےں،انہوں نے تمام ججوں سے کہا کہ مےں آپ کو نصےحت کروں گا کہ آپ بھی قرآن پاک سے رہنمائی لےں اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالےں تاکہ آپ اپنی ذمہ داری پوری کر سکےں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی پر کامل ایمان آپ کو دنیا اور آخرت میں بلندیوں پر لے جائے گا اگر آپ کو اپنے تخلیق کار پر کامل یقین ہو تو کوئی طاقت آپ کو ہلا نہیں سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ کی کتاب سے رہنمائی لینے سے انسان کو ہمیشہ انعام ملتا ہے‘ بدقسمتی سے اب تک عدالتی نظام مہنگا اور عام شہریوں کی رسائی سے دور تھا لیکن اب انصاف تک رسائی آسان ہو چکی ہے۔ انہوں نے ججوں کو تجویز دی کہ مہربانی کر کے ان لوگوں کو ضرور سننا چاہیے جو خود عدالت میں پیش ہوتے ہیں اور مہنگا انصاف برداشت نہیں کر سکتے۔ ان لوگوں کو اس طرح سنا جائے جس طرح آپ لوگ اپنے خدا سے دعا کی قبولیت کی خواہش رکھتے ہیں۔ جسٹس جاوید اقبال نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کو یقین دہانی کرائی کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی میں میرٹ کو ترجیح دی جائے گی‘ ملک بھر کے عدالتی افسروں کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے ہرممکن کوششیں جاری ہیں۔ ورکشاپ کے اختتام پر جسٹس جاوید اقبال نے 20 سے زائد ججوں کو اسناد بھی دیں۔
Post New Comment